پولیس اصلاحات: عدل و انصاف کی پہلی شرط،تحریر: ارشد اعوان مرجان
نقطہ نظر
انصاف صرف عدالتوں کے فیصلوں کا نام نہیں۔ انصاف کا پہلا دروازہ تھانہ ہے، اور اگر یہی دروازہ عام شہری کے لیے بند، دشوار یا غیر شفاف ہو جائے تو پھر قانون کی بالادستی محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی لیے پولیس میں اصلاحات کوئی معمولی انتظامی معاملہ نہیں بلکہ عدل و انصاف کی بنیادی ضرورت ہیں۔
تلہ گنگ کے عوام بھی اسی ریاستی نظام کا حصہ ہیں اور انہیں بھی وہی قانونی تحفظ، عزت اور انصاف ملنا چاہیے جو ملک کے کسی بھی شہری کا بنیادی حق ہے۔ غریب ہو یا امیر، کمزور ہو یا بااثر، عام آدمی ہو یا صاحبِ حیثیت—قانون کی نظر میں سب برابر ہونے چاہئیں۔ یہی ریاست کی اصل طاقت اور پولیس کے ادارے کی اصل ذمہ داری ہے۔
پولیس کے نظام میں ایک معاملہ ایسا بھی ہے جس پر اب خاموشی کے بجائے کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے: ایک ہی علاقے میں اہلکاروں کی طویل اور مسلسل مقامی تعیناتیاں۔ہم کسی مخصوص اہلکار یا افسر پر الزام عائد نہیں کر رہے، لیکن انتظامی اصول اور عوامی اعتماد دونوں اس بات کے متقاضی ہیں کہ طویل عرصے تک ایک ہی علاقے میں تعیناتی کے ممکنہ اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ مقامی سطح پر طویل عرصے تک رہنے سے اہلکاروں کے مختلف افراد، خاندانوں، بااثر حلقوں اور فریقین سے ذاتی روابط بن سکتے ہیں۔ ایسے روابط، خواہ دانستہ طور پر کسی غلط مقصد کے لیے استعمال نہ بھی ہوں، پھر بھی غیر جانب داری کے بارے میں سوالات اور شکوک پیدا کر سکتے ہیں۔
اور انصاف کا نظام صرف انصاف کرنے سے نہیں چلتا، انصاف ہوتا ہوا نظر آنا بھی ضروری ہے۔
اگر کسی شہری کو یہ خدشہ ہو کہ اس کے مقابل فریق کے مقامی تعلقات زیادہ مضبوط ہیں تو اس کا اعتماد متاثر ہونا فطری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پولیس کی انتظامی پالیسی کو زیادہ شفاف، متوازن اور قابلِ اعتماد بنانے کی ضرورت ہے۔
ڈی پی او چکوال کو اس معاملے پر نظرثانی کرنی چاہیے,یہاں ڈی پی او چکوال سے ایک واضح اور دوٹوک گزارش ہے کہ تلہ گنگ سمیت ضلع کے تمام تھانوں میں افسران اور اہلکاروں کی تعیناتی، مدتِ تعیناتی اور مقامی وابستگیوں کا جامع جائزہ لیا جائے۔جہاں ایک ہی مقام پر غیر معمولی طویل تعیناتی ہو، وہاں انتظامی ضرورت اور عوامی اعتماد دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے تبادلے یا ذمہ داریوں میں تبدیلی پر غور کیا جائے۔ حساس مقدمات میں ضرورت پڑنے پر تفتیش ایسے افسر کے سپرد کی جا سکتی ہے جس کی مقامی وابستگی کم ہو، تاکہ فریقین کو غیر جانب دارانہ کارروائی کا حقیقی اعتماد حاصل ہو۔یہ کسی اہلکار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ نہیں، بلکہ نظام کو مضبوط بنانے کا مطالبہ ہے۔ایک مضبوط پولیس وہ نہیں جس سے لوگ خوف کھائیں؛ مضبوط پولیس وہ ہے جس پر مظلوم اعتماد کرے اور قانون شکن قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔
تھانہ کسی طاقتور کا دفتر نہیں، ریاست کا ادارہ ہے,تلہ گنگ کے عام شہری کے لیے تھانہ آخری امید نہیں ہونا چاہیے بلکہ قانون تک رسائی کا پہلا باعزت راستہ ہونا چاہیے۔ کسی شہری کو ایف آئی آر کے اندراج، شکایت کی سماعت یا تفتیش کے لیے بار بار چکر لگانے پر مجبور کرنا عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ایف آئی آر کا اندراج قانون کے مطابق ہو، تفتیش شواہد کی بنیاد پر ہو، فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملے اور کسی بھی قسم کا دباؤ قانون کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔خاص طور پر خواتین، بچوں، بزرگوں اور کمزور طبقات کے معاملات میں پولیس کا رویہ مزید حساس اور ذمہ دارانہ ہونا چاہیے۔ ریاست کی طاقت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سامنے کوئی بااثر شخص نہیں بلکہ ایک بے سہارا شہری کھڑا ہو۔پولیس بھی اصلاح کی مستحق ہے,پولیس اصلاحات کا مطلب صرف اہلکاروں کے تبادلے نہیں۔ پولیس اہلکاروں کو جدید تفتیشی تربیت، مناسب وسائل، ٹیکنالوجی، قانونی آگاہی اور کام کرنے کا بہتر ماحول دینا بھی ضروری ہے۔ جو اہلکار دن رات عوام کے تحفظ کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں، انہیں بھی ایک مؤثر اور شفاف نظام فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔لیکن اختیارات کے ساتھ جوابدہی بھی لازم ہے۔ جہاں غفلت ہو وہاں احتساب ہونا چاہیے، جہاں اچھا کام ہو وہاں حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، اور جہاں شہری کے حقوق متاثر ہوں وہاں شکایت کے ازالے کا واضح اور مؤثر نظام موجود ہونا چاہیے۔
تلہ گنگ کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا ہر شہری کو پولیس تک یکساں رسائی حاصل ہے؟ کیا ہر شکایت کو یکساں اہمیت دی جاتی ہے؟ کیا تفتیش میں غیر جانب داری ہر حال میں یقینی بنائی جاتی ہے؟ اور کیا طویل مقامی تعیناتیوں کے ممکنہ اثرات کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے؟ان سوالات کو کسی ادارے کے خلاف محاذ آرائی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ سوالات ایک بہتر، شفاف اور جواب دہ نظام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ہماری آواز کسی فرد کے خلاف نہیں، نظام کی بہتری کے لیے ہے۔ ہمارا مطالبہ کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ قانون کی طاقت عام شہری کے تحفظ کے لیے استعمال ہو۔تلہ گنگ میں بھی ایسا پولیس نظام ہونا چاہیے جہاں سفارش سے زیادہ قانون کی طاقت ہو، تعلق سے زیادہ میرٹ کی اہمیت ہو اور اثرورسوخ سے زیادہ شواہد کی حیثیت ہو۔کیونکہ انصاف وہی ہے جو نظر بھی آئے، محسوس بھی ہو اور ہر شہری کو اس تک رسائی بھی حاصل ہو۔اب وقت آ گیا ہے کہ پولیس اصلاحات کو محض فائلوں اور اجلاسوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی میدان میں لایا جائے۔ تعیناتیوں کی پالیسی ہو یا تفتیش کا نظام، عوامی شکایات ہوں یا پولیس کا احتساب—ہر شعبے میں شفافیت کو بنیادی اصول بنایا جائے۔
ڈی پی او چکوال اگر تلہ گنگ سمیت پورے ضلع میں طویل مقامی تعیناتیوں، حساس تھانوں کی پوسٹنگز اور تفتیشی ذمہ داریوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیتے ہیں تو یہ عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔آخر میں بات صرف پولیس کی نہیں؛ بات ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی ہے۔اور یاد رکھنا چاہیے جس ریاست میں تھانے کا دروازہ مظلوم کے لیے کھل جائے، وہاں انصاف کا راستہ مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن جہاں مظلوم کو پہلے ہی دروازے پر اپنی بے گناہی ثابت کرنا پڑے، وہاں اصلاحات ناگزیر ہو جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں





