Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تلخ لفظوں کی تپش،تحریر: ایس اے شازِم

نقطہ نظر
s a shazim

الفاظ بظاہر چند حروف کا مجموعہ ہوتے ہیں مگر ان کے اندر جذبات کا ایک پورا جہان آباد ہوتا ہے۔ کبھی یہی الفاظ مرہم بن کر دل کے زخموں کو سکون دیتے ہیں اور کبھی ان کی تلخی روح کی گہرائیوں تک اُتر کر انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ زبان سے ادا ہونے والا ایک نرم جملہ کسی مایوس انسان کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے، جبکہ ایک سخت لفظ کسی کے دل میں برسوں تک درد کی صورت زندہ رہ سکتا ہے۔

ہم اکثر غصے کی شِدّت میں ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جن کی سنگینی کا احساس ہمیں اس وقت نہیں ہوتا مگر سننے والا ان کی تپش مدّتوں اپنے وجود میں محسوس کرتا رہتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ زبان سے نکلنے والے الفاظ واپس نہیں آتے لیکن ان کی بازگشت برسوں دل و دماغ میں گونجتی رہتی ہے۔

اسلام نے زبان کی حفاظت اور نرم گفتاری کو خاص اہمیت دی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:


وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا


ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔ (سورۃ البقرہ، آیت 83)


یہ مختصر مگر جامع قرآنی ہدایت ہمیں سمجھاتی ہے کہ گفتگو میں شائستگی، احترام اور نرمی اختیار کرنا محض معاشرتی آداب نہیں، بلکہ دینی تعلیمات کا بھی حصہ ہے۔ اختلافِ رائے ہو، ناراضگی ہو یا کسی کی غلطی کی اصلاح مقصود ہو، الفاظ کا انتخاب ایسا ہونا چاہیے جو بات کو سمجھائے، نہ کہ انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کرے۔


رسول اللّٰہ ﷺ نے بھی زبان کی حفاظت کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:


"جو شخص اللّٰہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔" (صحیح بخاری: 6018، صحیح مسلم: 47)


یہ حدیث ہمیں ایک اہم اصول سکھاتی ہے کہ ہر بات کہنا ضروری نہیں، اور ہر سچی بات کہنے کا انداز بھی درست نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی، تلخ جواب سے بہتر ہوتی ہے اور نرم لہجہ بڑے سے بڑے اختلاف کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ہم اپنے روز مرّہ کے تعلقات میں دیکھتے ہیں کہ رشتے ہمیشہ بڑی غلطیوں سے نہیں ٹوٹتے۔ کبھی ایک طنزیہ فقرہ، ایک تحقیر بھرا لفظ یا کسی کی بے بسی کا مذاق اڑانا برسوں کی محبت کو دھندلا دیتا ہے۔ والدین کی ڈانٹ، میاں بیوی کی تلخ کلامی، بہن بھائیوں کے درمیان طعنوں کی بوچھاڑ اور دوستوں کی محفل میں کسی کی تضحیک، یہ سب ایسے رویے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں پیدا کر سکتے ہیں۔


قرآنِ کریم میں اللّہ تعالیٰ فرماتا ہے:


وَقُلْ لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ


ترجمہ: اور میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ ایسی بات کہیں جو بہترین ہو۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت 53)


ذرا غور کیجیے! یہاں صرف اچھی بات کہنے کی نہیں بلکہ بہترین انداز اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری گفتگو میں سچّائی کے ساتھ حکمت، اختلاف کے ساتھ احترام اور اصلاح کے ساتھ خیرخواہی بھی ہونی چاہیے۔

کسی کی غلطی کی نشاندہی کرنا غلط نہیں مگر اسے سب کے سامنے ذلیل کرنا، اس کی کمزوریوں کو اچھالنا یا غصّے میں اس کی شخصیت کو نشانہ بنانا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اصلاح کا مقصد انسان کو بہتر بنانا ہوتا ہے، اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کرنا نہیں۔


رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:


"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"(صحیح بخاری: 10، صحیح مسلم: 40)


یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دوسروں کو تکلیف سے محفوظ رکھنا بھی ہمارے دینی کردار کا حصہ ہے اگر ہماری زبان دوسروں کے لیے خوف، اذیّت اور بے سکونی کا سبب بن رہی ہے، تو ہمیں اپنے رویے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

یاد رکھیے! معافی مانگ لینا اچھی بات ہے مگر اس سے پہلے اپنے الفاظ پر قابو رکھنا زیادہ بہتر ہے۔ ہر شخص کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ بعض لوگ جواب نہیں دیتے، اس لیے نہیں کہ انہیں دکھ نہیں پہنچتا بلکہ اس لیے کہ وہ رشتوں کو بچانے کے لیے اپنی تکلیف چھپا لیتے ہیں۔ ان کی خاموشی کو کمزوری سمجھنا ہماری بڑی غلطی ہو سکتی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ غصے کی حالت میں گفتگو مؤخر کر دیں، اختلاف کے وقت لہجے کو نرم رکھیں اور کسی کی عزّتِ نفس کو اپنے الفاظ کی بھینٹ نہ چڑھائیں اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ نرمی برتی جائے تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ وہی رویّہ اختیار کرنا ہوگا۔

سخت الفاظ کی تپش وقتی تو ہوتی ہے مگر ان کی تلخی بعض اوقات عمر بھر کا ذائقہ بن جاتی ہے۔ زبان سے نکلنے والے الفاظ پر اختیار رکھیے کیونکہ الفاظ کی سختی کبھی کبھی خاموشی کی ایسی دیواریں کھڑی کر دیتی ہے جن کے پار آوازیں تو پہنچتی ہیں، احساسات نہیں۔

آخر میں بس اتنا یاد رکھیے کہ ہماری زبان ہمارے کردار کی ترجمان ہے۔ اسے نفرت پھیلانے کے بجائے محبت بانٹنے، دل دکھانے کے بجائے دل جوڑنے اور رشتے توڑنے کے بجائے رشتے سنوارنے کا وسیلہ بنائیے۔ یہی اسلامی تعلیمات کی روح اور ایک اچھے معاشرے کی بنیاد ہے۔