Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سستی شہرت کی قیمت اور پامال ہوتی عزتِ نفس،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

آج کا انسان ایک ایسے عجیب و غریب دور سے گزر رہا ہے جہاں زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضرورتوں سے زیادہ اہمیت انٹرنیٹ پر ملنے والی توجہ اور لوگوں کی داد کو دی جا رہی ہے۔ کسی دور میں معاشرے میں نام کمانے، عزت پانے اور مشہور ہونے کے لیے برسوں کی محنت، لگن، اعلیٰ تعلیم اور کسی خاص ہنر کی ضرورت ہوتی تھی۔ لوگ اپنے کام میں مہارت حاصل کرنے کے لیے زندگیاں وقف کر دیتے تھے، تب جا کر کہیں معاشرہ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ لیکن آج کے اس جدید دور نے کامیابی اور شہرت کا معیار ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب مشہور ہونے کے لیے آپ کو کسی علم، پختہ سوچ یا ہنر کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف ایک ایسے تماشے کی ضرورت ہے جو انٹرنیٹ کی دنیا میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہمارے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔اگر آپ روزانہ انٹرنیٹ کی دنیا کا رخ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر دوسرا شخص ایک نیا تماشہ لگا کر بیٹھا ہے۔ کوئی سڑک کے بیچوں بیچ عجیب و غریب اور خطرناک حرکتیں کر رہا ہے، کوئی بلاوجہ کسی راہ چلتے معصوم انسان کا مذاق اڑا کر اسے ذلیل کر رہا ہے، تو کوئی محض چند لوگوں کی توجہ پانے کے لیے اپنے گھر کی چار دیواری کے راز اور خاندانی جھگڑوں کو چوراہے پر بیچ رہا ہے۔ مشہور ہونے کا یہ جنون اب ایک ایسی ذہنی بیماری کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جو ہمارے معاشرے کو تیزی سے اخلاقی پستی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس دوڑ میں شامل لوگوں کو نہ تو سچ اور جھوٹ کی تمیز باقی رہی ہے اور نہ ہی اپنی عزت اور بے عزتی کا کوئی خوف رہا ہے۔ وہ بھول چکے ہیں کہ حیا اور غیرت انسان کا اصل زیور ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بھی اب ان ہی سستی اور سطحی چیزوں کو زیادہ پسند کرنے لگا ہے۔ جو جتنا بڑا تماشہ کرتا ہے، اسے اتنے ہی زیادہ لوگ دیکھتے ہیں، اور یہی لوگوں کی توجہ اس کے لیے پیسے اور سستی شہرت کا ذریعہ بنتی ہے۔ ہم ایک ایسے چکر میں پھنس چکے ہیں جہاں برائی اور بے ہودگی کو جتنا زیادہ دیکھا جاتا ہے، اسے بنانے والے کو اتنا ہی زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو شہرت کسی مثبت کام، دیانت دارانہ محنت یا سچے ٹیلنٹ کے بغیر ملتی ہے، وہ جتنی جلدی آتی ہے اتنی ہی جلدی غائب بھی ہو جاتی ہے۔ چند دنوں یا ہفتوں کے بعد لوگ اس چہرے کو بھول جاتے ہیں اور کسی نئے تماشے کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں، لیکن اس چکر میں جو اخلاقی نقصان اور عزتِ نفس کی پامالی ہوتی ہے، اس کا ازالہ زندگی بھر ممکن نہیں ہوتا۔ انسان اپنی ہی نظروں میں گر جاتا ہے۔

ہمیں اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر ایک بار ضرور ٹھنڈے دماغ سے سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں یہ سکھا رہے ہیں کہ پیسہ اور شہرت کمانے کے لیے اخلاقیات، خاندانی اقدار اور اپنی غیرت کی قربانی دینا جائز ہے؟ اگر آج کا بچہ یہ دیکھے گا کہ پڑھ لکھ کر اور محنت کر کے عزت کمانے والے پیچھے رہ گئے ہیں اور انٹرنیٹ پر تماشہ کرنے والے راتوں رات امیر اور مشہور ہو رہے ہیں، تو وہ کتاب چھوڑ کر تماشے کا حصہ بن جائے گا۔ یہ رجحان کسی بھی زندہ معاشرے کے لیے ایک خاموش زہر کی مانند ہے جو اس کی فکری اور اخلاقی موت کا سبب بنتا ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اس ذہنی پستی اور اخلاقی دلدل سے نکلے، تو سب سے پہلی ذمہ داری ہم پر بطور ناظر عائد ہوتی ہے۔ ہمیں انٹرنیٹ پر دکھائے جانے والے ان سستی شہرت کے تماشوں کو پسند کرنا اور دوسروں کے ساتھ بانٹنا بند کرنا ہوگا۔ جب تک ہم ان چیزوں کو دیکھنا بند نہیں کریں گے، تب تک یہ تماشے بند نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنی ہوگی اور انہیں یہ باور کروانا ہوگا کہ حقیقی کامیابی راتوں رات مشہور ہونے میں نہیں، بلکہ مستقل مزاجی، علم اور اپنے سچے ہنر پر بھروسہ کرنے میں ہے۔ عزتِ نفس اور خاندانی وقار وہ سرمایہ ہے جسے چند لوگوں کی عارضی توجہ کی خاطر کبھی بھی داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم سستی شہرت کے اس سیلاب کے آگے بند باندھیں گے اور اپنے معاشرے میں علم، ادب اور حقیقی ہنر کو وہ مقام واپس دلائیں گے جس کا وہ حقدار ہے۔