اوے توں مینوں جانندا نئیں ؟تحریر: نعیم خان
نقطہ نظر
کبھی کبھی ایک معمولی سا سوال انسان کو اپنے اندر کے ایک ایسے کمرے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے جس کا دروازہ وہ برسوں سے بند کیے بیٹھا ہوتا ہے۔
کسی نے مجھ سے پوچھا ، “آپ کا تعارف کیا ہے؟ آپ کون ہیں؟”
سوال بظاہر بہت آسان تھا۔ میں اپنا نام بتا سکتا تھا ، پیشہ ، عہدہ ، تعلیم ، شہر ، خاندان یا اپنی کسی کامیابی کا حوالہ دے سکتا تھا۔ مگر نہ جانے کیوں دل نے کہا کہ یہ سب بتانے کے باوجود شاید میں اس سوال کا جواب نہیں دے پاؤں گا۔
کیونکہ نام میرا تعارف ہو سکتا ہے مگر میں صرف اپنا نام نہیں ہوں۔
عہدہ میری شناخت کا ایک حصہ ہو سکتا ہے مگر عہدہ ختم ہونے کے بعد جو شخص باقی رہتا ہے ، وہ کون ہے؟
یہ سوال شاید ہر اس انسان کے لیے اہم ہے جو کبھی زندگی کی رفتار سے نکل کر چند لمحے اپنے اندر جھانکتا ہے۔
ہم نے اپنی پہچان کے گرد بہت سی چیزیں جمع کر رکھی ہیں۔ نام ، نسب ، عہدہ ، دولت ، تعلیم ، پیشہ ، شہرت اور کامیابیاں۔ ہم انہی چیزوں کے ذریعے خود کو بھی سمجھتے ہیں اور دوسروں کو بھی۔
لیکن اگر یہ سب ایک ایک کرکے ہم سے چھین لیا جائے تو کیا ہماری ذات بھی ختم ہو جائے گی؟
شاید نہیں۔ شاید انسان کی اصل شناخت ان ظاہری حوالوں کے پیچھے کہیں موجود ہوتی ہے۔
میں کون ہوں، اس سوال کا جواب شاید اس بات میں نہیں کہ لوگ مجھے کیا سمجھتے ہیں بلکہ اس میں ہے کہ میں اس وقت کیا ہوں جب کوئی مجھے دیکھ نہیں رہا ہوتا۔
میرے دل میں دوسروں کے لیے کیا ہے؟
میں کمزور انسان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہوں؟
کسی کی کامیابی مجھے خوش کرتی ہے یا اندر ہی اندر بے چین؟
مجھے اختیار ملے تو میں اسے کیسے استعمال کرتا ہوں؟
مجھے بدلہ لینے کا موقع ملے تو میں کیا انتخاب کرتا ہوں؟
شاید یہی چھوٹے چھوٹے فیصلے ہماری اصل تعریف لکھتے ہیں۔
ہم اپنی شخصیت کو اپنے الفاظ سے بیان کر سکتے ہیں مگر ہمارا کردار ہماری بات سے زیادہ سچ بولتا ہے۔
انسان شاید وہ نہیں جو وہ اپنے بارے میں لوگوں کو بتاتا ہے ؛ انسان وہ بھی ہے جو وہ خاموشی میں اپنے لیے طے کرتا ہے۔
اور پھر ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے: انسان مکمل اور جامد تعریف نہیں۔
وہ ایک جاری سفر ہے۔
آج کا میں ، کل کے مجھ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ زندگی کے تجربات ، ناکامیاں ، محبتیں ، محرومیاں اور غلطیاں انسان کو مسلسل بدلتی رہتی ہیں۔ اس لیے شاید یہ کہنا درست نہیں کہ “میں یہی ہوں”۔
سچ شاید یہ ہے کہ “میں وہ ہوں جو بننے کی کوشش کر رہا ہوں۔”
ہم سب اپنے ماضی کا بوجھ اٹھائے آگے بڑھتے ہیں مگر ہمارا ماضی ہماری آخری تعریف نہیں۔ انسان کی خوبصورتی شاید یہی ہے کہ اسے اپنے آپ کو بدلنے ، سنوارنے اور بہتر بنانے کی گنجائش حاصل ہے۔
میں اپنی غلطیاں ہوں مگر صرف اپنی غلطیاں نہیں۔
میں اپنی کامیابیاں ہوں مگر صرف اپنی کامیابیاں بھی نہیں۔
میں ان دونوں کے درمیان کھڑا وہ شعور ہوں جو ہر دن کچھ سیکھتا ہے ، کچھ کھوتا ہے ، کچھ پاتا ہے اور پھر خود سے ایک نیا سوال کرتا ہے۔
اسی لیے اب اگر کوئی مجھ سے تعارف مانگے تو شاید میں اپنے عہدے یا کامیابیوں کی فہرست پیش نہ کروں۔
میں شاید صرف اتنا کہوں:
“میں ایک ایسا انسان ہوں جو ابھی خود کو مکمل طور پر جان نہیں پایا۔ میں اپنی کمزوریوں، اپنی خواہشوں، اپنی غلطیوں اور اپنے خوابوں کے ساتھ زندگی کے سفر میں ہوں۔ میں سچ کو سمجھنے ، اپنے وجود کو پہچاننے اور اپنے آپ کو ایک بہتر انسان بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔”
میں ایک تعارف نہیں ، ایک سفر ہوں
مزید پڑھیں





