رات کا اندھیرا ابھی پوری طرح چھٹا نہ تھا۔ گاؤں کی گلیاں سنسان تھیں، کھیت خاموش تھے، اور ہر طرف ایک عجیب سا سکوت طاری تھا۔ صرف جھینگروں کی ہلکی سی آواز فضا میں گونج رہی تھی۔ گاؤں کے بیچوں بیچ ایک پرانا اور بلند نیم کا درخت کھڑا تھا، جس کی گھنی شاخیں برسوں سے پرندوں کا مسکن تھیں۔
اسی درخت کی ایک نازک شاخ پر ایک چھوٹی سی گوریا آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔ وہ باقی پرندوں سے پہلے جاگنے کی عادی تھی، جیسے قدرت نے اسے یہ ذمہ داری سونپ رکھی ہو۔ آسمان کے مشرقی کنارے پر ابھی ایک ہلکی سی، مدھم سی سرخی نمودار ہونا شروع ہوئی تھی، ستارے دھیرے دھیرے ماند پڑ رہے تھے، اور ہوا میں ایک تازگی سی گھلنے لگی تھی۔
گوریا نے یہ سب محسوس کیا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں آہستہ سے کھلیں۔ اس نے اپنے پروں کو ہلکا سا پھیلایا، پھر سکیڑا، جیسے نیند کی کسلمندی اتار رہی ہو۔ چند لمحے وہ یونہی خاموش بیٹھی رہی، صبح کی خنک ہوا کو محسوس کرتی رہی۔
پھر اچانک، جیسے کسی نے اندر سے اشارہ دیا ہو، اس نے اپنی چونچ اوپر اٹھائی اور ایک نرم، میٹھی سی چہچہاہٹ فضا میں بکھیر دی۔ "چیں چیں چیں!" یہ آواز اتنی نازک تھی کہ ابتدا میں بس ہوا کے جھونکے میں گھل کر رہ گئی، مگر گوریا نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے دوبارہ آواز بلند کی، اس بار تھوڑی زور دار، جیسے کہہ رہی ہو: "اٹھو! صبح ہونے والی ہے! سورج جاگنے کو ہے!"
اس کی آواز نے قریب ہی بیٹھے ایک کوّے کو بیدار کر دیا۔ کوّے نے آنکھیں مَلتے ہوئے ایک آنکھ کھولی، پھر دوسری، اور بےزاری سے "کائیں کائیں" کر کے اپنا حصہ ڈالا۔ اس کی بھاری آواز نے قریبی چھت پر بیٹھے کبوتروں کو چونکا دیا۔ کبوتروں نے "گٹر غوں، گٹر غوں" کی سریلی گونج بلند کی۔ آہستہ آہستہ، جیسے کسی نے سگنل دیا ہو، پورا درخت زندہ ہو اٹھا۔ بلبلیں، مینائیں، طوطے سب اپنی اپنی آواز میں گانے لگے۔ یہ ایک عجیب مگر خوبصورت شور تھا، جیسے قدرت کا اپنا آرکسٹرا صبح کے استقبال کے لیے سج گیا ہو۔
یہ میٹھی چہچہاہٹ دھیرے دھیرے گاؤں کی تنگ گلیوں میں پھیلنے لگی۔ کھڑکیوں کے پٹ ہلکے سے کھڑکنے لگے۔ ایک بوڑھے کسان نے اپنے کچے مکان کی لکڑی کی کھڑکی کھولی اور باہر جھانکا۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا۔ اس نے درخت کی طرف دیکھا، مسکرایا، اور آہستہ سے بڑبڑایا: "چڑیا نے پھر جگا دیا۔ وقت ہو گیا کھیتوں کی طرف جانے کا۔" اس نے اپنی پگڑی سنبھالی، ہل اٹھایا، اور دروازے سے باہر نکل گیا۔
اسی گلی کے ایک اور گھر میں، ایک چھوٹا بچہ اپنے بستر پر کروٹیں لے رہا تھا۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ اس کے کانوں تک پہنچی۔ اس نے نیم غنودگی میں آنکھیں کھولیں، مسکرایا، اور دل ہی دل میں سوچا: "چڑیا پھر آ گئی جگانے۔" مگر ابھی نیند کی مٹھاس باقی تھی، سو اس نے کروٹ بدلی اور کمبل مزید اوپر کھینچ لیا، یہ سوچتے ہوئے کہ چڑیا کیسے بغیر کسی گھڑی کے، بغیر کسی الارم کے، ہر روز عین وقت پر جاگ جاتی ہے اور سب کو جگا دیتی ہے۔
اِدھر باورچی خانے میں ایک عورت چولہا سلگا رہی تھی۔ اس نے بھی چڑیوں کی آواز سنی اور اپنے کام میں مزید تیزی لے آئی، جانتی تھی کہ صبح کا ناشتہ وقت پر تیار ہونا ضروری ہے۔ مسجد کے مینار سے اذان کی صدا بھی اب بلند ہونے لگی تھی، اور چڑیوں کی چہچہاہٹ اس مقدس آواز میں یوں گھل مل گئی جیسے دونوں مل کر ایک ہی پیغام دے رہی ہوں — بیداری کا، امید کا، نئے آغاز کا۔
آسمان پر سرخی اب گہری ہونے لگی تھی۔ افق کے پیچھے سے سورج کی پہلی کرن جھانکنے کو بے تاب تھی۔ ہلکی سنہری روشنی نے نیم کے پتوں کو چھونا شروع کر دیا۔ چڑیا نے، جو اس پوری صبح کی نقیب بنی تھی، ایک آخری بار زور سے چہچہائی، جیسے اپنے فرض کی تکمیل کا اعلان کر رہی ہو۔ پھر وہ خاموش ہو کر بیٹھ گئی، اپنے پروں کو سمیٹا، اور سورج کی پہلی کرن کے طلوع ہونے کا منتظر ہو گئی۔
اس کا کام مکمل ہو چکا تھا۔ نہ کسی شور کے ساتھ، نہ کسی جلدی کے ساتھ — بس ایک نرم، میٹھی، امید سے بھرپور آواز کے ساتھ اس نے پورے گاؤں کو نیند کی وادی سے نکال کر ایک نئے دن کی روشنی میں قدم رکھنے کی دعوت دی تھی۔
اور یوں، ہر صبح، جب دنیا اندھیرے سے اجالے کی طرف سفر کرتی، وہی چھوٹی سی گوریا سب سے پہلے جاگتی، اور اپنی معصوم آواز سے پورے گاؤں کو یاد دلاتی کہ زندگی نے ایک اور موقع دیا ہے، ایک اور نیا دن امید، محنت اور خوشی سے بھرپور۔
مزید پڑھیں






