سہیل آفریدی سیر سپاٹوں میں مصروف، خیبرپختونخوا 2 دن سے لاوارث، عظمیٰ بخاری

لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں طبی عملہ احتجاج اور ہڑتالیں کر رہا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی کابینہ سمیت لاہور میں سیر سپاٹے کر رہے ہیں۔ عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کر رہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں میڈیکل اسٹور ایسوسی ایشن کی ہڑتال بھی الگ سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں مریض اور ان کے لواحقین مشکلات کا شکار ہیں اور علاج معالجے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ وزیر اطلاعات پنجاب کے مطابق گومل یونیورسٹی کے عملے کا احتجاج بھی جاری ہے، جس سے صوبے میں جاری احتجاجی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا عملی طور پر دو دن سے لاوارث ہے، جبکہ صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے دیگر معاملات میں مصروف ہے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی اپنی مرضی سے لاہور کے لکشمی چوک کے فٹ پاتھ پر بیٹھیں تو اسے خیبرپختونخوا کے خلاف سازش قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ڈاکٹرز، میڈیکل اسٹورز اور اساتذہ احتجاج اور ہڑتال کر رہے ہیں، لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ لاہور کی ترقی دیکھنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ نے اگر لاہور کی ترقی دیکھ لی ہے تو اب انہیں واپس اپنے صوبے کا حال معلوم کرنا چاہیے اور خیبرپختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ وزیر اطلاعات پنجاب نے خیبرپختونخوا حکومت پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں نااہلی، نالائقی اور کرپشن چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ خیبرپختونخوا چور اچکوں کے رحم و کرم پر ہے۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ صوبے کے وزیراعلیٰ کو اپنے عوام کے مسائل سے زیادہ اڈیالہ جیل کے قیدی کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو صوبے میں جاری احتجاج، ہڑتالوں اور عوام کو درپیش مشکلات پر توجہ دینی چاہیے۔





