Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سوچ کے ڈمپر اور ہم،تحریر : کلثوم افتخار

نقطہ نظر

ایک ضروری کام سے اسلام آباد جانا ہوا ڈمپروں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر راقمہ کو خیال سوجھا کیوں نہ ڈمپر مالکین کے تاثرات قلمبند کیے جائیں۔ چونکہ مصروفیات کی بناء پر یہ ملاقات ممکن نہیں تھی ۔ اس لیے مزید تحقیق کرنا شروع کی ڈمپر والوں کی زندگی اور ان کے حالات و واقعات کا جائزہ لینا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ کہیں ہمارا زاویہ نگاہ بھی ڈمپر جیسا تو نہیں ہوتا جارہا ہے۔ جب چاہا سوچ کے ڈمپر عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے سجا دئیے ۔ ۔ جب چاہا سوچوں نے احتجاج کرتے ہوئے کام کاج کرنے سے انکار کر دیا ۔

جب چاہا عزیز رشتے داروں کو معمولی اختلافات کی بنیاد پر الفاظ کے ڈمپروں کے ذریعے رکاوٹیں کھڑی کرکے میل جول سے منع کر دیا اور جب چاہا سوچوں کے ڈمپروں سے آزاد کرکے دل وا کر دئیے۔ ۔ مطلب ہواتو گدھے کو سر پر بٹھا لیا۔ اور کام نکلتے ہی ڈمپروں کے ڈھیر کھڑے کر دئیے۔ کچھ عرصہ پہلے تک کہتے تھے ہماری سوچ غلامانہ ہے اور اب ہماری سوچ کے زاویے بھی ڈمپر نما ہو گئے ہیں سماجیات کے ماہر کے طور پر بات کروں تو لمحہ فکریہ یہ ہے کہ غلاموں کی پھر بھی کوئ سوچ کوئ فکر ہوتی ہے بھلے وہ پیٹ بھرنے کی ہی ہو لیکن یہاں تو حساب ہی الٹا ہے ۔ یہاں پیٹ بھرنے سے زیادہ نیت بھرنے کا معاملہ ہے ۔دل و نگاہ ڈمپر بن چکی ہے۔ نفرت کے ڈمپر ۔ علاقائی تعصب کے ڈمپر۔ خواہ مخواہ کی غیرتوں کے ڈمپر۔ جھوٹ اور بے ایمانی کے ڈمپر ۔ اخلاقی اقدار کے ڈمپر ۔ تیزرفتاری کے ڈمپر۔ اور ان ڈمپروں میں گھرے ہم لوگ ۔ جو خود کو ان ڈمپروں کی موجودگی میں لاچار اور مجبور سمجھتے ہیں اور اتنے انکے عادی ہو چکے ہیں کہ ان ڈمپروں کو عبور کرنے کا سوچ کر ہی ٹانگیں کانپنے اور اعصاب شکن ہو جاتے ہیں۔ سوچ رکھنے لگتی ہے اور لگتا ہے یہ ڈمپر ہٹاتے ہٹاتے زندگانی بیت جائے گی لیکن۔ یہ رکاوٹیں جو عارضی ہیں ہٹ نہ پائیں گیں۔

ہم سوچتے ہیں تعلقات نہیں بن رہے ہیں بلکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اپنی ذات میں منفی سوچ کو ڈمپر بنا رکھا ہے۔ احتجاج سیاست نظریہ سوچ فکر ہر معاشرے کی ضرورت ہیں لیکن بحیثیت قوم ہم نے ڈمپر سوچ کو ہی اپنی ذات کا حصہ بنا لیا ہے ۔ کوئ پیار سے اپنا مسئلہ بیان کرنا ہی نہیں چاہتا تو کوئ پیار سے سننا ہی نہیں چاہتا ۔ والدین اولاد کی خوشیوں کے راستے میں ڈمپر بنے کھڑے ہیں تو اولاد والدین کی فرمانبرداری اور عزت بھول کر ڈمپر بن چکی ہے۔ہمیں اس وقت تازہ ہوا کے جھونکے کی ضرورت ہے۔ جو دل و دماغ کو تر و تازہ کر دے کدورتیں دور کرنے کی ضرورت ہے ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے ۔ گفت و شنید سے ہی باہمی مسائل حل۔ہو سکتے ہیں ۔ ۔ڈمپر سوچ سے نکلنے کےلئے دلوں میں رکھے ہوئے ڈمپر ز کو دل سے نکال پھینکنا ہے تبھی دل کی ٹریفک بھی پُرسکون چلے گی ورنہ ہر روز ٹریفک کا شور اور رش ہماری سوچوں کو بھی بلاک کر دے گااور من حیث القوم آگے بڑھنے کا راستہ رک جائے گا ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر ہم راستہ تلاش ہی کرتے رہ جائے ۔ ڈمپر تجارت کےلئے مفید ہیں اور احتجاج کرنا اور احتجاج ریکارڈ کروانا اور نظریاتی اختلاف کو بیان کرنا رائے دینا ۔عوام کے فائدے کی بات کرنا بہت ضروری ہے لیکن ڈمپر سوچ کو ہی پیش کرنا اور عمل۔پیرا ہونا معاشرے کے ٹوٹ پھوٹ کی پہلی دستک ہے ۔