سکون کیوں نہیں، آخر سکون کہاں ہے؟تحریر: سید آزاد گیلانی
نقطہ نظر
ہم نے زندگی سے تقریباً ہر مشکل نکال دی، مگر زندگی سے بےسکونی نہیں نکال سکے۔ موبائل نے فاصلے ختم کردئیے ،مشینوں نے محنت کم کردی، سہولتوں نے وقت بچا دیا، مگر عجیب بات ہے کہ انسان کے پاس وقت بھی کم ہے اور اطمینان بھی۔
سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا کچھ ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود سکون کیوں نہیں؟
ہماری ایک بڑی بیماری یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی سے ناپنے لگے ہیں۔ کسی کا گھر بڑا ہے تو اپنا چھوٹا لگتا ہے، کسی کی گاڑی نئی ہے تو اپنی پرانی محسوس ہوتی ہے، کسی کی کامیابی نظر آ جائے تو اپنی برسوں کی محنت معمولی دکھائی دینے لگتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس احساسِ محرومی کو اور گہرا کردیا ہے۔ وہاں ہر شخص اپنی زندگی کا خوب صورت ترین منظر دکھاتا ہے اور ہم اپنی زندگی کے مشکل ترین لمحے سے اس کا موازنہ شروع کردیتے ہیں۔
پھر خواہش کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ انسان کہتا ہے: بس یہ مل جائے تو سکون ہوگا۔ وہ مل جاتا ہے تو اگلی چیز سامنے آجاتی ہے۔ یوں ضرورت خواہش بنتی ہے، خواہش عادت بنتی ہے اور عادت بے چینی۔
ہم چیزیں جمع کرتے رہے، سکون نہیں ،
ہم نے آرام کو سکون سمجھ لیا۔ مہنگا بستر آرام دے سکتا ہے، سکون نہیں؛ بڑی گاڑی سفر آسان کرسکتی ہے، دل کی بے قراری ختم نہیں کرسکتی؛ دولت امکانات بڑھا سکتی ہے، اطمینان خرید نہیں سکتی۔ اسی لیے دنیا کے وسائل بڑھنے کے باوجود انسان کا اندر خالی ہوسکتا ہے۔
سکون دراصل مسائل کی عدم موجودگی کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کا ہر صاحبِ ثروت انسان پرسکون اور ہر کم وسائل والا شخص بے سکون ہوتا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سکون اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان مشکل کے باوجود اپنے اندر بکھرتا نہیں۔
آج ہمارا ذہن مسلسل شور میں ہے۔ خبر، تبصرہ، بحث، مقابلہ، تشہیر، شکایت اور توقع—ہر طرف آوازیں ہیں۔ ہم چند لمحے خاموش بیٹھنے سے بھی گھبراتے ہیں، کیونکہ خاموشی میں انسان کو دوسروں سے نہیں، خود سے گفتگو کرنا پڑتی ہے۔ شاید اسی لیے ہم تنہائی سے نہیں بلکہ اپنے اندر کے شور سے بھاگتے ہیں۔
قرآن نے دل کے اطمینان کا راستہ اللہ کے ذکر سے جوڑا ہے۔ یہ محض مذہبی نصیحت نہیں؛ انسان کے باطن کی ایک بنیادی حقیقت بھی ہے۔ انسان صرف جسم نہیں؛ اس کے اندر ایک باطن بھی ہے۔ جسم کو خوراک چاہیے تو روح کو مقصد، تعلق اور یقین چاہیے۔ جب زندگی کا رخ صرف کمانے، دکھانے اور آگے نکلنے تک محدود ہوجائے تو انسان بظاہر کامیاب اور اندر سے شکستہ ہوسکتا ہے۔
ہمیں سکون کے لیے دنیا چھوڑنے کی نہیں، دنیا کو اس کی صحیح جگہ دینے کی ضرورت ہے۔ مال کمائیں، مگر مال کو مقصدِ زندگی نہ بنائیں۔ ترقی کریں، مگر دوسروں سے مقابلہ کرکے اپنی قدر متعین نہ کریں۔ اولاد کے مستقبل کی فکر کریں، مگر ان کے لیے اپنی موجودہ زندگی قربان نہ کردیں۔ رشتے رکھیں، مگر ہر رشتے سے اپنی خواہشوں کی تکمیل نہ چاہیں۔
شاید ہمیں سکون کہیں باہر تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنے، غیر ضروری خواہشوں کو قابو کرنے، رشتوں کو وقت دینے، شکر کو عادت بنانے اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
آخر سکون کہاں ہے؟
شاید وہ اسی لمحے ہمارا منتظر ہے جب ہم دنیا سے مقابلہ کرنا چھوڑ کر اپنے نفس سے مقابلہ شروع کردیں گے؛ جب ہمارے پاس موجود نعمتیں، ہمارے پاس نہ ہونے والی چیزوں سے زیادہ اہم ہوجائیں گی؛ اور جب ہم یہ سمجھ لیں گے کہ زندگی کا مقصد ہر خواہش پوری کرنا نہیں، بلکہ جو ملا ہے اسے صحیح مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے دل کو مطمئن رکھنا ہے۔
سکون شاید کسی جگہ کا نام نہیں؛ یہ ایک درست طرزِ زندگی کا حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں سکون قلب نصیب فرمائے۔ آمین
مزید پڑھیں





