Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ماحولیاتی خودکشی اور ہماری بے حسی ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ قدرت کا ایک واضح اور آخری انتباہ ہے کہ سال 2026 کا ہر گزرتا دن اپنے ساتھ تپش، گھٹن اور ایک ہولناک شدت لے کر آ رہا ہے۔ ہماری زمین، جو کبھی زندگی کی علامت تھی، اب ایک ایسے مقتل میں تبدیل ہو رہی ہے جہاں قاتل اور مقتول کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس مشترکہ گھر کی بربادی پر ہم سب نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ماحول کسی ایک فرد، کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی مخصوص مذہب کی جاگیر نہیں ہے، یہ ہم سب کا سانجھا اثاثہ ہے اور اسے بچانے کے لیے جب تک ہم سب ایک پیج پر اکٹھے نہیں ہوتے، تب تک تباہی کا یہ سیلاب امیر، غریب، پڑھے لکھے اور ان پڑھ کی تمیز کیے بغیر سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ جب ہوا زہریلی ہوتی ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتی کہ یہ کس غریب کی جھونپڑی ہے اور کس امیر کا ایئر کنڈیشنڈ محل، وہ بلا تفریق سب کے پھیپھڑوں میں اتر کر موت کا بیج بو دیتی ہے۔ لیکن ہماری بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ہم اس دہکتے ہوئے تنور میں بیٹھ کر بھی خوابِ غفلت کا شکار ہیں۔

انسان کی سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ وہ ہر مسئلے کو سیاست یا مذہب کی عینک سے دیکھنے کا عادی ہو چکا ہے، حالانکہ ماحولیاتی بحران ایک ایسا ننگا سچ ہے جس کا کسی نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب سورج آگ برساتا ہے یا اسموگ شہروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے، تو وہ کسی کا سیاسی بیانیہ یا مسلک نہیں پوچھتی۔ اس کے باوجود ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے بقا کے اس سب سے اہم ترین ایجنڈے کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ہماری اس اجتماعی غفلت کو اگر 'ماحولیاتی خودکشی' کا نام دیا جائے تو یہ بالکل بے جا نہ ہوگا، کیونکہ خودکشی میں انسان اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرتا ہے اور ہم بھی ہر روز اپنے ہاتھوں اپنے ماحول کو زہر آلود کر کے اپنی ہی نسلوں کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔

اس خودکشی کی سب سے خوفناک مثال زیرِ زمین پانی کا بے رحمانہ زیاں ہے۔ پانی وہ نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں، لیکن ہمارے ارد گرد کا منظر نامہ دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم اس نعمت سے تنگ آ چکے ہیں۔ صبح سویرے گلیوں کا نظارہ کریں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، کہیں گاڑی دھونے کے لیے پائپ کھلا چھوڑ دیا گیا ہے تو کہیں فرش چمکانے کے لیے ہزاروں گیلن پانی بہایا جا رہا ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ اس پانی کا بل ادا کر رہے ہیں یا یہ ان کے اپنے بور کا پانی ہے، اس لیے وہ اس کے مالک ہیں، حالانکہ زیرِ زمین پانی پوری انسانیت اور آنے والی نسلوں کی مشترکہ امانت ہے۔ جب کوئی ایک شخص بھی پانی ضائع کر رہا ہوتا ہے تو وہ دراصل پوری سوسائٹی کا قتل کر رہا ہوتا ہے۔ زمین کے نیچے پانی کی سطح جس تیزی سے گر رہی ہے، وہ وقت دور نہیں جب ہماری اگلی نسلیں بوند بوند کو ترسیں گی اور اس جرم کے ذمہ دار ہم ہوں گے جو آج تماشائی بنے سب دیکھ رہے ہیں اور چُپ ہیں۔ ہماری یہ خاموشی دراصل اس جرم میں برابر کی شراکت داری ہے۔

اسی طرح کچرا جلانے کی قبیح عادت ہماری بے حسی کا ایک اور منہ بولتا ثبوت ہے۔ شام ہوتے ہی شہروں اور محلوں کے کونوں میں کچرے کے ڈھیروں کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ اس آگ سے نکلنے والا نیلا اور کالا دھواں، جس میں پلاسٹک اور مہلک کیمیکلز شامل ہوتے ہیں، فضا میں ایک ایسی زہریلی چادر تان دیتا ہے جو سیدھی معصوم بچوں اور بزرگوں کے سینوں میں اتر جاتی ہے۔ کچرا جلانے والا یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے گھر کے سامنے سے گند صاف کر دیا، لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہی زہر گھوم پھر کر ہوا کے ذریعے اس کے اپنے بچوں کے خون میں بھی شامل ہو رہا ہے۔ سانس کی بیماریاں، الرجی، پھیپھڑوں کا کینسر اور دل کے امراض اب ہر دوسرے گھر کی کہانی بن چکے ہیں، لیکن ہم اب بھی خاموش ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسی صورتحال میں آپ کی خاموشی کوئی مصلحت نہیں بلکہ آپ کی اپنی موت کا پروانہ ہے۔ اگر ہم آج اپنے پڑوسی کو کچرا جلانے سے نہیں ٹوکیں گے تو کل اس کے ہسپتال کا بل اور اپنے بچے کا جنازہ اٹھانے کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔

درختوں کی بے رحمانہ کٹائی اور جنگلات کو لگائی جانے والی آگ اس ماحولیاتی خودکشی کا تیسرا بڑا ستون ہے۔ درخت اس زمین کے پھیپھڑے ہیں جو فضا سے زہر چوستے ہیں اور ہمیں زندگی بخش آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ کنکریٹ کے جنگلات بنانے کی ہوس میں ہم نے ہرے بھرے درختوں کا قتلِ عام کر دیا ہے اور جہاں جنگلات بچے ہیں، وہاں ہوس پرست عناصر یا تو لکڑی چوری کرنے کے لیے درخت کاٹ دیتے ہیں یا پھر اپنے مذموم مقاصد کے لیے پورے جنگل کو آگ لگا دیتے ہیں۔ جب زمین کے پھیپھڑے ہی نوچ لیے جائیں تو پورا ایکو سسٹم اکھڑ جاتا ہے، جس کا نتیجہ بے وقت کی بارشوں، شدید ترین ہیٹ ویوز اور سیلابوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ آج اس تپش سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، چاہے کوئی کتنا ہی بڑا سرمایہ دار کیوں نہ ہو، قدرت کا یہ انتقام سب کو برابر کا مزہ چکھائے گا۔

اس سارے منظر نامے میں جو چیز سب سے زیادہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے، وہ ہمارا ڈیجیٹل رویہ اور سوشل میڈیا کی ترجیحات ہیں۔ کاش ہمارے لوگوں کو یہ سمجھ آ جائے کہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ ہونا کیا چاہیے اور اصل میں ٹرینڈ ہو کیا رہا ہے۔ یہ ایک فکری المیہ ہے کہ آج فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر سستی شہرت، باہمی لڑائی جھگڑوں، سیاسی دشنام طرازی، ناچ گانے اور بے مقصد تفریح کو تو لاکھوں ویوز مل جاتے ہیں اور وہ سیکنڈوں میں ٹرینڈ بن جاتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص پانی بچانے، درخت لگانے یا ماحولیاتی آلودگی پر بات کرے تو اسے نہ تو کوئی لائک ملتا ہے اور نہ ہی شیئر۔ ہمارا الگورتھم اور ہماری ذہنی سطح دونوں گندگی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ جب تک ہم نے ان گندے اور بے مقصد ٹرینڈز کو شکست نہیں دی، تب تک ہم زوال کی گہرائیوں میں گرتے چلے جائیں گے۔ یہ تو ابھی صرف شروعات ہے، اگر ہماری ترجیحات یہی رہیں تو اس کی انتہا کیا ہوگی، اس کا اندازہ لگانا بھی روح کو کانپ دینے کے لیے کافی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس منافقت اور بے حسی کی چادر کو تار تار کر دیں۔ ہمیں حکومتوں یا بیرونی امداد کا انتظار کیے بغیر انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایک "ماحولیاتی جہاد" کا آغاز کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا کو اس گند سے پاک کر کے اسے شعور کا ہتھیار بنانا ہوگا۔ ہمیں خود ایسے ٹرینڈز سیٹ کرنے ہوں گے جہاں پانی ضائع کرنے والے کو شرمندہ کیا جائے، کچرا جلانے والے کو روکا جائے اور درخت لگانے والے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ جب تک ہم محلے کی سطح پر، بغیر کسی سیاسی یا مذہبی تفریق کے، ایک مشترکہ ایجنڈے پر متحد نہیں ہوں گے، تب تک ہم اس ماحولیاتی عذاب سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ ماحول کی حفاظت صرف کتابی باتیں نہیں بلکہ ہماری بقا کا معاملہ ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی خاموشی نہ توڑی، تو تاریخ ہمیں ایک ایسی جاہل اور خود غرض نسل کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنے ہاتھوں اپنی دھرتی ماں کو زہر دے کر خودکشی کر لی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں، کیونکہ اگلی صبح شاید ہمارے پاس پچھتاوے کا وقت بھی نہ ہو۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL