ہر سال پاکستان کی جامعات سے لاکھوں نوجوان ہاتھ میں ڈگری اور آنکھوں میں خواب لیے نکلتے ہیں۔ والدین نے اپنی جمع پونجی، کبھی زیور بیچ کر اور کبھی قرض لے کر، اس امید پر لگائی ہوتی ہے کہ بیٹا یا بیٹی افسر بنے گی، گھر کے حالات بدلیں گے۔ مگر پھر ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ ڈگری ہاتھ میں ہے، نوکری کہیں نہیں۔ یوں وہ کاغذ جو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، ایک بوجھ بن کر کندھوں پر آ بیٹھتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں تعلیم کو صرف علم کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی رتبے کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ رشتے کی بات ہو یا محلے میں عزت کی، "پڑھا لکھا" ہونا ایک سند ہے۔ اسی سوچ نے ڈگری کو مقصد بنا دیا اور مہارت کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ طالب علم یہ نہیں پوچھتا کہ مارکیٹ کو کیا چاہیے، وہ یہ پوچھتا ہے کہ کون سی ڈگری "اچھی" سمجھی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ ایک ہی شعبے میں ہزاروں گریجویٹ پیدا ہوتے ہیں جبکہ دوسرے شعبے ہنرمند افراد کو ترستے ہیں۔
جامعات میں پڑھایا جانے والا بہت سا نصاب برسوں پرانا ہے۔ دنیا ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن کاروبار کی طرف بڑھ چکی ہے، جبکہ ہماری کئی کلاسوں میں اب بھی رٹا لگانے پر زور ہے۔ امتحان میں اچھے نمبر لینے والا طالب علم انٹرویو میں اس سادہ سوال پر گھبرا جاتا ہے کہ "آپ ہمارے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
نئے گریجویٹ کے لیے سب سے بڑی دیوار یہ جملہ ہے: "دو سے تین سال کا تجربہ درکار ہے۔" سوال یہ ہے کہ جس نے ابھی پڑھائی مکمل کی ہو، وہ تجربہ کہاں سے لائے؟ نوکری کے لیے تجربہ چاہیے اور تجربے کے لیے نوکری۔ یہ دائرہ کئی نوجوانوں کو مایوسی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ انٹرن شپ کے نام پر کئی ادارے مفت کام لیتے ہیں اور بعد میں دروازہ دکھا دیتے ہیں، جس سے اعتماد مزید مجروح ہوتا ہےایک اور تلخ پہلو یہ ہے کہ بہت سی آسامیاں میرٹ کے بجائے سفارش پر بھر دی جاتی ہیں۔ اشتہار محض خانہ پُری ہوتا ہے، فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔ جب ایک محنتی نوجوان بار بار دیکھتا ہے کہ کم قابلیت والا شخص تعلق کی بنیاد پر آگے نکل گیا، تو اس کا نظام پر اعتماد ٹوٹتا ہے۔ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ محنت بے سود ہے، اور یہ سب سے خطرناک نتیجہ ہے۔
بے روزگاری صرف جیب کا مسئلہ نہیں، یہ ذہن اور روح کا بھی مسئلہ ہے۔ گھر میں بیٹھا گریجویٹ اپنے آپ کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ رشتہ داروں کے طعنے، ہم عمروں سے موازنہ، اور والدین کی خاموش مایوسی اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔ بہت سے نوجوان ڈپریشن اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ اپنی ڈگری سے کم درجے کی ملازمت قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور کچھ بیرونِ ملک جانے کے خواب میں ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹ جاتے ہیں۔ ذہین دماغوں کا ملک سے نکل جانا ہمارا اجتماعی نقصان ہے۔
اس صورتحال کا مداوا ممکن ہے، مگر اس کے لیے تینوں فریقوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
جامعات اور حکومت: نصاب کو صنعت کی ضروریات کے مطابق جدید بنایا جائے۔ جامعات اور کاروباری اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط ہو، لازمی اور معیاری انٹرن شپ شامل کی جائیں۔ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو وہ عزت دی جائے جو آج صرف روایتی ڈگریوں کو حاصل ہے۔ بھرتیوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔
آجر ادارے: ہر عہدے کے لیے غیر ضروری تجربے کی شرط ختم کی جائے۔ نئے لوگوں کو سیکھنے کا موقع دیا جائے، کیونکہ آج کا ناتجربہ کار کل کا ماہر بن سکتا ہے۔ انٹرن شپ کو استحصال کے بجائے تربیت کا ذریعہ بنایا جائے۔
نوجوان خود: ڈگری کو آغاز سمجھیں، منزل نہیں۔ ڈگری کے ساتھ ایک عملی مہارت ضرور سیکھیں، چاہے وہ پروگرامنگ ہو، گرافک ڈیزائن، تحریر، حسابات یا فری لانسنگ۔ آج انٹرنیٹ پر معیاری سیکھنے کے مواقع موجود ہیں۔ انگریزی اور بات چیت کی صلاحیت بہتر بنائیں، اپنا کام دکھانے کے لیے پورٹ فولیو بنائیں، اور نوکری کا انتظار کرنے کے بجائے چھوٹے پیمانے پر خود کام شروع کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
ڈگری بذاتِ خود بوجھ نہیں، بوجھ وہ توقعات اور وہ نظام ہے جو اسے ہر مسئلے کا حل سمجھتا ہے۔ تعلیم کا مقصد انسان کو سوچنے، سیکھنے اور کچھ کر دکھانے کے قابل بنانا ہے، محض کاغذ کا ٹکڑا تھما دینا نہیں۔ جب تک ہم ڈگری کی پرستش چھوڑ کر مہارت، میرٹ اور مواقع کو اہمیت نہیں دیں گے، ہمارے نوجوان یونہی سندیں اٹھائے دفتروں کے چکر کاٹتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام اور اپنی سوچ، دونوں کو بدلیں، تاکہ ڈگری بوجھ نہیں، پرواز کا ذریعہ بنے۔
مزید پڑھیں






