Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پھر بھی محبت،تحریر:رفعت اکرام

نقطہ نظر

شام ڈھل رہی ہے اور دریا کے کنارے بنی اس سڑک پر سنہری روشنی پھیلی ہوئی ہے۔


آگے دو لوگ جا رہے ہیں۔ لڑکا اور لڑکی۔ ان کی ہنسی ہوا میں گھل رہی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں ہاتھ ہے، قدموں میں اعتماد ہے۔ دیکھنے والے کو لگے گا یہ ایک مکمل کہانی ہے۔


لیکن ہر مکمل کہانی کے پیچھے ایک ادھوری کہانی بھی کھڑی ہوتی ہے۔


ان سے کچھ فاصلے پر ایک لڑکی کھڑی ہے۔ اس کے ہاتھ میں پھول ہیں، سفید اور نازک۔ اس کی آنکھیں ان دونوں پر جمی ہیں، لیکن ان آنکھوں میں حسد نہیں، حسرت بھی نہیں، بس ایک خاموش دعا ہے۔


اس لڑکی کو اس لڑکے سے محبت تھی۔ بچپن سے نہیں، تب سے جب محبت کا مطلب سمجھ آنا شروع ہوا تھا۔ اس نے کبھی کہا نہیں، کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں دوستی نہ ٹوٹ جائے۔ وہ ہر روز اس کے لیے دعا کرتی، اس کے راستے میں آئے ہوئے کانٹے اپنی دعاؤں سے ہٹاتی رہی۔


آج وہ یہ پھول لے کر آئی تھی کہ آج وہ کہہ دے گی، چاہے جو بھی ہو۔ لیکن قدرت نے اس سے پہلے ہی جواب دے دیا۔ اس لڑکے نے کسی اور کا ہاتھ تھام لیا تھا۔


لوگ کہتے ہیں محبت ہار جاتی ہے تو انسان ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن یہ لڑکی نہیں ٹوٹی۔ وہ وہیں کھڑی رہی، اس نے دیکھا کہ وہ لڑکا کتنا خوش ہے۔ اس کی خوشی دیکھ کر اسے پہلی بار لگا کہ اس کی محبت ضائع نہیں گئی۔ کیونکہ اس نے جس شخص سے محبت کی، وہ آج خوش ہے۔


اس نے پھولوں کو آہستہ سے چوما اور انہیں اپنے قدموں میں بکھیر دیا۔ وہ آنسو جو آنکھوں میں تھے، وہ گرے نہیں، وہیں جذب ہو گئے۔


وہ بولی تو نہیں، لیکن اس کے دل نے کہا:

"اگر میری محبت تمہیں تمہاری محبت تک لے آئی ہے، تو مجھے اپنی محبت پر فخر ہے۔"


اور پھر وہ واپس مڑ گئی۔ سورج ڈوب چکا تھا، لیکن اس کے دل میں ایک نیا سورج طلوع ہو چکا تھا۔ وہ جان چکی تھی کہ سچی محبت وہ نہیں جو مل جائے، سچی محبت وہ ہے جو کسی کو خوش دیکھ کر خود بھی مسکرا دے، چاہے دل اداس ہی کیوں نہ ہو۔