نیویارک ٹائمز اسکوائر کی چکاچوند روشنیوں میں مدحتِ مصطفیٰ ،تحریر:شاہد نسیم جوہدری

اسلام، امریکہ اور محبتِ رسول ﷺ کا ایک روشن منظر
رات گہری ہو چکی تھی۔ نیویارک کی سڑکوں پر روشنیوں کا سیلاب تھا۔ بلند و بالا عمارتوں پر نصب بڑے بڑے برقی اشتہارات لمحہ بہ لمحہ رنگ بدل رہے تھے۔ کہیں موسیقی کی دھنیں تھیں، کہیں سیاحوں کا ہجوم، کہیں کیمروں کی چمک اور کہیں تیز قدموں سے گزرتے ہوئے انسانوں کا سمندر۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ شہر کبھی سوتا ہی نہیں۔
ٹائمز اسکوائر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا تھا۔ دنیا جسے سرمایہ، تجارت، تفریح اور جدید تہذیب کی علامت سمجھتی ہے، وہاں اچانک ایک مختلف منظر ابھرتا ہے۔ چند لمحوں کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شور کی تہوں کے پیچھے کوئی روحانی صدا جنم لے رہی ہو۔
درود و سلام کی آواز بلند ہوتی ہے۔
لبوں پر نامِ محمد ﷺ آتا ہے۔
ہزاروں لوگ ایک سمت متوجہ ہو جاتے ہیں۔
اور پھر یوں لگتا ہے جیسے نیویارک کی چکاچوند میں مدینہ منورہ کی محبت کا ایک چراغ روشن ہو گیا ہو۔
یہ منظر محض ایک اجتماع نہیں تھا۔ یہ ایک علامت تھا۔ ایک پیغام تھا۔ ایک سوال بھی تھا اور ایک جواب بھی۔
سوال یہ کہ دنیا کے سب سے جدید، مصروف اور کمرشل شہروں میں اسلام اور محبتِ رسول ﷺ کی آواز کس طرح اپنی جگہ بنا رہی ہے؟
اور جواب شاید یہی ہے کہ محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
12 ربیع الاول مسلمانوں کے لیے صرف تاریخ کا ایک دن نہیں، بلکہ عقیدت، محبت، تشکر اور نسبت کا دن ہے۔ یہ وہ مبارک نسبت ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کے دلوں میں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان اپنے اپنے انداز میں میلاد النبی ﷺ کی محافل منعقد کرتے ہیں، درود و سلام پڑھتے ہیں، نعتیں سنتے ہیں اور اپنے آقا و مولا ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو یاد کرتے ہیں۔
لیکن جب یہی مدحت ٹائمز اسکوائر جیسے مقام پر سنائی دے، جہاں دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہوتی ہیں، تو اس منظر کی معنویت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
یہ نیویارک ہے!
وہ نیویارک جسے دنیا جدید امریکہ کی دھڑکن سمجھتی ہے۔
وہ ٹائمز اسکوائر ہے جو روشن اشتہارات، پاپ کلچر، موسیقی، تفریح اور عالمی کاروباری سرگرمیوں کی علامت بن چکا ہے۔
اور اسی مقام پر ہزاروں مسلمانوں کا جمع ہونا، درود و سلام پڑھنا، نعتیہ جذبات کا اظہار کرنا، تقاریر سننا اور ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، یقیناً ایک ایسا منظر ہے جسے صرف مذہبی اجتماع کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ عوامی سطح پر مسلم شناخت کے پُرامن اظہار کا منظر بھی ہے۔
یہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ اسلام صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ مسلمان جہاں رہتے ہیں وہاں اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت کے ساتھ ایک پُرامن شہری کی حیثیت سے موجود رہتے ہیں۔
سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ اجتماع کسی تصادم، نفرت یا اشتعال کا منظر نہیں تھا۔ یہاں محبت تھی، درود تھا، نعت تھی، اجتماعیت تھی اور کھانے کی میز پر انسانوں کا انسانوں سے ملنا تھا۔
یہی تو اسلام کا ایک حسین تعارف ہے۔
اسلام انسان کو صرف عبادت کا طریقہ نہیں سکھاتا، بلکہ انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت، احترام، بھائی چارے اور عدل کا سبق بھی دیتا ہے۔
اور اگر اس منظر کو اسی زاویے سے دیکھا جائے تو ٹائمز اسکوائر میں ہونے والی یہ تقریب ایک نہایت خوبصورت پیغام دیتی ہے کہ مسلمان اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ دوسروں کے درمیان رہتے ہوئے بھی امن، محبت اور رواداری کی علامت بن سکتے ہیں۔
زہران ممدانی کی موجودگی اور ایک بدلتا ہوا امریکہ
اس تقریب میں زہران ممدانی کی موجودگی نے بھی خاص توجہ حاصل کی۔ ایک معروف عوامی شخصیت کا ایسے اجتماع میں شریک ہونا یا اس کی موجودگی سے وابستہ ہونا اس لیے اہم ہے کہ اس سے امریکہ کے عمومی سماجی منظرنامے میں مسلمانوں کی موجودگی اور ان کی مذہبی شناخت مزید نمایاں ہوتی ہے۔
یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
امریکہ میں مسلمان کوئی نئی قوم یا اچانک نمودار ہونے والی کمیونٹی نہیں۔ مسلمان کئی دہائیوں سے امریکی معاشرے کا حصہ ہیں۔ وہ ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، اساتذہ ہیں، تاجر ہیں، صحافی ہیں، وکلا ہیں، طلبہ ہیں، سماجی کارکن ہیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
لیکن عوامی سطح پر مذہبی شناخت کا اظہار ہمیشہ ایک الگ موضوع رہا ہے۔
ٹائمز اسکوائر جیسے مقام پر میلاد النبی ﷺ کا ایسا اجتماع اس حوالے سے اس لیے اہم ہے کہ یہاں مسلمان اپنی شناخت کو چھپانے کے بجائے اسے پُرامن، باوقار اور اجتماعی انداز میں سامنے لاتے ہیں۔
زہران ممدانی کی موجودگی اسی بدلتے ہوئے امریکہ کی ایک علامت کے طور پر بھی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں مذہبی اور ثقافتی تنوع اب معاشرتی زندگی کا نمایاں حصہ بنتا جا رہا ہے۔
یہاں کسی کو اپنی شناخت ترک کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
نہ مسلمان کو مسلمان ہونے پر شرمندہ ہونا چاہیے، نہ کسی دوسرے مذہب یا ثقافت سے تعلق رکھنے والے انسان کو اپنی شناخت کے اظہار پر خوف محسوس ہونا چاہیے۔
اصل خوبصورتی تو تب ہے جب مختلف شناختیں ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ ایک ہی معاشرے میں سانس لے سکیں۔
ٹائمز اسکوائر میں درود کی آواز
کبھی کبھی تاریخ بڑے بڑے ایوانوں میں نہیں بنتی، بلکہ ایک عام انسان کے لبوں سے نکلنے والے کسی ایک لفظ سے تاریخ کا رخ محسوس ہونے لگتا ہے۔
سوچیے!
ایک طرف نیویارک کی روشنیاں ہیں۔
دوسری طرف ہزاروں مسلمانوں کے ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں۔
ایک طرف جدید دنیا کی تیز رفتار زندگی ہے۔
دوسری طرف درود و سلام ہے۔
ایک طرف پاپ میوزک اور تفریح کی چکاچوند ہے۔
دوسری طرف نعتِ رسول ﷺ کی محبت ہے۔
یہ منظر کسی تہذیب کو شکست دینے کا منظر نہیں تھا۔
یہ کسی ثقافت سے جنگ کا منظر نہیں تھا۔
بلکہ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ انسان جدید بھی ہو سکتا ہے اور اپنے روحانی رشتوں سے جڑا ہوا بھی۔
ٹیکنالوجی انسان کی ضرورت ہے، لیکن روحانی نسبت انسان کی پہچان بھی ہو سکتی ہے۔
نیویارک کی بلند عمارتیں ترقی کی علامت ہیں، لیکن انسان کے دل میں بسنے والی محبتِ رسول ﷺ اس کی روحانی دنیا کی علامت ہے۔
اور یہی وہ نکتہ ہے جسے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اسلام امریکہ میں صرف موجود نہیں، زندہ بھی ہے
آج امریکہ میں اسلام کے بارے میں گفتگو صرف مساجد، اسلامی مراکز یا مذہبی کتابوں تک محدود نہیں رہی۔ مسلمان امریکی معاشرے کے مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔
مساجد آباد ہیں۔
اسلامی مراکز سرگرم ہیں۔
نوجوان نسل تعلیم حاصل کر رہی ہے۔
مسلمان کاروبار کر رہے ہیں۔
خواتین مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
اور نئی نسل ایک ایسی شناخت تشکیل دے رہی ہے جس میں امریکی شہری ہونے اور مسلمان ہونے کے درمیان کوئی لازمی تضاد نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ٹائمز اسکوائر کا اجتماع محض ماضی کی یاد نہیں، مستقبل کی طرف اشارہ بھی ہے۔
مسلمان نسلِ نو اپنے مذہب کو صرف ورثے کے طور پر نہیں بلکہ شعوری شناخت کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔
یہ ایک اہم تبدیلی ہے۔
وہ قرآن پڑھنا چاہتی ہے، سیرت سمجھنا چاہتی ہے، درود پڑھنا چاہتی ہے، نعت سننا چاہتی ہے، اور ساتھ ہی جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی معاشرے کا حصہ بھی بننا چاہتی ہے۔
اس میں کوئی تضاد نہیں۔
بلکہ یہی ایک متوازن زندگی کا راستہ ہے۔
محبتِ رسول ﷺ کا عالمی سفر
حضور اکرم ﷺ کی محبت کسی ایک خطے، زبان یا قوم کی میراث نہیں۔
عرب میں پیدا ہونے والے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت آج ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ اور دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مسلمانوں کے دلوں میں موجود ہے۔
پاکستان میں کوئی بچہ نعت پڑھتا ہے تو اس کے دل میں بھی مدینہ ہوتا ہے۔
ترکی میں کوئی درود پڑھتا ہے تو اس کے دل میں بھی مدینہ ہوتا ہے۔
افریقہ میں کوئی عاشقِ رسول ﷺ نامِ محمد ﷺ لیتا ہے تو اس کے دل کی کیفیت بھی وہی ہوتی ہے۔
اور نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں جب ہزاروں لب درود سے تر ہوتے ہیں تو یہ اسی عالمی محبت کا تسلسل ہے۔
یہی محبت اسلام کی سب سے طاقتور روحانی قوتوں میں سے ایک ہے۔
دنیا کے نقشے بدل سکتے ہیں۔
سلطنتیں ختم ہو سکتی ہیں۔
معاشی نظام تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی بدل سکتی ہے۔
لیکن رسولِ اکرم ﷺ کی محبت نسل در نسل دلوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
میلاد صرف جشن نہیں، پیغام بھی ہے
البتہ یہاں ایک بنیادی بات یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ میلاد النبی ﷺ کا اصل حسن صرف چراغاں، اجتماعات یا ظاہری اظہار میں نہیں، بلکہ اس محبت کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے کردار میں ڈھالنے میں ہے۔
اگر ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہماری زبان میں سچائی ہونی چاہیے۔
ہمارے معاملات میں دیانت ہونی چاہیے۔
ہمارے رویوں میں رحم ہونا چاہیے۔
ہمیں کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
ہمیں اختلاف میں بھی اخلاق نہیں چھوڑنا چاہیے۔
ہمیں علم سے محبت کرنی چاہیے۔
ہمیں پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
ہمیں انسان کو انسان سمجھنا چاہیے۔
کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں محبت، رحمت، عدل، اخلاق اور انسانیت کا درس دیتی ہے۔
اس لیے ٹائمز اسکوائر میں درود کی آواز اس وقت سب سے زیادہ خوبصورت محسوس ہوگی جب وہ آواز مسلمانوں کے کردار میں بھی سنائی دے۔
امریکہ اور اسلام: تصادم نہیں، مکالمہ
اسلام اور مغرب کے تعلقات کو اکثر تصادم کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ کبھی سیاسی واقعات اس بحث کو شدت دیتے ہیں اور کبھی میڈیا کی مخصوص تعبیرات غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں۔
لیکن ٹائمز اسکوائر کا یہ منظر ہمیں ایک دوسرا راستہ بھی دکھاتا ہے۔
وہ راستہ مکالمے کا ہے۔
تعارف کا ہے۔
امن کا ہے۔
ایک دوسرے کو سمجھنے کا ہے۔
اگر مسلمان اپنے مذہب کا تعارف علم، کردار، اخلاق اور محبت کے ذریعے کرائیں اور غیر مسلم معاشرہ بھی مسلمانوں کو خوف یا تعصب کے بجائے ایک عام شہری اور انسان کے طور پر دیکھے تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود کم ہو سکتی ہیں۔
اسلام کو سمجھنے کے لیے صرف سیاسی خبروں کو دیکھنا کافی نہیں۔
اسلام کو سمجھنے کے لیے ایک مسلمان کے گھر، مسجد، بازار، یونیورسٹی، دفتر اور سماجی زندگی کو بھی دیکھنا ہوگا۔
اور اگر کسی نے ٹائمز اسکوائر میں ہزاروں مسلمانوں کو اجتماعی طور پر درود و سلام پڑھتے، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے اور کھانا بانٹتے دیکھا ہے تو اسے اسلام کے اس پہلو کو بھی دیکھنا چاہیے جو محبت، اجتماعیت اور امن سے عبارت ہے۔
روشنیاں بہت تھیں، مگر ایک روشنی الگ تھی
ٹائمز اسکوائر کی روشنیاں شاید دنیا کے کسی اور مقام سے زیادہ مشہور ہیں۔
لیکن اس رات ان روشنیوں کے درمیان ایک اور روشنی بھی تھی۔
وہ روشنی کسی برقی بورڈ سے نہیں آ رہی تھی۔
وہ روشنی دلوں سے آ رہی تھی۔
وہ محبت کی روشنی تھی۔
وہ درود کی روشنی تھی۔
وہ نسبتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی تھی۔
اور شاید یہی اس منظر کی سب سے بڑی معنویت ہے۔
دنیا نے انسان کو بہت کچھ دیا ہے۔ ٹیکنالوجی دی، رفتار دی، سہولتیں دیں، بلند عمارتیں دیں، جدید ذرائع مواصلات دیے۔
لیکن انسان آج بھی اپنے دل کے سکون کی تلاش میں ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ نیویارک جیسے شہر میں بھی کوئی شخص مدینہ کی یاد میں آنکھیں نم کر لیتا ہے۔
کوئی درود پڑھتے ہوئے دل سے محمد ﷺ کہتا ہے۔
کوئی نعت سنتے ہوئے اپنے اندر عجیب سکون محسوس کرتا ہے۔
یہ وہ تعلق ہے جسے جغرافیہ نہیں روک سکتا۔
شاید یہ ایک نئے باب کی ابتدا ہے
ٹائمز اسکوائر میں ہونے والا یہ بڑا میلاد اجتماع شاید آنے والے برسوں میں صرف ایک واقعہ نہ رہے۔ ممکن ہے یہ امریکہ کے بڑے شہروں میں مسلم کمیونٹی کی اجتماعی مذہبی اور ثقافتی تقریبات کے ایک نئے باب کی علامت بن جائے۔
لیکن اس نئے باب کی اصل کامیابی تعداد میں نہیں ہوگی۔
اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ اجتماعات محبت کو کردار میں، درود کو عمل میں، سیرت کو زندگی میں اور اسلام کو انسانیت کی خدمت میں تبدیل کریں گے۔
دنیا کو آج نفرت کے مقابلے میں محبت کی ضرورت ہے۔
تعصب کے مقابلے میں مکالمے کی ضرورت ہے۔
تشدد کے مقابلے میں امن کی ضرورت ہے۔
اور تقسیم کے مقابلے میں انسانیت کو جوڑنے والے پیغام کی ضرورت ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔
اختتامیہ
رات پھر اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی تھی۔
ٹائمز اسکوائر کی روشنیاں بدستور جگمگا رہی تھیں۔
لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
سڑکوں پر زندگی پھر اپنی رفتار سے چلنے لگی تھی۔
مگر شاید اس رات کچھ آوازیں ہوا میں ٹھہر گئی تھیں۔
درود کی آوازیں۔
نعت کی آوازیں۔
محبت کی آوازیں۔
اور ان آوازوں میں ایک نام سب سے نمایاں تھا:
محمد ﷺ
یہی تو اسلام کی سب سے خوبصورت حقیقت ہے کہ وہ جہاں بھی جاتا ہے، اپنے ساتھ ایک نسبت لے کر جاتا ہے؛ اور وہ نسبت ہے رحمتِ عالم ﷺ کی۔
نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں 12 ربیع الاول کی خوشی میں ہزاروں مسلمانوں کا جمع ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مدینہ صرف ایک شہر کا نام نہیں، ایک کیفیت کا نام بھی ہے۔
مدینہ دل میں ہو تو انسان نیویارک میں بھی مدینے کی خوشبو محسوس کر سکتا ہے۔
اور جب ٹائمز اسکوائر کی پاپ میوزک اور ڈسکو لائٹوں کی چکاچوند میں بھی کسی لمحے درود و سلام کی آواز بلند ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ محبتِ مصطفیٰ ﷺ کا سفر ابھی جاری ہے۔
یہ سفر سرحدوں سے آزاد ہے۔
یہ سفر زبانوں سے بے نیاز ہے۔
یہ سفر نسلوں سے ماورا ہے۔
اور شاید اسی لیے دنیا کے کسی بھی کونے میں جب کوئی عاشقِ رسول ﷺ محبت سے کہتا ہے:
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
تو مدینہ منورہ کی طرف دل کا ایک چراغ ضرور روشن ہو جاتا ہے۔
ٹائمز اسکوائر کی ہزاروں مصنوعی روشنیوں کے درمیان اس رات اگر کوئی روشنی سب سے زیادہ روشن تھی تو وہ محبتِ رسول ﷺ کی روشنی تھی۔
اور یہ روشنی امریکہ میں بھی ہے، پاکستان میں بھی، دنیا کے ہر خطے میں بھی،اور سب سے بڑھ کر ان کروڑوں دلوں میں بھی جہاں آج تک محمد مصطفیٰ ﷺ کا نام محبت، عقیدت اور درود کے ساتھ زندہ ہے۔
مزید پڑھیں





