خبر کو محض تماشہ نہ سمجھیں -
ہم ایک عجیب معاشرتی رویّے کے اسیر ہو چکے ہیں۔ ہر نیا دن ایک نئی خبر، ایک نیا سانحہ، ایک نیا شور لے کر آتا ہے اور ہم پوری شدت سے اس کے منتظر ہوتے ہیں۔ جیسے ہی خبر آتی ہے، سوشل میڈیا پر افسوس، غصہ، لعنت ملامت اور وقتی جذبات کا سیلاب امڈ آتا ہے۔ کچھ لوگ آہیں بھرتے ہیں، کچھ نعرے لگاتے ہیں، کچھ طنز کے تیر برساتے ہیں اور کچھ تالیاں بجا کر اپنی دانش مندی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ اگلے دن ایک نئی خبر آتی ہے اور پچھلی خبر، اس کے اسباب اور اس سے جڑی ہماری ذمہ داریاں سب دھندلا جاتی ہیں۔
کل جو کچھ ہوا تھا، اس پر بطورِ عوام ہماری کیا ذمہ داری بنتی تھی، ہم نے کیا سیکھا، کیا بدلا، کیا چھوڑا—ان سوالوں پر ہم کبھی ٹھہر کر غور ہی نہیں کرتے۔ ہم نے خود کو ایک ایسے تماشائی معاشرے میں تبدیل کر لیا ہے جہاں ہر سانحہ محض ایک منظر ہے اور ہر ظلم ایک وقتی خبر۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کی اخلاقی ابتری جوں کی توں ہے، بلکہ وقت کے ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ معاشرے تب نہیں بگڑتے جب برے لوگ غلط کام کرتے ہیں، بلکہ تب بگڑتے ہیں جب اچھے لوگ خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ ہم ظلم پر بولتے تو ہیں، مگر عمل سے خالی بول۔ ہم کرپشن پر لعنت بھیجتے ہیں، مگر اپنی باری آئے تو “مجبوری” کا سہارا لے لیتے ہیں۔ ہم ناانصافی کے خلاف پوسٹ تو لکھتے ہیں، مگر اپنے دائرۂ اختیار میں انصاف قائم کرنے سے کتراتے ہیں۔ یوں ہم اجتماعی سطح پر وہی بن جاتے ہیں جس کا شکوہ کرتے نہیں تھکتے۔
اس سلسلے میں ہونا تو یوں چاہیے کہ ہم خبر کو محض اطلاع نہیں بلکہ آئینہ سمجھیں۔ ہر خبر ہم سے یہ سوال کرے کہ اس میں میرا کردار کہاں ہے؟ اگر خبر بدعنوانی کی ہے تو کیا میں خود دیانت داری پر قائم ہوں؟ اگر خبر ظلم کی ہے تو کیا میں کمزور کے حق میں کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتا ہوں؟ اگر خبر اخلاقی زوال کی ہے تو کیا میری اپنی زندگی اس زوال سے پاک ہے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کل کی خبر کو آج کے عمل سے جوڑیں۔ وقتی جذبات کے بجائے مستقل رویّے اپنائیں۔ احتجاج صرف سڑکوں یا اسکرینوں تک محدود نہ ہو، بلکہ ہمارے روزمرہ فیصلوں میں جھلکے۔ ہم وہی اقدار اپنی زندگی میں نافذ کریں جن کا مطالبہ ہم ریاست، اداروں اور حکمرانوں سے کرتے ہیں۔ کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔
جب تک ہم ہر نئی خبر کو پچھلی خبر کی قبر پر کھڑا تماشا سمجھتے رہیں گے، تب تک نہ نظام بدلے گا نہ معاشرہ۔ تبدیلی اس دن آئے گی جب ہم تماشائی بننے سے انکار کریں گے، اور ہر خبر کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس پر عمل کی جرات پیدا کریں گے۔ یہی شعور زندہ قوموں کی پہچان ہے، اور یہی راستہ اخلاقی زوال سے نجات کی طرف لے جاتا ہے۔
مزید پڑھیں






