سوشل میڈیا پر اصلی چہرے،تحریر: اقصیٰ وحید
نقطہ نظر
آج کی دنیا میں سوشل میڈیا ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ہر شخص اپنی تصاویر، خیالات اور لمحات دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے میں مصروف ہے۔ لیکن کیا جو کچھ ہم سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں، وہ واقعی حقیقت ہے؟
جب ہم فیس بک، انسٹاگرام یا دیگر پلیٹ فارمز کھولتے ہیں تو ہمیں خوبصورت تصاویر، کامیاب زندگیاں، اور مسکراتے چہرے نظر آتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی زندگی کو بہترین انداز میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اس چمکتی دنیا کے پیچھے ایک تاریک سچائی چھپی ہوتی ہے۔حقیقت میں، سوشل میڈیا پر لوگ صرف اپنی زندگی کے منتخب لمحات شیئر کرتے ہیں۔ وہ لمحات جو کامل نظر آئیں، جن میں خوشی ہو، جن سے دوسرے متاثر ہوں۔ کوئی اپنی ناکامیاں، مایوسیاں یا اداسیاں شیئر نہیں کرتا۔ یہ ایک فلٹر شدہ حقیقت ہے جہاں صرف اچھے پہلو دکھائے جاتے ہیں۔یہ رویہ معاشرے میں ایک نئی قسم کی ذہنی بیماری کو جنم دے رہا ہے۔ نوجوان نسل دوسروں کی مصنوعی زندگیوں سے اپنا موازنہ کرتی ہے اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے۔ جب ہم دوسروں کو ہمیشہ خوش اور کامیاب دیکھتے ہیں تو اپنی عام زندگی ناکافی لگنے لگتی ہے۔
لوگ لائکس اور کمنٹس کی تعداد سے اپنی قدر و قیمت جوڑنے لگے ہیں۔ اگر کسی پوسٹ پر کم لائکس آئیں تو احساس محرومی ہوتا ہے۔ یہ مصنوعی تصدیق کی ضرورت انسان کی فطری خود اعتمادی کو ختم کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں ہر کوئی اداکار بن گیا ہے۔ لوگ حقیقی زندگی جینے کی بجائے دکھاوے کی زندگی جینے میں مصروف ہیں۔ کھانا کھانے سے پہلے اس کی تصویر لینا، کسی خوبصورت جگہ پر جانے کا مقصد سیلفیاں لینا بن گیا ہے۔ اصل چہرے وہ ہیں جو ہم رات کو تکیے سے لگاتے ہیں، جن میں خوف، پریشانیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ لیکن یہ چہرے سوشل میڈیا پر کبھی نظر نہیں آتے۔ وہاں تو صرف ماسک پہنے ہوئے چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو اپنی زندگی کا محور بنانے سے گریز کریں اور حقیقی رشتوں، حقیقی خوشیوں اور حقیقی زندگی کی قدر کریں۔





