Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امت مسلمہ کو درپیش فتنے،تحریر:ایس اے شازم

نقطہ نظر
s a shazim

دنیا کی تاریخ کو کھول کر اگر مطالعہ کیا جائے تو شاید ہی کوئی دور ایسا گزرا ہو جس میں اُمتِ مُسّلمہ کو فتنوں نے یوں دوچار کیا ہو مگر دورِ حاضر کا کرب اس حوالے سے مختلف ہے کیوں کہ اب فتنے ہمارے ذہنوں میں جنم لیتے ہیں۔ اب دُشمن کی تلوار لوہے کی نہیں، نظریے کی ہے۔ اس کی ضرب جسم پر نہیں، شعور پر پڑتی ہے۔ اس کی فتوحات سرحدوں پر نہیں، دلوں کے اندر وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ اسی لیے آج کا کالم اسی نئے جغرافیے کا جائزہ ہے جو امتِ مسلمہ کو فکری، معاشرتی اور روحانی محاذوں پر ہمہ وقت پرکھ رہا ہے۔

ہماری اُمتِ مُسّلمہ کو سب سے بڑا درپیش فتنہ اس دجالی انٹرنیٹ کا غلط استعمال ہے۔ سوشل میڈیا کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں فرقہ واریت جنم لے رہی ہے اگر اسی انٹرنیٹ کو مثبت سوچ کے تحت استعمال میں لایا جائے تو یہ دنیا جنت سے کم نہیں ہے۔


ایک اور بڑا فتنہ مال و دولت سے محبت ہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے "میری اُمّت کا سب سے بڑا فتنہ مال ہوگا."

اور دیکھا جائے تو یہ دور آ چکا ہے۔ لوگ مال کی وجہ سے ایک دوسرے کے خون کے در پے ہیں۔ بھائی ،بھائی کو دشمن سمجھ رہا ہے۔ قوّتِ برداشت ختم ہو چکی ہے۔


ہماری اپنے مذہب سے دوری بھی ایک فتنے کو جنم لے رہی ہے۔ ہم اپنے مذہب کو فیشن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اخلاقی کمی واقع ہو رہی ہے۔ باہمی جھگڑے ہماری قوتِ برداشت پر حاوی ہو رہے ہیں۔اسی لیے تعصّب بڑھ رہا ہے۔ حقوق العباد کی جگہ پر ذاتی مفادات جنم لے رہے ہیں، جو کہ ہمارے معاشرے میں ایک نئے فتنے کی نشان دہی کر رہے ہیں۔

مسلمان جب تک ایک جان تھے، دشمن بڑے سے بڑا وار بھی کر لیتا مگر اُمّت کی ریڑھ کی ہڈی سلامت رہتی۔ مگر جب اندرونی اختلافات نے جگہ بنا لی تو دشمن کی ضرورت ہی نہ رہی، ہم نے خود اپنے آپ کو کمزور کر لیا۔

آج مسلکی تعصب، گروپی سیاست، لسانیاتی تقسیم اور علاقائی مفادات نے امت کو ایسے حصوں میں بانٹ دیا ہے جن کے درمیان دیواریں پتھر کی نہیں، انا کی ہیں۔

اخلاق میں کمی وہ فتنہ جو گھروں سے شروع ہو کر قوموں تک پھیلتا ہے۔ اُمّت کا سب سے بڑا وصف اخلاق تھا، مگر آج جھوٹ، بے ایمانی،امانت میں خیانت، حلال حرام کا فرق، فحاشی، اور دنیا پرستی ہماری شناخت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔

یہ فتنہ نہ گولی سے نظر آتا ہے، نہ توپ سے مگر اس کا نقصان کسی جنگ سے کم نہیں۔ اخلاقی زوال وہ آہستہ زہر ہے جس کا اثر دیر سے ظاہر ہوتا ہے مگر انجام مہلک ثابت ہوتا ہے۔

علم سے دوری بھی ایک عام فتنہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہالت، تعلیم سے دوری ہمارے اندر بد اخلاقی اور سماجی فرقہ واریت کو جنم دیتی ہے۔ ہمیں باقاعدہ طور پر ایک ایجنڈے کے تحت برائیوں سے عشق اور اسلامی ،اخلاقی تربیت سے دور رکھا جا رہا ہے۔ آج مسلم معاشروں کا المیہ یہ ہے کہ علم کم، جذبات زیادہ ہیں۔

ہم مذہب کو بھی جذبات کی آنچ پر تولتے ہیں، دلیل اور حکمت سے نہیں۔ نتیجہ یہ کہ باطل ہمیں دلیل سے جیت لیتا ہے اور ہم غصے میں خود کو ہرا دیتے ہیں۔

جب اُمّت علم سے دُور ہو جائے، تو صرف ہجوم بن جاتی ہے۔ پھر وہ قوم نہیں رہتی۔

ایک دجالی جال بچھا دیا گیا ہے سوشل میڈیا کے ذریعے، تا کہ مسلمان، مسلمان کے دشمن بن جائیں اور لوگ اسلام سے دوری اختیار کر لیں۔ دیکھا جائے تو ہماری نوجوان نسل اس میڈیا کے شکنجے میں پھنستی چلی جا رہی ہے۔ شراب و شباب کی محفلیں، زناکاری، نائٹ کیفے ایک نئے فتنے کو جنم دے رہے ہیں اور اس میں کیا لڑکے، کیا لڑکی؟ دونوں صنف مشترکہ طور پر حصہ بن رہی ہیں اور ہماری مغربی دنیا اس بات کو دیکھ دیکھ کر مزے لے رہی ہے۔

سودی نظام نے معیشت کو ایسی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے جس نے فکری اور سیاسی کمزوریوں کو بڑھا دیا ہے۔ جو قومیں معاشی طور پر کمزور ہوں، وہ عالمی سیاست میں آواز نہیں اٹھا سکتیں۔صرف سُن سکتی ہیں۔

آج جنگیں ٹینکوں سے نہیں، نظریاتی اسکرینوں سے لڑیں جا رہی ہیں۔

مسلمان جس وقت عدل کے علمبردار تھے، اسی وقت دنیا ان کے اخلاق اور نظام کی گواہی دیتی تھی۔ مگر آج مسلم دنیا میں ظلم، کرپشن، ناانصافی، اور طاقت کا غلط استعمال سب سے عام چکے ہیں۔

بحیثیت اسلامی ملک ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دین اسلام کی راہ کو چن کر مغربی دور کی دجاّلی قوتوں کو خیرباد کہہ دیں۔ تبھی ہمارا ملک پاکستان ترقّی کی طرف گامزن ہوگا۔خدا آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو۔ آمین یا رب العالمین۔