معمر افراد عزت و توجہ چاہتے ہیں ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
(عالمی یومِ معمر افراد کا دن)
زندگی کے سفر کا سب سے نازک موڑ وہ ہوتا ہے جب انسان کی جسمانی توانائیاں جواب دینے لگتی ہیں، بال چاندی کی طرح چمک اٹھتے ہیں اور چہرے پر عمر کے نشیب و فراز جھرریوں کی صورت ثبت ہو جاتے ہیں۔ عمر رسیدگی زندگی کا کوئی غیر متوقع حادثہ یا زوال نہیں بلکہ فطرت کا ایک اٹل قانون اور پختگی کا وہ باوقار مقام ہے جس پر ہر ذی روح نے ایک نہ ایک دن پہنچنا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے تیز رفتار، مادیت پرست اور مشینی دور میں بزرگ شہریوں کو اکثر ایک ایسی خاموش گوشہ نشینی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے جہاں ان کی آوازیں بے اثر اور ان کا وجود پس منظر میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس عمر میں انسان کو روٹی، کپڑے اور چھت سے کہیں زیادہ جس شے کی اشد ضرورت ہوتی ہے، وہ عزتِ نفس کی حفاظت اور اپنوں کی مخلصانہ توجہ ہے۔
ہمارے معاشرے کی اخلاقی اور مذہبی روایات میں والدین اور بزرگوں کا احترام خاندانی نظام کی روح سمجھا جاتا رہا ہے، مگر مغرب زدہ نیوکلیئر فیملی سسٹم اور ڈیجیٹل اسکرینوں کے طوفان نے اس خوبصورت تانے بانے کو بری طرح تار تار کر دیا ہے۔ وہ بزرگ جنہوں نے اپنی جوانی کی تمام توانائیاں، خواب اور کمائی اولاد کی تعلیم و تربیت اور مستقبل کو سنوارنے میں جھونک دی، ضعیفی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی خود کو اجنبی اور غیر ضروری محسوس کرنے لگتے ہیں۔ گھر کے کونے میں بچھے بستر یا برآمدے کی کرسی پر بیٹھا بوڑھا باپ اور بوڑھی ماں سارا دن اس انتظار میں گزار دیتے ہیں کہ کوئی ان کے پاس آئے، ان کا حال پوچھے، یا ان کے لرزتے ہاتھوں کو تھام کر محبت کے دو بول بول دے۔ مگر بدقسمتی سے دفتروں کی مصروفیات، سوشل میڈیا کی رنگینیوں اور ذاتی مشاغل میں الجھی نئی نسل کے پاس اپنے ہی گھر کے ان عظیم محسنوں کے لیے چند لمحے نکالنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔
بزرگوں کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی یہ ہوتی ہے کہ انہیں محض ترحم کی نظر سے دیکھا جانے لگتا ہے۔ ترس یا احسان کا رویہ کسی بھی خوددار انسان کے وقار کو لمحوں میں چکنا چور کر دیتا ہے۔ جس باپ نے زندگی بھر خاندان کی کشتی کو ہر طوفان سے نکال کر کنارے لگایا ہو، اور جس ماں نے اپنی مامتا کی چھاؤں میں بچوں کو زندگی کی دھوپ سے بچایا ہو، وہ کسی کی خیرات یا ترس کے محتاج نہیں ہوتے۔ انہیں ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ ان کی زندگی بھر کی کمائی گئی عزت اور وقعت کو برقرار رکھا جائے۔ خاندانی معاملات، سماجی امور اور اہم فیصلوں میں ان کی رائے لینا، ان کے تجربات سے رہنمائی حاصل کرنا اور ان کے سامنے عاجزی سے پیش آنا ان کے اندر خود اعتمادی اور زندگی کا احساس بیدار رکھتا ہے۔ اس کے برعکس جب ان کی باتوں کو فرسودہ کہہ کر جھٹلا دیا جائے یا ان پر غصہ اور چڑچڑاپن ظاہر کیا جائے، تو ان کا دل اندر سے بجھ جاتا ہے۔
اکثر گھروں میں یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ بزرگوں کو وقت پر دوا دینا اور کھانا کھلا دینا ہی ان کے جملہ حقوق کی ادائیگی ہے۔ بلاشبہ شوگر، بلڈ پریشر، جوڑوں کے درد اور بینائی کی کمزوری جیسی جسمانی بیماریاں اس عمر کا لازمی حصہ ہیں اور ان کے علاج کی باوقار انداز میں فراہمی اولین فرض ہے، مگر وہ مرض جو بزرگوں کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے وہ احساسِ تنہائی اور بیگانگی ہے۔ ماضی کی کہانیاں سنانا اور اپنی یادیں دہرانا ان کا کوئی شوق نہیں بلکہ ان کے داخلی اکیلے پن کی دہائی ہوتی ہے۔ اگر اولاد ان باتوں کو صبر، دلجمعی اور مسکراہٹ کے ساتھ سن لے، تو یہ دنیا کی بڑی سے بڑی دوا سے زیادہ شفا بخش ثابت ہوتی ہے۔ ان کی مادی ضروریات کو اس نفاست اور سلیقے سے پورا کیا جانا چاہیے کہ انہیں کبھی دستِ نگر ہونے یا اپنی ہی اولاد سے کچھ مانگنے کی ندامت نہ اٹھانی پڑے۔
معاشرتی اور ریاستی سطح پر بھی معمر افراد کو ترجیحی سلوک اور آسانیوں کی فراہمی مہذب ہونے کی بنیادی علامت ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، ہسپتالوں، نادرا دفاتر اور بینکوں میں بزرگوں کو طویل قطاروں میں رلانا ہماری اجتماعی بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بزرگ شہریوں کے لیے جامع سوشل پروٹیکشن، مفت معیاری علاج اور باوقار پنشن کی فراہمی کو قانونی طور پر یقینی بنائے۔
آج جو نوجوان اپنے عہدے، طاقت، دولت اور جوانی کے گھمنڈ میں بزرگوں کے وقار کو پامال کر رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وقت کی رفتار کسی کے لیے نہیں رکتی۔ جو بیج ہم آج بوئیں گے، کل فصل بھی وہی کاٹیں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بڑھاپا عزت، احترام اور سکون کی گود میں گزرے، تو ہمیں آج اپنے گھروں میں موجود بزرگوں کو جھک کر سلام کرنا ہوگا، ان کے قدموں میں بیٹھنا ہوگا اور انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ ہمارے لیے بوجھ نہیں بلکہ ہمارے گھروں کی سب سے قیمتی چھت، سب سے بڑی برکت اور دائمی رحمت ہیں۔
مزید پڑھیں





