زیرِ زمین پانی کی خاموش پکار،تحریر: طاہر محمود
نقطہ نظر
پاکستان کے مستقبل پر منڈلاتا ایک سنگین خطرہ اور ہماری اجتماعی ذمہ داری
کبھی ہماری بستیوں میں شام اترتی تو کنویں کی منڈیر پر زندگی ٹھہر جاتی تھی۔ کوئی مشکیزہ بھر رہا ہوتا، کوئی پیاس بجھا رہا ہوتا اور کوئی آنے والی نسل کے لیے پانی محفوظ کرنے کی فکر میں ہوتا۔ زمین کے سینے میں چھپا پانی محض ایک نعمت نہیں، زندگی کی وہ پوشیدہ رگ تھا جس سے بستیوں کی سانسیں جڑی ہوئی تھیں۔ مگر آج منظر بدل رہا ہے۔ کنویں خاموش ہیں، پانی کی سطح گہری ہوتی جا رہی ہے اور زمین کے اندر موجود وہ ذخیرہ، جسے ہم نے ہمیشہ لامحدود سمجھا، اپنی کمی کی خبر دے رہا ہے۔
یہ خطرہ کسی طوفان کی طرح شور مچاتا ہوا نہیں آ رہا؛ یہ خاموش قدموں سے ہماری دہلیز تک پہنچ رہا ہے۔ پاکستان میں زیرِ زمین پانی پر بڑھتا ہوا دباؤ اب ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ہے۔ آبادی میں اضافہ، شہری پھیلاؤ، زرعی ضروریات، غیر مؤثر آبپاشی، بے دریغ اخراج اور بارش کے پانی کا ضیاع اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
قدرت نے بارش کے ذریعے زمین کو پانی واپس کرنے کا ایک حسین اور متوازن نظام قائم کر رکھا ہے۔ مگر جب زمین کا بڑا حصہ کنکریٹ، سڑکوں اور تعمیرات سے ڈھک جائے تو بارش کا پانی زمین میں اترنے کے بجائے بہہ جاتا ہے۔ یوں ایک طرف بارش کا پانی ضائع ہوتا ہے اور دوسری طرف زیرِ زمین ذخائر کی قدرتی بحالی کا عمل کمزور پڑتا جاتا ہے۔
اس صورتِ حال کا اثر سب سے پہلے زراعت پر نمایاں ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی غذائی ضروریات، دیہی معیشت اور لاکھوں لوگوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے۔ پانی کی دستیابی میں کمی کا مطلب صرف خشک کھیت نہیں؛ یہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، کسان کی مشکلات، خوراک کے تحفظ پر دباؤ اور معاشی مسائل کی ایک نئی زنجیر بھی بن سکتی ہے۔
شہری زندگی بھی اس چیلنج سے محفوظ نہیں۔ آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ پانی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر زیرِ زمین پانی مسلسل نکالا جاتا رہا اور اسے دوبارہ زمین میں پہنچانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں صاف اور قابلِ استعمال پانی کا حصول کئی علاقوں کے لیے دشوار ہو سکتا ہے۔
اس بحران کا حل صرف بڑے منصوبوں میں نہیں، ہماری روزمرہ عادات میں بھی پوشیدہ ہے۔ حکومت کو زیرِ زمین پانی کے استعمال اور اخراج کے لیے مؤثر ضابطہ کار، پانی کے ذخائر کی بحالی، جدید آبپاشی اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبوں پر توجہ دینا ہوگی۔ شہروں میں ایسے نظام تشکیل دینا ہوں گے جو بارش کی بوند کو نالے میں بہا دینے کے بجائے زمین کے اندر پہنچانے میں مدد دیں۔
مگر ریاستی کوششوں کے ساتھ شہری ذمہ داری بھی ناگزیر ہے۔ گھر کا ضائع ہوتا پانی، کھیت میں غیر ضروری آبپاشی، لیکیج، بے مقصد پانی کا استعمال اور بارش کی بوند کو محفوظ نہ کرنا بظاہر معمولی باتیں ہیں، مگر لاکھوں گھروں میں یہی معمولی غفلت ایک بڑے قومی نقصان میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ پانی صرف آج کی ضرورت نہیں، کل کی امانت بھی ہے۔ درخت لگانا، پانی کا ضیاع روکنا، بارش کا پانی محفوظ کرنا اور زمین کو دوبارہ پانی جذب کرنے کے مواقع دینا دراصل آنے والی نسلوں کے لیے زندگی کا راستہ ہموار کرنا ہے۔
ذرا تصور کیجیے، ایک ایسا دن جب بارش تو ہو مگر زمین پیاسی رہ جائے؛ جب نل موجود ہو مگر اس میں پانی نہ ہو؛ جب کھیت موجود ہوں مگر فصلیں پانی کی منتظر ہوں؛ اور جب ہمارے بچے ہم سے پوچھیں کہ جب پانی کم ہو رہا تھا تو آپ نے اسے بچایا کیوں نہیں؟
اس سوال کا جواب آج ہمیں دینا ہے، کل نہیں۔
ہماری زمین ہمیں پانی دیتی رہی، ہم نے اس سے زندگی لی؛ اب وقت ہے کہ ہم بھی زمین کے ساتھ اپنا حق ادا کریں۔ بارش کی ہر بوند کو عزت دیں، پانی کے ہر قطرے کو امانت سمجھیں اور زیرِ زمین ذخائر کو صرف استعمال کرنے کے بجائے انہیں دوبارہ بھرنے کی فکر کریں۔
کیونکہ آنے والی نسلیں ہم سے صرف یہ نہیں پوچھیں گی کہ ہم نے ان کے لیے کتنی عمارتیں، سڑکیں اور شہر بنائے؛ وہ یہ بھی پوچھیں گی کہ ہم نے ان کے لیے زندگی کا پانی کتنا محفوظ چھوڑا تھا۔
اور شاید اس پورے سوال کا جواب صرف ایک بوند میں چھپا ہو—
وہ بوند جو آج ہماری آنکھ کے سامنے ہے، مگر کل کسی پیاسی نسل کی زندگی بن سکتی ہے۔
پانی بچائیں، زمین کو زندہ رکھیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے زندگی کا چراغ روشن چھوڑ جائیں۔
مزید پڑھیں





