Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندی

israell

مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادی کاری کے مسئلے پر اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کے درمیان سفارتی کشیدگی شدید تر ہو گئی ہے۔

برطانوی حکومت، فرانس اور کینیڈا کی جانب سے مغربی کنارے کی بستیوں سے آنے والی آبادکاروں کی اسرائیلی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے اعلان کے بعد اسرائیل نے سخت ردعمل دیتے ہوئے مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصلیٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گڈون سار نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے برطانوی اقدام کو ”اخلاقی طور پر گمراہ کن اور اسرائیل کے اندرونی و انتخابی معاملات میں کھلی مداخلت“ قرار دیا ہے، اس کے علاوہ جیرمی کوربن سمیت متعدد برطانوی اہلکاروں اور شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

یہ تنازع اس وقت مزید بڑھا جب برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ایک مشترکہ بیان جا ری کرتے ہوئے دو ریاستی حل کی حفاظت کے لیے تجارتی اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ہم اب فلسطینیوں کی تباہی اور حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے، لہذا ہمیں سیکیورٹی اور دو ریاستی حل کی بقا کے لیے اب عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی اقدامات کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے بھی تعبیر کیا، جسے اسرائیلی و زیر خارجہ نے اشتعال انگیز جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

دوسری جانب ڈنمارک، ناروے، اسپین اور سویڈن سمیت نو دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی ایک الگ بیان میں دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اس سفارتی جنگ کے دوران کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیاں امن کے مقاصد کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، اسی لیے کینیڈا دو ریاستی حل کے موقف پر قائم ہے،تاہم اس معاملے پر امریکا نے اپنے مغربی اتحادیوں سے مختلف موقف اختیار کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پابندیاں مغربی کنارے میں حالات کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہیں، اور واشنگٹن اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمدات پر کوئی پابندی نہیں لگائے گا۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL