ماں کی گود سے لے کر لحد تک علم حاصل کرو۔ یہ حدیثِ مبارکہ ہمیں بہت بڑا سبق دیتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ علم کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ انسان ساری زندگی طالبِ علم رہتا ہے۔ وہ ہر دن کچھ نیا سیکھتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کیسا علم حاصل کر رہے ہیں؟ کیا وہ علم جو صرف کاغذ تک محدود ہے یا وہ علم جو کردار بناتا ہے؟
یہاں ایک نکتہ واضح کرنا بہت ضروری ہے۔ میری یہ تحریر تعلیم کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ ایسا سوچنا بھی غلط ہوگا۔ تعلیم بہت ضروری ہے۔ تعلیم تو روشنی ہے۔ تعلیم تو زندگی ہے۔ چاہے وہ دنیاوی تعلیم ہو یا دینی تعلیم، دونوں لازم ہیں۔ دونوں کی اپنی اہمیت ہے۔
دنیاوی تعلیم ہمیں دنیا میں رہنا سکھاتی ہے۔ دینی تعلیم ہمیں آخرت سنوارنا سکھاتی ہے۔ ایک جسم کے لیے ہے، دوسری روح کے لیے۔ دونوں کے بغیر انسان ادھورا ہے۔
تعلیم انسانی جسم میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ یہ معاشرے میں بھی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کے بغیر انسان کھڑا نہیں ہو سکتا، وہ سیدھا نہیں چل سکتا۔ اسی طرح تعلیم اور شعور کے بغیر انسان نامکمل ہوتا ہے اور معاشرہ بھی نامکمل ہوتا ہے۔ شعور کے بغیر قومیں ترقی نہیں کر سکتیں۔
اصل مقصد صرف فرق واضح کرنا ہے۔ ڈگری اور تعلیم میں فرق، تعلیم اور شعور میں فرق۔ ہم جس راستے پر چل رہے ہیں، کیا وہ راستہ درست ہے؟ کیا ہم درست سمت میں جا رہے ہیں یا ہمیں اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے؟ ہمیں رکنا ہوگا، سوچنا ہوگا۔
آج کے دور میں دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے۔ ہم نے اصل تعلیم کا شعور ختم کر دیا ہے۔ ہم نے تعلیم کا اصل معنی جانا ہی نہیں۔ ہم نے تعلیم کو صرف نوکری سمجھ لیا ہے۔ ہم نے اسے صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
ذرا سوچیے! ایک شخص کے پاس بہت بڑی ڈگری ہے، اس کے پاس سند ہے، مگر وہ قرآنِ پاک درست نہیں پڑھ سکتا۔ اسے چھ کلمے یاد نہیں ہیں۔ اسے وضو کے فرائض معلوم نہیں ہیں۔ اسے غسل کے فرائض نہیں آتے۔ کیا وہ تعلیم یافتہ کہلائے گا؟ دل کہتا ہے نہیں، کیونکہ جو تعلیم رب سے نہ جوڑے، وہ ادھوری ہے، وہ نامکمل ہے۔
ہمارے معاشرے کا حال اس سے مختلف نہیں ہے۔ یہاں سب کچھ ڈگری پر منحصر ہے۔ جیسے ہی ڈگری ہاتھ میں آتی ہے، انسان خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے میں سب کچھ بن گیا ہوں۔ وہ اس کاغذ کے پلندے کو کامیابی سمجھتا ہے۔ وہ اسے فخر سے دیوار پر لگاتا ہے۔ حالانکہ یہ کاغذ پرانا ہو جاتا ہے، اس کی سیاہی پھیکی پڑ جاتی ہے، وقت کے ساتھ یہ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن جو چیز باقی رہتی ہے، وہ کردار ہے، وہ اخلاق ہے۔
مشکل وقت میں ڈگری کام نہیں آتی، مشکل میں شعور کام آتا ہے۔ ڈگری نوکری دلا سکتی ہے، مگر عزت شعور دلاتا ہے۔ ڈگری سے آپ کو کرسی مل سکتی ہے، مگر دل میں جگہ شعور سے ملتی ہے۔
تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرے میں بہتری کیسے لائی جائے، دنیا کیسے چلتی ہے، لیکن شعور اس سے بڑا ہے۔ شعور بتاتا ہے کہ جو سیکھا ہے، اس پر عمل کب کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، کون سی بات کس وقت کرنی ہے، کہاں بولنا ہے، کہاں خاموش رہنا ہے۔ یہ سب ڈگری نہیں سکھاتی، یہ شعور سکھاتا ہے۔
تعلیم لفظ دیتی ہے، شعور لہجہ دیتا ہے۔ تعلیم راستہ دکھاتی ہے، شعور چلنے کا سلیقہ دیتا ہے۔ تعلیم کتاب دیتی ہے، شعور اس کتاب کو سمجھنا سکھاتا ہے۔
اس فرق کو سمجھنے کے لیے دو کرداروں کو دیکھتے ہیں۔
ایک کردار وہ ہے جس نے علم کی سیڑھیاں چڑھیں۔ اس نے ڈبل ایم اے کیا، اس نے پی ایچ ڈی کی۔ اس کے کندھے پر ڈگریوں کا بوجھ ہے، مگر اس کے لہجے میں غرور ہے، تکبر ہے۔ وہ اپنی جنت، اپنی ماں کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے، آپ کیا جانیں، آپ نے کب پڑھا ہے، آپ کا زمانہ پرانا تھا، میرا زمانہ نیا ہے۔ اس نے یونیورسٹی کی بڑی کتابیں پڑھ لیں، مگر وہ اپنی ماں کے چہرے پر لکھی محبت کی پہلی کتاب نہ پڑھ سکا۔ اس نے سائنس پڑھ لی، مگر ادب نہ پڑھ سکا۔ اس کے پاس تعلیم ہے، مگر شعور کی روشنی بجھی ہوئی ہے۔
اب دوسرا رخ دیکھیے۔ دوسرا شخص بھی اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر کے آیا ہے۔ اس کے پاس بھی وہی سند ہے، وہی ڈگری ہے، مگر اس کے لہجے میں ٹھہراؤ ہے، اس کی بات میں مٹھاس ہے، نرمی ہے۔ وہ اپنی والدہ سے کہتا ہے، اماں جان! میں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں، آپ میری ناقص عقل کو سمجھنے کی کوشش کریں، میری رہنمائی فرمائیں، مجھے دعا دیں۔ دیکھیں! الفاظ وہی ہیں، ڈگری وہی ہے، مگر انداز میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک نے صرف ڈگری لی، دوسرے نے ڈگری کے ساتھ ادب اور شعور بھی لے لیا۔ یہی اصل فرق ہے۔
یہی وہ فرق ہے جو ہمیں سمجھنا ہے۔ جس دن ہر انسان نے یہ فرق سمجھ لیا، اس دن زندگی آسان ہو جائے گی۔ ڈگری کا ہونا کمال نہیں ہے، ڈگری کے ساتھ ادب کا ہونا کمال ہے۔ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو عاجز بنائے، جو انسان کو بااخلاق بنائے۔
اس لیے والدین اور اساتذہ سے گزارش ہے کہ بچوں کو صرف نمبروں کی دوڑ میں نہ ڈالیں، ان کو صرف ڈگری کی دوڑ میں نہ لگائیں۔ ان کو پہلے انسان بنائیں۔ ان کو ادب سکھائیں، ان کو شعور دیں، ان کو سچ بولنا سکھائیں، ان کو بڑوں کا احترام سکھائیں۔ کیونکہ نمبر بھول جاتے ہیں، ڈگری پرانی ہو جاتی ہے، مگر کردار ہمیشہ یاد رہتا ہے۔
آخر میں بس یہی کہوں گی، ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو ڈگری سے پہلے انسان بنائے۔ کیونکہ کاغذ کی ڈگری دیوار پر لگتی ہےجبکہ شعور کی ڈگری کردار میں نظر آتی ہے۔
مزید پڑھیں






