جب معاشرے میں سچ بولنے والوں کی آواز دھیمی پڑنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ قلم کی ذمہ داری پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔
ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں بہت کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے، مگر ہر بات کہہ دینا آسان نہیں۔ کچھ سوال زبان تک آ کر رک جاتے ہیں، کچھ سچ دل میں دفن ہو جاتے ہیں اور کچھ آوازیں اس لیے خاموش ہو جاتی ہیں کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قیمت شاید ان کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہے۔
مگر قلم کے ساتھ معاملہ کچھ اور ہے۔
قلم خوف سے کم ہی سمجھوتا کرتا ہے۔ اسے خاموش کرنے کے لیے صرف ہاتھ نہیں روکنا پڑتا، ایک پورے عہد کی سچائی کو روکنا پڑتا ہے۔
ایک ادیب جب قلم اٹھاتا ہے تو وہ صرف ایک مضمون، ایک افسانہ یا ایک کالم نہیں لکھ رہا ہوتا؛ وہ اپنے عہد کی گواہی لکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ ان لوگوں کے دکھ کو لفظ دے رہا ہوتا ہے جو شاید اپنی بات کہنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ وہ ان سوالوں کو زبان دے رہا ہوتا ہے جو معاشرے کے شور میں کہیں دب جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ میرے نزدیک قلم محض ذریعۂ اظہار نہیں، امانت ہے۔
اور امانت میں خیانت نہیں کی جا سکتی۔
تخلیق کار کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ میری تحریر سے کتنے لوگ خوش ہوں گے؛ سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا میں نے جو دیکھا، اسے دیانت داری سے لکھا؟
اگر کسی عورت کے حصے میں آنے والی محرومی نظر آئی تو اسے لکھنا ہوگا۔ اگر کسی انسان کی بے بسی دکھائی دی تو اسے محسوس کرنا ہوگا۔ اگر معاشرے میں کوئی ایسا زخم موجود ہے جس پر سب خاموش ہیں تو ادیب کو اس زخم کا نام لینا ہوگا۔ کیونکہ ادب صرف خوبصورت الفاظ کا مجموعہ نہیں؛ ادب اپنے عہد کی دھڑکن سننے کا نام بھی ہے۔
لیکن سچ لکھنے کے لیے صرف جرأت کافی نہیں، انصاف بھی ضروری ہے۔
ایک قلم کو جذبات کے بہاؤ میں کسی ایک فریق کا ترجمان بننے کے بجائے حقیقت کا امین ہونا چاہیے۔ تخلیق کار اگر کرداروں کو صرف اچھا یا برا بنا کر پیش کرے تو شاید وہ واقعہ لکھ دے، مگر انسانی حقیقت نہیں لکھ پاتا۔ اصل ادب وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قلم انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کو بھی پڑھتا ہے۔
ہم لکھنے والے شاید دنیا کو فوراً تبدیل نہ کر سکیں مگر ہم اس دنیا کے بارے میں سوچنے کا انداز ضرور بدل سکتے ہیں۔
ایک افسانہ کسی کے اندر چھپی ہوئی تکلیف کو آواز دے سکتا ہے۔ ایک کالم کسی خاموش مسئلے کو گفتگو کا حصہ بنا سکتا ہے۔ ایک جملہ کسی ایسے شخص کو حوصلہ دے سکتا ہے جو مدت سے اپنے وجود کو بے معنی سمجھ رہا ہو۔
یہی قلم کی طاقت ہے۔
قلم تلوار نہیں، مگر کبھی کبھی تلوار سے زیادہ دیرپا اثر چھوڑ دیتا ہے۔ تلوار جسم کو زخمی کرتی ہے، لفظ شعور کو چھوتا ہے۔ جسم کا زخم وقت کے ساتھ بھر سکتا ہے، مگر شعور میں اتر جانے والا ایک سچا لفظ نسلوں تک سفر کر سکتا ہے۔
اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ تخلیق کار کا سب سے بڑا فرض اپنے قلم سے وفادار رہنا ہے۔
نہ ہر تحریر کسی کو خوش کرنے کے لیے ہو، نہ ہر لفظ کسی کو نیچا دکھانے کے لیے۔ نہ قلم خوشامد کا وسیلہ بنے، نہ ذاتی دشمنی کا۔ قلم صرف وہ کہے جسے ضمیر سچ سمجھتا ہو اور جسے لکھنے کے بعد انسان اپنے آپ سے نظریں ملا سکے۔
کیونکہ آخرکار وقت سب کچھ بھلا دیتا ہے، مگر دیانت دار لفظ اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔
آج ہماری آوازیں محدود کی جا سکتی ہیں، ہماری باتوں کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے، ہمارے سوالوں سے نظریں چرائی جا سکتی ہیں؛ مگر جب ایک سچا قلم چلتا ہے تو وہ اپنے عہد کی خاموشی میں ایک لکیر کھینچ دیتا ہے۔
یہ لکیر شاید آج بہت باریک دکھائی دے، مگر آنے والا وقت اسی سے راستہ پڑھ سکتا ہے۔
اس لیے میں اپنے قلم کو اپنی طاقت سمجھتی ہوں
یہ قلم میرے لیے شہرت کا وسیلہ نہیں، ذمہ داری کا نام ہے۔
یہ میرے لیے محض لفظ نہیں گواہی ہے۔
یہ میرے لیے محض اظہار نہیں اپنے عہد سے مکالمہ ہے۔
میری قوت میرا قلم ہے
اور جب تک ہاتھ میں قلم، دل میں سچ اور لفظوں میں دیانت باقی ہے، مجھے یقین ہے کہ ہماری آواز مکمل طور پر کبھی خاموش نہیں ہو سکتی۔






