قوموں کی کایا پلٹنے والی ہستی،تحریر: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
نقطہ نظر
5 اکتوبر کو دنیا بھر میں استاذ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
یہ عالمی دن بغیر کسی رنگ ، نسل اور مذہب کے دنیا بھر کو ایک مثبت پیغام دیتا ہے کہ جہاں استاذ ہے، وہاں تعلیم و تربیت کی مشعل روشن ہے۔استاذ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں اور مختلف شعبہ جات کے سربراہان اپنے پیشہ ورانہ اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر سال پروگرامز مرتب کرتے ہیں۔انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ کچھ جگہوں میں انعام و کرام کا سلسلہ بھی ہوتا ہے ، جہاں عزت و تکریم بھی بڑھائی جاتی ہے اور معاشی طور پر سلامی بھی پیش کی جاتی ہے۔ اس امر کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اور پاکستان کے چپے چپے میں اساتذہ کے حق میں جو قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔وہ وقتی جوش سے ضرور بھرے ہوتے ہیں ، البتہ عملی طور پر ناکارہ ہوتے ہیں۔یہ نا انصافی کی کھلی تصویر ہے جسے جوش کے نعروں سے سجایا تو جاتا ہے لیکن اس کی حفاظت نہیں کی جاتی۔عالمی سطح پر ہر سال الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اساتذہ کے حقوق و فرائض پر بات چیت کی جاتی ہے۔ تجربہ کار دانشوروں کو بلا کر قوم کے معماروں کو جو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، اس کا اثر اگلی صبح کے شروع ہونے پر ختم ہو جاتا ہے۔جونھی یہ دن گزرتا ہے آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والی کہاوت پوری ہو جاتی ہے۔منشوری سپاس نامہ ملبے تلے دب جاتا ہے۔ عالمی سطح پر جو مختلف افورم اساتذہ کے حقوق تحفظ اور شاندار منصوبوں کے لیے جو آواز اٹھاتے ہیں۔وہ ارباب اختیار تک تو پہنچ جاتی ہے ، البتہ عملی جامہ سے عدم توجہ کا شکار ہو جاتی ہے۔ اقوام متحدہ اساتذہ کی عزت و وقار بڑھانے کے لیے ہر سال طرح طرح کے تھیم متعارف کرواتی ہے ۔ رواں سال جو استاتذہ کی عزت و وقار بڑھانے کے لیے جو تھیم منتخب کیا ہے اس کا عنوان کچھ یوں ہے۔
“Standing with teachers: 60 years of protecting the profession, advancing its status and shaping our futures”
“اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہونا: پیشۂ تدریس کے تحفظ، اس کے مقام کو بہتر بنانے اور اپنے مستقبل کی تشکیل کے 60 سال”
آپ تھوڑی دیر کے لیے اس بات پر ضرور غور و خوض کریں کہ زندگی بسر کرنے کے لیے ہر انسان کو کسی نہ کسی شعبہ کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔اس انتخاب کے بغیر نہ تو ترقی کی نئی راہیں کھلتی ہیں اور نہ ہی انسان کے وجود کا تشخص اجاگر ہوتا ہے۔اس حقیقت کے پس پردہ دنیا بھر میں مختلف
شعبہ جات کی بھرمار ہے۔کہیں کوئی ڈاکٹر،جج ، وکیل انجینیئر ،ترکھان ، موچی ، لوہار ، جولاہا ہے جو وقت ، پیشے اور حالات کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔
ہر کوئی اپنی عقل و بساط کے مطابق اپنے اپنے پیشے کا انتخاب کرتا ہے۔البتہ جو عزت و وقار ایک استاذ کے حصے میں آیا ہے، وہ مقام و مرتبہ کسی دوسرے شعبہ کے حصے میں نہیں آیا۔تقابل ادیان میں تو اسے روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا عزت ہو سکتی ہے؟
ارسطو کا کیا ہی خوب صورت قول ہے کہ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین تک لانے میں مددگار بنا مگر میرے استاذ نے مجھے فرش سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا دیا۔آج دنیا میں جتنی بھی تعمیر و ترقی ہوئی ہے ، طلبہ و طالبات کو تعلیم و تربیت کے زیور سے راستہ کیا ہے ، انسانیت کی پہچان بتائی ہے ، عقل و شعور بخشا ہے ، جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے، ان محرکات کے پیچھے ایک استاذ کا ہاتھ ، سوچ اور رویہ شامل ہے۔
اقوام متحدہ کے مذکورہ بالا تھیم کے تحت بہت سی باتیں زیر بحث آسکتی ہیں، خاص طور پر 21 ویں صدی میں نسل نو کے کے درمیان وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیاں کس سمت کی متمنی ہیں۔ کتابیں، معاشرے ،تجربات ، مشاہدات ، ماخذات اور حاصلات چیخ چیخ کر ہماری توجہ اس جانب مبذول کروا رہے ہیں کہ نسل نو کو کس بات کی دیمک لگ گئی ہے؟ زیادہ دیر کی بات نہیں ہے ابھی 30 یا 40 سال پرانی بات کر لیں کہ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان جو عزت و وقار کا رشتہ تھا، عصری تقاضوں میں وہ ایک گم شدہ سکے کی مانند ہے۔اس بڑھتے ہوئے فاصلے کی کئی وجوہات ، نحوستیں ، سوشل میڈیا کے اثرات ، والدین کی غفلت ، طلبہ کی عدم دل چسپی ، نصابی بوجھ اور دیگر اندھا دھند تقلیدی عناصر ہیں، جنھوں نے طلبہ و طالبات کے درمیان بے حسی کی کیفیت طاری کر رکھی ہے۔نوجوانوں کو تو معاشرے کی ریڈھ کی ہڈی سے تشبیہ دی گئی ہے کیوں کہ ریڈھ کی ہڈی کو پورے جسم کا وزن اٹھانا ہوتا ہے۔یھی وصف و وزن ایک استاذ کی نفسیات کے ساتھ نتھی ہے۔
دنیا بھر میں اساتذہ کے کچھ حقوق و فرائض ہیں۔
اگر خدانخواستہ ان کے درمیان عدم توازن پیدا ہوتا ہے تو بگاڑ کی کئی بدروحیں ، شکلیں اور پچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا جائے اور کچھ قوانین کا جائزہ لیا جائے تو وہ اساتذہ پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ مار نہیں پیار جیسے قوانین نے اساتذہ کی عزت و تکریم کو پاؤں تلے کچل دیا ہے۔اب اساتذہ بے بس ہیں ، طلبہ نقل و حرکت میں۔ یہ ایک ایسا پچیدہ عمل ہے جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔اس ضمن میں کیا کہا جائے
کہیں استاذ اپنے فرائض میں غفلت کا متقاضی نظر آتا ہے تو کہیں ادارے حقوق کی پامالی کے مرتکب۔اس معاشرے میں اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے جہاں ایک مزدور کی تنخواہ تو 40 یا 50 ہزار ہے جب کہ استاذ کے حصے میں پرائیویٹ سیکٹر 10 ہزار سے لے کر 25 یا 30 ہزار روپے کی ماہانہ اجرت ہے۔ بلکہ کئی اسکولوں، جگہوں ، مقامات اور علاقوں میں یہ حالت تو اس سے بھی ابتر ہے۔ اس سے بڑھ کر ایک استاذ کے لیے اور کیا شرمندگی ہو سکتی ہے کہ اس کی اجرت ایک بھکاری سے بھی کم ہو گئی ہے۔ایک استاذ کی معاشی حالت بیان کرتے ہوئے زخموں پہ نمک چھڑکنے جیسا رد عمل ہے جو چیخنے اور رونے پر مجبور کرتا ہے۔ آج اساتذہ کی بھرتی کرنے کا عمل ، تنخواہوں کا تعین ، اخلاقی ضابطہ ایک معمہ بن چکا ہے۔ یونیورسٹیز سالانہ بنیادوں پر ہزاروں اساتذہ کو تربیتی ڈگریاں بانٹ رہی ہیں۔ جب کہ روزگار کے حصول میں اس قدر دشواری ہے جیسے آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔یہ کوئی اتفاقیہ امر تو نہیں ہے بلکہ اس کوتاہی کے پیچھے ایک تسلسل کا ناکام پھندہ ہے۔
آج تھوڑا سا وقت نکال کر اس عظیم ہستی کے بارے میں ضرور سوچیں جس نے آپ کا بچپن اور جوانی تابناک مستقبل کے لیے تیار کیا۔ اس عالمی دن پر اس بات کو ضرور سوچیں بلکہ دل سے رجوع لائیں ، خراج تحسین پیش کریں ، تحفظ فراہم کریں ، حقوق کا خیال رکھیں تب ہی ایک سچے خواب کی تکمیل ہوگی بلکہ منفی قوتوں کے تدارک کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر پالیسی ساز اداروں نے استاذ کی قدر نہ کی تو قوم و ملت کے بچے معاشرتی طور پر تعلیم تربیت کے زیور سے محروم ہو جائیں گے۔
مزید پڑھیں




