Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کردار کی عظمت، ڈاکٹر رانا نوید عظمت،تحریر: شازیہ حنیف

نقطہ نظر

بلندیوں پہ پہنچ کر بھی جو جھک کے ملتا ہے

وہ شخص عہدے سے نہیں اپنے ظرف سے بڑا ہے


عہدہ بڑا ہو تو لوگ بدل جاتے ہیں مگر کردار بڑا ہو تو لوگ دلوں میں اتر جاتے ہیں ـ

بعض والدین واقعی اس اعتبار سے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ ان کے بطن سے ایسی اولاد جنم لیتی ہے جو صرف ان کے گھر کی زینت نہیں بنتی بلکہ اپنے کردار، علم، اخلاق، شرافت اور انسان دوستی سے پورے معاشرے کے لیے باعثِ افتخار بن جاتی ہے۔ ایسی شخصیات کسی ایک خاندان کا سرمایہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کے لیے ایک خوبصورت مثال بن جاتی ہیں۔آج میں ایک ایسی ہی شخصیت کے بارے میں لکھنے کی جسارت کر رہی ہوں جنہیں قریب سے دیکھنے، ملنے اور ان کے طرزِ عمل کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ احساس مزید پختہ ہوتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کا عہدہ، منصب، اختیار یا شہرت نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔یہ شخصیت ہیں ڈاکٹر رانا نوید عظمت، جو گزشتہ چند برسوں سے ساہیوال بورڈ میں بطور کنٹرولر امتحانات اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ منصب بلاشبہ ایک اہم اور ذمہ داریوں سے بھرپور منصب ہے، جہاں روزانہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل، والدین کی امیدوں اور ادارے کی ساکھ سے متعلق معاملات سامنے آتے ہیں۔ مگر ڈاکٹر رانا نوید عظمت کی شخصیت کا خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اتنی بڑی ذمہ داری کے باوجود ان کے مزاج میں غرور، تکبر یا فاصلے کا احساس دکھائی نہیں دیتا۔ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں تعلیم اور ادب محض الفاظ نہیں بلکہ زندگی کا حصہ رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں علم کی سنجیدگی، ادب کی شائستگی اور انسان دوستی کی مٹھاس ایک ساتھ نظر آتی ہے۔انسان کے کردار کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اسے اختیار حاصل ہو۔ عہدہ ملنے کے بعد ہر شخص کا رویہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ کچھ لوگ کرسی کو اپنے اور دوسروں کے درمیان دیوار بنا لیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ کرسی پر بیٹھ کر بھی اپنے اندر کے انسان کو زندہ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر رانا نوید عظمت کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو منصب کو اپنے لیے عزت کا ذریعہ ضرور سمجھتے ہیں مگر دوسروں کے لیے فاصلے کا سبب نہیں بننے دیتے۔ساہیوال بورڈ میں آنے والا کوئی طالب علم ہو، اس کا والدین میں سے کوئی فرد ہو، کوئی استاد ہو یا کوئی عام آدمی، ان کے دفتر کا دروازہ کھٹکھٹانے والے کو محض ایک سائل نہیں سمجھا جاتا۔ وہ ہر شخص سے خلوص اور احترام سے ملتے ہیں۔ خاص طور پر ان کی یہ عادت قابلِ ذکر ہے کہ وہ آنے والے لوگوں سے کھڑے ہو کر ملتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا عمل ہے، لیکن دراصل یہی معمولی اعمال انسان کے غیر معمولی کردار کی گواہی دیتے ہیں ـکسی غریب کے لباس، کسی امیر کے مرتبے، کسی طالب علم کی پریشانی یا کسی والدین کی بے بسی کو دیکھ کر رویہ تبدیل نہ کرنا ہی اصل عظمت ہے۔ ڈاکٹر رانا نوید عظمت کی شخصیت میں یہی برابری دکھائی دیتی ہے۔ ان کے نزدیک انسان پہلے انسان ہے، باقی شناختیں بعد میں آتی ہیں ـکہتے ہیں کہ دولت انسان کو آسودگی دے سکتی ہے، عہدہ اختیار دے سکتا ہے، علم انسان کو مقام دے سکتا ہے، لیکن اخلاق ہی وہ دولت ہے جو انسان کو دلوں میں جگہ دیتی ہے۔ڈاکٹر رانا نوید عظمت کی ایک اور نمایاں خوبی ان کی سادگی اور بے تکلفی ہے۔ اتنے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ان کے مزاج میں تصنع محسوس نہیں ہوتا۔ وہ ہر شخص کو برابر کا احترام دیتے ہیں۔ کسی سے ملتے ہوئے یہ احساس نہیں ہونے دیتے کہ سامنے والا کم حیثیت ہے یا اس کی بات کی کوئی اہمیت نہیں ـانسان کی بڑائی اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ وہ کتنے لوگوں کو اپنے سامنے جھکاتا ہے؛ انسان کی بڑائی اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ وہ کتنے لوگوں کو اپنے برابر کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔

ایمانداری ان کی شخصیت کا ایک ایسا وصف ہے جس کا ذکر کیے بغیر یہ تحریر ادھوری محسوس ہوگی۔ کسی کی طرف سے خلوص کے طور پر کوئی تحفہ یا چیز پیش کی جائے تو اسے قبول کرنا بھی ان کے لیے آسان نہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اپنی محبت اور خلوص سے کچھ لے بھی آئے تو وہ اسے اپنے تک محدود رکھنے کے بجائے دوسروں کے ساتھ بانٹنے اور کھانے کو ترجیح دیتے ہیں ـیہی تو اصل دولت ہے کہ انسان کے پاس چیز کم ہو مگر دل بڑا ہو۔ایسے لوگ معاشرے میں خاموشی سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ نہ اپنی نیکی کا اعلان کرتے ہیں، نہ اپنے اخلاق کی تشہیر۔ ان کا کردار خود ان کا تعارف بن جاتا ہے۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، رویے میں نرمی، فیصلوں میں ذمہ داری اور معاملات میں اصول پسندی نظر آتی ہے ـایک تعلیمی افسر کے لیے صرف امتحانات کا نظام چلانا ہی کافی نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے ہر روز ایسے مسائل آتے ہیں جن میں ایک طرف طالب علم کا مستقبل ہوتا ہے، دوسری طرف والدین کی پریشانی اور تیسری طرف ادارے کی ذمہ داری۔ ایسے ماحول میں تحمل، بصیرت، انصاف اور انسانی ہمدردی انتہائی ضروری صفات ہیں۔ڈاکٹر رانا نوید عظمت کی شخصیت میں یہی امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ علم بھی، انتظامی صلاحیت بھی؛ اصول پسندی بھی، انسان دوستی بھی؛ منصب کی ذمہ داری بھی اور انسان کے احترام کا احساس بھی۔شاید اسی لیے ان کے والدین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اولاد پر فخر کریں۔والدین اپنی اولاد کو صرف نام نہیں دیتے وہ اپنی دعاؤں، تربیت، قربانیوں اور امیدوں سے ان کی شخصیت تعمیر کرتے ہیں۔ جب وہی اولاد معاشرے میں اپنے کردار سے پہچانی جائے، لوگوں کے لیے آسانی کا سبب بنے، علم و ادب کی خدمت کرے اور اپنے منصب کو انسانوں کی خدمت کا وسیلہ بنائے تو یقیناً والدین کی محنت رنگ لاتی ہے ـاولاد کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنی بلند کرسی تک پہنچ گئی؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ کرسی تک پہنچنے کے بعد اس کے اندر کا انسان کتنا زندہ رہا۔ڈاکٹر رانا نوید عظمت کے بارے میں لکھتے ہوئے سب سے زیادہ خوبصورت بات شاید یہی ہے کہ ان کے عہدے کا ذکر کیے بغیر بھی ان کی شخصیت کا ذکر مکمل نہیں ہوتا اور ان کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے صرف عہدہ بیان کرنا بھی ناانصافی ہے۔

کیونکہ عہدہ تو وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے۔

آج کوئی کنٹرولر امتحانات ہے، کل کوئی اور ذمہ داری سنبھال سکتا ہے۔ مگر اخلاق، کردار، شرافت، خلوص اور انسان دوستی وہ اوصاف ہیں جو انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کے بعد بھی اس کا تعارف بنے رہتے ہیں ـ

ان پہ ایک شعر لکھنا چاہوں گی ـ

کردار کی خوشبو سے مہکتا ہے زمانہ

منصب تو فقط وقت کی پہچان ہوا ہے

آج کے دور میں جب لوگ معمولی اختیار ملتے ہی اپنے اور دوسروں کے درمیان فاصلہ پیدا کر لیتے ہیں، ایسے میں ڈاکٹر رانا نوید عظمت جیسے لوگ یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصل بڑائی دوسروں کو چھوٹا کرنے میں نہیں، بلکہ دوسروں کو عزت دینے میں ہے۔وہ والدین یقیناً خوش نصیب ہوتے ہیں جن کی اولاد ان کے لیے صرف سہارا نہیں بلکہ ان کی تربیت کا زندہ ثبوت بن جائے۔اور وہ معاشرہ بھی خوش نصیب ہوتا ہے جہاں بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ بڑے دلوں کے مالک ہوں۔ڈاکٹر رانا نوید عظمت کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے دل یہی کہتا ہے کہ ربِ کریم نے انہیں صرف علم اور عہدہ نہیں دیا بلکہ دل کی وسعت، مزاج کی سادگی، کردار کی مضبوطی اور انسانوں سے محبت جیسی نعمتوں سے بھی نوازا ہے۔ایسی شخصیات کے بارے میں جتنا لکھا جائے، الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ کیونکہ کچھ لوگ کتابوں میں نہیں سماتے، وہ لوگوں کی یادوں میں رہتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے عہدے سے پہچانے جاتے ہیں، اور کچھ لوگ اپنے کردار سے ـڈاکٹر رانا نوید عظمت انہی لوگوں میں سے ہیں جن کا اصل تعارف ان کا عہدہ نہیں بلکہ ان کا کردار ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، علم، خلوص اور خدمتِ خلق کے سفر میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور ان کے والدین و خاندان کے لیے ہمیشہ باعثِ فخر بنائے۔

آخر پر یہ شعر لکھنا چاہوں گی ـ

جو دل میں جگہ بنائے وہی شخص معتبر ہے

ورنہ بلند عہدے تو بہت لوگ سنبھالتے ہیں