تعلیم، شعور یا صرف ڈگری،تحریر: مہوش بنت بشارت
نقطہ نظر
کسی دانا کا بہت خوبصورت قول ہے کہ "تعلیم کا اصل مقصد انسان کے اندر چھپے ہوئے حیوان کو مار کر ایک باشعور انسان کو بیدار کرنا ہے، اگر ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی ہمارے رویوں میں نرمی اور سوچ میں انسانیت پیدا نہ ہو تو وہ علم محض ایک بوجھ ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں"۔ آج اگر ہم اپنے اردگرد کے معاشرے پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو ہمیں گلی گلی تعلیمی اداروں، اسکولوں، کالجوں اور بڑی بڑی یونیورسٹیوں کی بھرمار نظر آتی ہے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہاتھوں میں قیمتی اسناد اور ڈگریاں تھامے، سنہری مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے میدانِ عمل میں اترتے ہیں۔ ڈگری ہولڈرز کی یہ لمبی لمبی لائنیں دیکھ کر بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے روشنی، تہذیب اور ترقی کی طرف گامزن ہے، لیکن اگر گہرائی میں جا کر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو وہ انتہائی بھیانک اور تلخ ہے۔ سوچنے کا اصل مقام یہ ہے کہ اگر ہمارے ملک میں شرحِ خواندگی بڑھ رہی ہے، ہر گھر میں پڑھے لکھے لوگ موجود ہیں، تو پھر ہمارے معاشرے میں جرائم، عدم برداشت، بدتمیزی، نفرت اور اخلاقی پستی کم ہونے کے بجائے روز بروز کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟ سڑکوں پر معمولی باتوں پر ایک دوسرے کا خون بہانے پر اتارے لوگ، رشتوں کا پامال ہوتا ہوا احترام، سوشل میڈیا پر گالی گلوچ کا کلچر اور ہر دوسرے فرد میں موجود عہدے کا تکبر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہم نے معاشرے میں کاغذ کی ڈگریاں تو بانٹ دیں، لیکن حقیقی شعور بانٹنا بھول گئے۔ یہیں سے تعلیم اور صرف ایک ڈگری کا وہ بنیادی فرق واضح ہوتا ہے جسے سمجھنا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ڈگری محض ایک مادی دستاویز، ایک سند یا کاغذ کا ٹکڑا ہے جو آپ کو معاشرے میں ایک اچھا روزگار، کوئی بڑا عہدہ، گاڑی یا اچھا بینک بیلنس حاصل کرنے میں تو مدد دے سکتی ہے، مگر وہ کسی بھی صورت آپ کے دل کو زندہ اور روح کو بیدار نہیں کر سکتی۔ ڈگری کسی بھی اچھے تعلیمی ادارے سے بھاری فیسیں دے کر، راتوں کو جاگ کر رٹا لگا کر، یا صرف امتحان پاس کرنے کی کڑی محنت کر کے حاصل کی جا سکتی ہے، مگر شعور کسی بازار، دکان، یا دنیا کی مہنگی ترین یونیورسٹی میں بھی نہیں بکتا۔ شعور تو انسان کے اندر کی اس مخفی تربیت، خاندانی اقدار، تہذیب اور اندرونی فکر کا نام ہے جو اسے اچھے اور برے، سچ اور جھوٹ، نفع اور نقصان، اور جائز و ناجائز کی تمیز سکھاتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام صرف اور صرف نمبروں کی اندھی دوڑ، پوزیشنز کے مقابلے اور رٹا کلچر کی نذر ہو چکا ہے۔ ہمارے اسکول اور کالج ایسے 'طوطے' تو کامیابی سے پیدا کر رہے ہیں جو پوری کی پوری کتاب زبانی حفظ کر کے امتحانات میں ٹاپ کر لیتے ہیں اور سو فیصد نمبر لے آتے ہیں، لیکن ہمارا یہ پورا نظام ایسے 'انسان' پیدا کرنے میں بری طرح ناکام ہو رہا ہے جو معاشرتی مسائل کا درد اپنے دل میں محسوس کر سکیں، جو قانون کی پاسداری کریں اور جو انسانیت کا احترام کریں۔ ہم نے علم جیسی پاکیزہ چیز کو صرف ایک اعلیٰ نوکری اور مادی فائدے حاصل کرنے کا ذریعہ بنا کر اس کی اصل روح کو مسخ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ڈگریاں بہت سستی ہو گئی ہیں لیکن انسانیت اور اخلاق اتنے ہی مہنگے اور نایاب ہو چکے ہیں۔
اگر ہم گہرائی میں جا کر اس بات کا جائزہ لیں کہ شعور اصل میں کہتے کسے ہیں؟ تو معلوم ہوتا ہے کہ شعور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے، اپنے فرائض کو پہچاننے، اپنی سماجی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور اخلاقِ حسنہ کا مظاہرہ کرنے کا نام ہے۔ شعور انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ آپ کی ذات سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ آج ہم اپنے روزمرہ کے مشاہدات میں دیکھتے ہیں کہ ایک شخص پی ایچ ڈی ڈاکٹر، جج، بڑا بزنس مین یا بڑا سرکاری افسر تو بن جاتا ہے، لیکن وہ سرِعام سڑک پر مہنگی ترین گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے کچرا باہر پھینکتے ہوئے، یا ٹریفک کا سگنل توڑتے ہوئے ذرا برابر بھی شرم یا پشیمانی محسوس نہیں کرتا۔ وہ غریبوں کو حقیر سمجھتا ہے، کمزوروں کا حق مارتا ہے اور قانون و اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتا ہے کیونکہ اس کے پاس ڈگری تو ہے مگر وہ شعور سے بالکل پیدل ہے۔ اس کے برعکس، معاشرے کا وہ ان پڑھ دیہاتی کسان یا سڑک پر جھاڑو دینے والا غریب مزدور جو کسی کتاب کو پڑھنا نہیں جانتا، لیکن وہ راستے سے گزرتے ہوئے ایک پتھر، شیشہ یا کانٹا صرف اس لیے ہٹا دیتا ہے تاکہ کسی دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے، وہ اس عالی شان محل میں رہنے والے ڈگری ہولڈر افسر سے کہیں زیادہ باشعور، مہذب اور حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ ہے۔ ڈگری صرف دماغ کی ورزش کرواتی ہے، جبکہ شعور انسان کے دل اور ضمیر کو زندہ کرتا ہے۔
بحیثیتِ مسلمان اگر ہم اس اہم معاملے کو اسلامی اور دینی تناظر میں دیکھیں، تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے۔ قرآنِ پاک کی سب سے پہلی وحی کا سب سے پہلا لفظ "اقرأ" یعنی پڑھ تھا۔ اس الہیٰ حکم کا مقصد صرف الفاظ کو رٹنا، لکھی ہوئی تحریر کو پڑھ کر امتحانات پاس کرنا یا دنیوی رتبے کا حصول نہیں تھا، بلکہ اس کا اصل مقصد کائنات کے اسرار و رموز پر غور و فکر کرنا، اپنے نفس کی اصلاح کرنا، اپنے اخلاق کو سنوارنا اور خالقِ حقیقی کو پہچان کر اعلیٰ انسانی شعور کی منزلوں کو پانا تھا۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کے اندر عاجزی، انکساری، خوفِ خدا اور مخلوقِ خدا کے لیے بے غرض محبت پیدا کرے، نہ کہ وہ علم جو انسان کے دل میں ڈگری کا تکبر، عہدے کا غرور اور دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنے کی باطنی بیماری پیدا کر دے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم نے عرب کے جس معاشرے کی تربیت فرمائی، ان کے پاس دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیاں نہیں تھیں، لیکن ان کے پاس وہ محمدی شعور تھا جس نے انہیں دنیا کی سب سے مہذب اور باشعور قوم بنا دیا۔
اس سنگین اور جڑ پکڑتے ہوئے معاشرتی المیے کا حل صرف مایوسی کا اظہار کرنے میں نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے ہمیں فوری اور تعمیری اقدامات کرنے ہوں گے۔ اب والدین اور اساتذہ اپنے بچوں کو صرف گریڈز، پوزیشنز اور ڈگریوں کے پیچھے اندھا دھند بھگانا بند کریں، بلکہ ان کی اخلاقی اور ذہنی تربیت پر سب سے زیادہ توجہ دیں۔ ہمیں اپنے پورے نظامِ تعلیم اور اسکولوں کے نصاب میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی، جہاں حکومت کو تعلیمی نصاب میں باقاعدہ طور پر اخلاقیات، سماجی ذمہ داریوں، شہری قوانین کے احترام اور سیرتِ طیبہ کے عملی و اخلاقی پہلوؤں کو لازمی طور پر شامل کرنا چاہیے۔ تعلیمی اداروں کا معیار اس بات سے نہیں ناپا جانا چاہیے کہ انہوں نے کتنے گریجویٹس پیدا کیے، بلکہ اس بات سے ناپا جانا چاہیے کہ انہوں نے معاشرے کو کتنے اچھے اور بااخلاق شہری دیے۔ جب تک ہم تعلیم کو شعور اور تربیت سے نہیں جوڑیں گے، تب تک ہم صرف پڑھے لکھے ہجوم پیدا کرتے رہیں گے، ایک تہذیب یافتہ معاشرہ نہیں۔ ہماری نئی نسل کو جب تعلیمی اداروں سے فارغ ہو کر نکلنا چاہیے، تو وہ صرف ڈگری یافتہ ڈاکٹر یا انجینئر نہ ہو، بلکہ ایک باشعور، مخلص، دردِ دل رکھنے والا اور بہترین انسان ہو، تاکہ وہ اس معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حقیقی کردار ادا کر سکے۔
مزید پڑھیں





