اتوار، 25 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تعلیم، شعور یا صرف ڈگری؟ تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

عالم کہتے ہی اس کو ہیں جسے حق کی معرفت ہو، خواہ وہ انگوٹھا ٹیک ہی کیوں نہ ہو۔ اور جسے حق کی معرفت نہیں وہ جاہل ہے، خواہ علما کا استاد ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ علم کا اصل مقصد صرف معلومات جمع کرنا نہیں بلکہ معرفت حاصل کرنا ہے۔ معرفت انسان کو اپنے آپ سے، اپنے اردگرد کی دنیا سے اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے متعارف کراتی ہے۔ اور معرفت شعور سے حاصل ہوتی ہے۔ شعور تعلیم سے آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم جس تعلیم کو تعلیم کہتے ہیں وہ واقعی تعلیم ہے یا صرف ڈگری حاصل کرنے کا ایک ذریعہ؟


آج ہمارے معاشرے میں تعلیم کا مطلب زیادہ تر ڈگری رہ گیا ہے۔ بچہ اسکول جاتا ہے تو مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اچھے نمبروں سے پاس ہو۔ کالج جاتا ہے تو مقصد یہ ہوتا ہے کہ اچھی یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے۔ یونیورسٹی جاتا ہے تو مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک اچھی ڈگری ہاتھ میں آ جائے اور پھر کسی اچھی نوکری کا حصول ممکن ہو۔ اس پورے سفر میں کہیں یہ سوال پیچھے رہ جاتا ہے کہ اس تعلیم نے انسان کے اندر پیدا کیا کیا؟ اس کے شعور میں کتنا اضافہ کیا؟ اسے زندگی، انسان اور اپنے وجود کو سمجھنے میں کتنی مدد دی؟


اگر کوئی آپ کو اس تعلیم کی ڈگری دے دے جو انسان کو شعور اور معرفت کی طرف لے جاتی ہے تو وہ یقیناً اعزازی بات ہے۔ لیکن جو ڈگریاں کالج اور یونیورسٹی سے مل رہی ہیں وہ بنیادی طور پر نوکری کے حصول کے لیے کارگر ثابت ہوتی ہیں۔ ان کی اپنی اہمیت ہے اور ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ڈاکٹر بننے کے لیے میڈیکل کی تعلیم چاہیے، انجینئر بننے کے لیے انجینئرنگ کی ڈگری چاہیے، وکیل بننے کے لیے قانون پڑھنا پڑتا ہے اور استاد بننے کے لیے بھی ایک مخصوص تعلیمی اہلیت ضروری ہے۔ لیکن ان ڈگریوں کا علم اور شعور کے ساتھ کوئی خاص تعلق اس وقت تک نہیں جب تک یہ تعلیم انسان کے اندر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا نہ کرے۔


ہم نے بڑی بڑی ڈگریوں والے لوگوں کو کرپشن کرتے دیکھا ہے۔ بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو دوسروں کا حق کھاتے دیکھا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو جھوٹ بولتے، دھوکا دیتے اور اپنے اختیار کا غلط استعمال کرتے دیکھا ہے۔ اگر ڈگری ہی علم اور شعور کی ضمانت ہوتی تو پھر ایسا کیوں ہوتا؟ اس لیے کہ ڈگری تھی، شعور نہیں تھا۔ تعلیم تھی، مگر اس تعلیم سے معرفت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ معلومات تھیں مگر ان معلومات نے انسان کے اندر انسانیت پیدا نہیں کی تھی۔


یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ معلومات اور علم ایک چیز نہیں۔ معلومات انسان کو یہ بتا سکتی ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ علم اسے یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی حقیقت کیا ہے۔ لیکن شعور اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس حقیقت کے ساتھ میرا تعلق کیا ہے اور مجھے اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔


اسی لیے صرف ڈگری لے لینا کافی نہیں۔ اور جس تعلیم کی بات پہلے کی جو شعور کی طرف لے کر جاتی ہے وہ بھی اکیلی تعلیم اور ڈگری بے کار ہے کیونکہ جب تک شعور نہیں ہوگا یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ علم کیا ہے۔ ایک شخص بہت کچھ پڑھ سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ بہت کچھ سمجھتا بھی ہو۔ وہ سینکڑوں کتابوں کا حوالہ دے سکتا ہے لیکن ممکن ہے کہ اپنی ذات کے بارے میں اس کے پاس کوئی جواب نہ ہو۔ وہ دوسروں کو علم کی باتیں بتا سکتا ہے لیکن خود اپنے عمل میں اس علم کا ایک حصہ بھی نظر نہ آئے۔


اصل تعلیم شاید وہ ہے جو انسان کے اندر سوال پیدا کرے۔ اسے یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ میں کون ہوں؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میرے اختیار کی حد کہاں تک ہے؟ میرے ایک عمل سے دوسرے انسان پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اگر میری تعلیم نے مجھے صرف یہ سکھایا کہ زیادہ پیسہ کیسے کمانا ہے لیکن یہ نہیں سکھایا کہ پیسہ کمانے کے لیے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز تو پھر میری تعلیم ابھی مکمل نہیں ہوئی۔


اسی طرح اگر تعلیم نے مجھے ایک بڑے عہدے تک پہنچا دیا لیکن اس عہدے پر بیٹھ کر میں اپنے سے کمزور انسان کی عزت نہیں کر سکتا تو میری ڈگری میرے کردار کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔ اگر میں نے بہت کچھ پڑھ لیا لیکن میرے اندر عاجزی نہیں آئی تو میرے علم نے ابھی میرے اندر جگہ نہیں بنائی۔


خدا کا عرفان و معرفت شریف انسان کی شرافت میں اضافہ کرتا ہے اور کمینے آدمی کی کمینگی میں اضافہ کرتا ہے۔ کیونکہ علم اور معرفت بھی اسی انسان کے ہاتھ میں جاتی ہے جو پہلے سے ایک ظرف رکھتا ہے۔ ایک شریف انسان کو خدا کی معرفت ملتی ہے تو وہ مزید عاجز ہوتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ جانتا ہے وہ بہت کم ہے اور جو کچھ وہ نہیں جانتا وہ بہت زیادہ ہے۔ اس کے برعکس ایک کم ظرف انسان کو اگر علم مل جائے تو وہ اپنے علم کو دوسروں پر برتری کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔


اسی لیے تعلیم کا مقصد صرف انسان کو معاشرے میں قابل بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے انسان بھی بنانا چاہیے۔ ہمیں بچوں سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ تم بڑے ہو کر کیا بنو گے کے ساتھ یہ بھی پوچھیں کہ تم بڑے ہو کر کیسے انسان بنو گے۔ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد، افسر اور تاجر بننا اپنی جگہ ضروری ہے لیکن ان سب سے پہلے ایک اچھا انسان بننا ضروری ہے۔


ڈگری انسان کے نام کے ساتھ لگ سکتی ہے مگر شعور انسان کے کردار میں نظر آتا ہے۔ ڈگری دیوار پر فریم ہو سکتی ہے مگر معرفت انسان کے رویے میں دکھائی دیتی ہے۔ ڈگری نوکری دلا سکتی ہے مگر شعور انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ اس نوکری کے اختیار کو استعمال کیسے کرنا ہے۔


شاید اسی لیے مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنی ڈگریاں ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری ڈگریوں نے ہمیں کتنا شعور دیا؟ ہم نے کتنا علم حاصل کیا اور اس علم سے کتنی معرفت پیدا ہوئی؟ کیونکہ آخر میں انسان کی پہچان اس کی ڈگری سے نہیں ہوتی۔ اس کی پہچان اس شعور سے ہوتی ہے جو اس کے علم سے پیدا ہوا اور اس معرفت سے ہوتی ہے جو اسے اپنے رب، اپنی ذات اور دوسرے انسانوں کے بارے میں حاصل ہوئی۔