Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایس ڈی پی آئی اور ورڈینشیا گلوبل میں معاہدہ، کاربن اخراج رپورٹنگ بہتر بنانے پر اتفاق



اسلام آباد: پاکستان کے برآمدی شعبے، صنعتوں اور کاروباری اداروں میں ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی معیارات (ای ایس جی) سمیت کاربن اخراج کی رپورٹنگ کو بہتر بنانے کے لیے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اسلام آباد (ایس ڈی پی آئی) اور ورڈینشیا گلوبل کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوگئے ہیں۔ مفاہمت کی یادداشت کے تحت مقامی اداروں کی استعداد کار بڑھانے، کم لاگت رپورٹنگ نظام متعارف کرانے اور کاروباری شعبے کو عالمی پائیداری کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دونوں ادارے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ مفاہمت کی یادداشت پر ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر شفقت منیر احمد اور ورڈینشیا گلوبل کی چیف ایگزیکٹو آفیسر فاطمہ باجوہ نے اپنے اپنے اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے دستخط کیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان پہلے سے جاری رابطوں اور پائیداری و ماحولیاتی تبدیلی جیسے مشترکہ شعبہ کار کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورڈینشیا گلوبل کاروباری سرگرمیوں میں پائیداری جبکہ ایس ڈی پی آئی ترقی کے عمل میں پائیداری کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے، اس لیے دونوں اداروں کے درمیان تحقیق، تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری اداروں کے درمیان ای ایس جی رپورٹنگ کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاہم اس مقصد کے لیے دستیاب سافٹ ویئر اور نظام انتہائی مہنگے ہیں اور ان کی سالانہ لاگت تقریباً 30 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کم لاگت اور آسان رپورٹنگ نظام تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ورڈینشیا گلوبل کی چیف ایگزیکٹو آفیسر فاطمہ باجوہ نے کہا کہ ان کا ادارہ کاروباری اداروں کو ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی تقاضوں کی تکمیل اور پائیدار کاروباری طریقہ کار اپنانے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں کاروباری اداروں کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی مکمل اور قابل اعتماد رپورٹنگ کا نظام ضروری ہوچکا ہے، تاہم پاکستان اس شعبے میں ابھی پیچھے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی عالمی کمپنیاں اپنے مقامی سپلائرز سے بھی پائیداری کے تقاضے پورے کرنے کی توقع رکھتی ہیں، جس کے لیے چھوٹے کاروباری اداروں کو بھی تربیت اور مخصوص افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ فاطمہ باجوہ نے ایس ڈی پی آئی کے مرکز برائے تعلیم و ترقی (سی ایل ڈی) کو اس مقصد کے لیے موزوں شراکت دار قرار دیا۔ ایس ڈی پی آئی کی ریسرچ ایسوسی ایٹ رومیلا قمر نے کہا کہ یہ مفاہمت کی یادداشت دونوں اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں مشترکہ سرگرمیوں کے نئے راستے تلاش کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔