عمدہ اور مثبت روایت،تحریر: کنیز سسیلیا منظور
نقطہ نظر
ہر معاشرے کی مختلف روایات ہوتی ہیں۔کچھ اچھی کچھ ناپسندیدہ یا دوسرے لفظوں میں نقصان دہ۔ موقع خوشی کا ہو یا غمی کا ۔ان سے متعلق رسم و رواج کو اکثر بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے ۔چاہے پیسہ ادھار ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے کیونکہ ۔بات فورا ناک کی آجاتی ہے ۔کہ لوگ کیا کہیں گے۔حالانکہ اس ناک کو ثابت رکھنے کے چکر میں اٹھائے جانے والے قرض اور کمیٹیاں خود ہی کو ادا کرنی پڑتی ہیں۔اس کے لیے اپنا یا بچوں کا پیٹ بھی کاٹنا پڑے تو پڑے۔ہاں مگر ناک سلامت رہنی چاہئیے۔کیونکہ بقول ایسے ہی دانش وروں کے۔ کہ پیٹ میں پڑا بھلا کون دیکھتا ہے۔لہذا دکھاوے کے لئے جو بھی بھگتنا پڑے وہ سب قبول ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ روایات تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔اور اس وقت حقیقتا خوشی اور دل کو تسلی سی ملتی ہے۔کہ چلیں دیر آید درست آید ۔ہم نقصان دہ روایات پہ برائیوں پہ تو اکثر بڑھ چڑھ کر بات کرتے ہیں۔لیکن کہیں کوئ اچھی بات اچھا کام ہورہا ہو ،اچھی رویت قائم ہوتی نظر آئے تو اسے بھی ضرور سراہا جانا چاہئے۔اس پہ بات کرنی چاہئے۔تاکہ اور لوگ بھی اسے اپنا کر کسی کا بھلا کر سکیں۔
چند ہفتے پہلے کسی رشتے دار کی وفات پہ جانے کا اتفاق ہوا۔دوپہر 2 بجے کے بعد پہنچے کہ جنازے کی رسومات میں شرکت کر سکیں۔یقین جانیں وہاں پہ صرف ان کے گھر کے لوگ یا کچھ قریبی رشتے دار موجود تھے ۔شام کے وقت تک اور رشتے دار بھی آچکے تھے کچھ محلے والے بھی۔لیکن پھر بھی لوگوں کو بٹھا نے کے لئے،اور بہت زیادہ دریاں بچھانے کی ضرورت پیش نہ آئ۔
لیکن جب جنازے سے واپس آئے تب تک تقریبا پوری گلی بھر چکی تھی۔بڑوں کے ساتھ ہر عمر کے بچے بھی غم زدہ خاندان کو بھرپور پرسہ دینے کے لئے موجود تھے ۔
مجھے حیرانی بھی ہوئ اور افسوس بھی کہ ایک تو وفات پانے والے کی بیماری پہ گھر والوں کا پیسہ تو لگتا ہی ہے ۔کیوں کہ سب کی کوشش ہوتی ہے کہ جس حد تک ان سے بن پڑے۔اپنے عزیز کا علاج معالجہ کریں۔ اس کے بعد اس کے کفن دفن کے اخراجات۔اور اس میں بھی ناک کا برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔کفن دفن کے بعد چونکہ کھانے کا مرحلہ ہوتا ہے ۔کھانے میں چکن بریانی تو لازمی جز بن چکی ہے ۔اگر دنیا سے جانے والا عمر رسیدہ ہو ۔نانا اور دادا بن کر دنیا سے گیا ہو تو پھر ساتھ زردہ بھی ضرور پیش کیا جاتا ہے۔ تو ایسے میں مفت کی دعوت کون چھوڑنا چاہے گا۔لہذا پورے محلے والوں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ بمع اہل و عیال وہاں شرکت کی جائے ۔ بعض مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مرنےوالے کی عمر سے کھانے کے مینو کا واسطہ نہیں ہوتا ۔بلکہ وہ گھر والوں کے رتبے اور دولت کی نمائش کا موقع ہوتا ہے ۔کہ بجائے صرف پلاو یا بریانی کے ۔باقاعدہ بوفے قسم کے کھانے کا اہتمام کیا جاتا ۔یعنی مختلف ڈشز پیش کی جاتی ہیں۔ تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ جانے والا کس خاندان سے تھا۔
کوئ یہ بتائے کہ گزر جانے والے کو اس دکھاوے سے بھلا کتنا فائدہ ہوتا ہو گا ۔البتہ کھانے والے کھا کر منہ پونچھ کر ۔سر جوڑے اس پہ تنقید اور تعریف کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے اور بخوبی نبھاتے ہیں۔ کوئ کہہ دیتا ہے "لو بھلا وفات پہ اس قدر اہتمام کی کیا ضرورت تھی۔"کوئ کھانے سے متاثر ہو کر چپکے چپکے واہ واہ بھی کر دیتا ہے۔
اس وقت دل بہت دکھتا ہے جب اپ کسی کو جانتے ہوں۔کہ جیتے جی بیٹوں بہووں نے بریانی تو دور کبھی ڈھنگ سے دو وقت کی روٹی تک نہ دی ہو۔لیکن اسی کی فوتگی کے کھانے میں چکن بریانی کی دیگیں کھلائ جائیں ۔کیونکہ لوگ کیا کہیں گے۔سمجھ یہ نہیں اتا کہ جب وہاں ماں یا باپ ایک دو روٹی کے لئے بچوں طرف دیکھتے کہ اج کون دے گا ۔اس وقت لوگ کیوں کچھ نہیں کہتے؟ اس وقت لوگ کہاں ہوتے ہیں؟ تب کسی کو نظر کیوں نہیں اتا؟
خیر بات اچھی روایت کی تھی تو حال ہی میں پتہ چلا کہ اورنگی ٹاون کے علاقے میں کچھ عرصے سے بڑی مثبت روایت قائم کی گئی ہے ۔کہ فوتگی والے گھر میں جب کفن دفن کے بعد کھانے کا وقت ہوتا ہے وہاں پادری صاحب یا فادر صاحب جو بھی جنازے کی مذہبی رسومات ادا کرتا ہے ۔کھانے کے لئے دعا کے ساتھ باقاعدہ اعلان کرتا ہے۔ کہ بہنو بھائیو ! براے مہربانی محلے کے تمام لوگ اپنے اپنے گھر تشریف لے جائیں۔تاکہ دور سے ائے ہوے رشتے دار اور خاندان کے لوگوں کو کھانا دیا جا سکے ۔سچ میں یہ مثبت رویہ اور اچھی روایت کےمتعلق جان کر بہت اچھا لگا ۔کہ چلیں کوئ بارش کا پہلا قطرہ تو بنا ۔ کسی غلط رسم پہ بندھ باندھنے کا آغاز تو ہوا۔
خدا سے دعا ہے کہ ہمارے معاشرے سے بری اور نقصان دہ روایات کا خاتمہ ہو۔اور ہم سب ایک دوسرے کی بھلائ کا سوچیں اور نہ صرف سوچیں ،چھوٹا سہی کوئ عملی قدم ضرور اٹھاتے رہیں۔
دعائیں اور نیک تمنائیں۔
مزید پڑھیں




