صرف ٹیچرز ڈے نہیں، استاد کو اس کا بنیادی حق بھی دیجیے ، تحریر : تہمینہ عروج
نقطہ نظر
5 اکتوبر آتا ہے تو ہر طرف استاد کی عظمت، احترام اور معاشرے میں اس کے مقام کی بات ہونے لگتی ہے۔ سوشل میڈیا پر خوبصورت پیغامات آتے ہیں، طلبہ اپنے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور تقاریر میں استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے۔
لیکن ایک سوال ہمیں خود سے بھی پوچھنا چاہیے: کیا صرف ایک دن استاد کو یاد کر لینا کافی ہے؟
اگر استاد واقعی قوم کا معمار ہے تو پھر اس کے اپنے حالات کیسے ہیں؟ کیا اس کی محنت کا مناسب معاوضہ اسے مل رہا ہے؟ کیا اس کے کام کے اوقات انسانی تقاضوں کے مطابق ہیں؟ کیا اسے عزت کے ساتھ چھٹی لینے کا حق حاصل ہے؟ کیا اس کی پیشہ ورانہ رائے کا احترام کیا جاتا ہے؟ اور کیا ایک خاتون استاد کو بھی وہی عزت، تحفظ اور سہولت حاصل ہے جس کی وہ حقدار ہے؟
یہ سوال صرف اساتذہ کے نہیں، ہم سب کے ہیں۔
استاد کی عزت صرف الفاظ سے نہیں، انصاف سے ثابت ہوتی ہے
آج ہمارے معاشرے میں ایسے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ موجود ہیں جو اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں رکھتے ہیں، برسوں کا تجربہ رکھتے ہیں، بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں، مگر انہیں ماہانہ 10 ہزار، 12 ہزار یا 15 ہزار روپے تک میں کام کرنا پڑتا ہے۔
سوچیے، ایک استاد جس نے برسوں تعلیم حاصل کی، پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی، اپنے علم اور وقت کو بچوں کے مستقبل کے لیے وقف کیا، اگر اسے ایسی تنخواہ دی جائے جو بعض اوقات ایک مزدور کی روزانہ اجرت سے بھی کم محسوس ہو تو یہ صرف مالی مسئلہ نہیں رہتا؛ یہ اس کی تعلیمی قابلیت، محنت اور پیشہ ورانہ وقار کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
استاد سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بہترین نتائج دے، ہر بچے کو انفرادی توجہ دے، والدین کی شکایات سنبھالے، جائزے تیار کرے، نتائج بنائے، رپورٹس مکمل کرے، اجلاسوں میں شرکت کرے، تقریبات کی تیاری کرے اور اس کے ساتھ ایسے انتظامی کام بھی کرے جو اس کی اصل ملازمت کی ذمہ داری کا حصہ نہیں، لیکن اس سب کے بدلے مناسب معاوضہ نہ دینا—یہ ایک سنجیدہ سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔
1966 کی عالمی سفارش ہمیں کیا بتاتی ہے؟
5 اکتوبر 1966 کو آئی ایل او اور یونیسکو کی “اساتذہ کی حیثیت سے متعلق سفارش” منظور کی گئی۔ یہ کوئی پاکستانی ایکٹ یا ایسا “یونیسکو قانون ” نہیں جسے پاکستان میں خودبخود ملکی قانون سمجھا جائے، بلکہ اساتذہ کی حیثیت، ملازمت، معاوضے، کام کے حالات اور پیشہ ورانہ حقوق کے بارے میں ایک عالمی معیارات طے کرنے والا فریم ورک ہے۔ یہ سرکاری اور نجی دونوں اسکولوں کے اساتذہ کے لیے متعلقہ ہے۔
اس سفارش میں واضح کیا گیا کہ تدریس ایک پیشہ ہے جس کے لیے ماہر علم اور خصوصی مہارتیں درکار ہوتی ہیں۔ اساتذہ کے کام کے حالات ایسے ہونے چاہئیں کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ دے سکیں۔ سفارش یہ بھی کہتی ہے کہ استاد کے کام کے اوقات مقرر کرتے وقت سبق کی منصوبہ بندی، تیاری، جائزہ، مشاورت، والدین سے رابطہ اور دوسری ذمہ داریوں کو بھی کام کے بوجھ میں شمار کیا جائے۔ غیر تدریسی کام کے لیے معاون عملہ رکھنے کی بات بھی کی گئی ہے تاکہ استاد اپنی بنیادی تدریسی ذمہ داری پر توجہ دے سکے۔
اسی عالمی فریم ورک میں اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ ان کا معاوضہ تدریسی کام کی اہمیت، استاد کی ذمہ داریوں اور یکساں قابلیت رکھنے والے دوسرے پیشوں کے معاوضے کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب ہونا چاہیے۔
تو پھر ہمیں یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ ہم اپنے اساتذہ کو صرف “قوم کا معمار” کہہ کر مطمئن کیوں ہو جاتے ہیں؟
استاد مشین نہیں، انسان ہے
ایک استاد صبح اسکول پہنچتا ہے تو اس کا کام صرف کلاس میں کھڑے ہو کر کتاب پڑھانا نہیں ہوتا۔ اسے سبق کی منصوبہ بندی کرنی ہوتی ہے، کاپیاں چیک کرنی ہوتی ہیں، جائزے تیار کرنے ہوتے ہیں، بچوں کے مختلف تعلیمی درجات کو سمجھنا ہوتا ہے، والدین سے بات کرنی ہوتی ہے، ریکارڈ محفوظ رکھنے ہوتے ہیں اور بعض اوقات اسکول کے ایسے کئی کام بھی کرنے پڑتے ہیں جن کا تدریس سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔
پھر اگر اسی استاد کو مسلسل اضافی ذمہ داریاں دی جائیں، کام کے اوقات بڑھائے جائیں، وقفے کا وقت بھی کام میں لگا دیا جائے، گھر جا کر بھی اسکول کا کام مکمل کرنے کی توقع رکھی جائے اور اس سب کے باوجود اسے یہ سننا پڑے کہ “یہ تو آپ کی ڈیوٹی ہے”، تو انسان آخر کب تک خود کو سنبھال سکتا ہے؟
مسلسل کام کا بوجھ، ذہنی دباؤ، بے عزتی اور غیر یقینی ملازمت آخرکار استاد کو جذباتی اور جسمانی طور پر تھکا دیتی ہے۔
اور سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات جب استاد مسلسل دباؤ کے بعد اسکول چھوڑ دیتا ہے تو مسئلہ استاد کی “کارکردگی” قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ کبھی ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اسے اس مقام تک پہنچایا کس نے تھا؟
“چھٹی چاہیے تو استعفیٰ دے دیں!”
ایک استاد کو بیماری ہو سکتی ہے۔ گھر میں کوئی ہنگامی صورتِ حال ہو سکتی ہے۔ ایک خاتون استاد کے گھر میں بچے، والدین یا دوسرے خاندانی ذمہ داریاں ہو سکتی ہیں۔
لیکن اگر چھٹی مانگنے پر جواب ملے:
“چھٹی چاہیے تو استعفیٰ دے دیں۔”
تو یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ کام کی جگہ کے ماحول کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔
چھٹی ایک ضرورت بھی ہو سکتی ہے اور بعض حالات میں ملازمت کے حقوق کا حصہ بھی۔ 1966 کی سفارش اساتذہ کی سالانہ چھٹی، بیماری کی چھٹی اور دیگر مناسب چھٹی کے انتظامات کو بھی اہم سمجھتی ہے۔
ہمیں ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں استاد کو چھٹی مانگنے پر مجرم محسوس نہ کروایا جائے اور جہاں انتظامیہ نظم و ضبط اور انسانی ضرورت کے درمیان توازن قائم کرنا جانتی ہو۔
والدین بھی اپنا کردار دیکھیں
اساتذہ کے ساتھ ناانصافی صرف اسکول انتظامیہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات والدین کا رویہ بھی استاد کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔
والدین کا اپنے بچے کے بارے میں سوال کرنا ان کا حق ہے، لیکن استاد کی تضحیک کرنا، ہر تعلیمی یا رویے کے مسئلے کا ذمہ دار استاد کو قرار دینا، غیر مناسب مطالبات کرنا یا پیشہ ورانہ فیصلوں میں غیر ضروری مداخلت کرنا درست نہیں۔
آئی ایل او/یونیسکو کی سفارش بھی والدین اور اساتذہ کے درمیان تعاون کو اہم قرار دیتی ہے، لیکن ساتھ ہی استاد کو ایسی غیر منصفانہ یا بلاجواز مداخلت سے تحفظ دینے کی بات کرتی ہے جو اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری سے متعلق ہو۔ شکایت کی صورت میں استاد کو اپنی وضاحت پیش کرنے کا منصفانہ موقع ملنا چاہیے۔
یعنی والدین اور استاد ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بچے کے بہتر مستقبل کے ساتھی ہیں۔
کوآرڈینیٹرز اور انتظامیہ کا رویہ بھی اہم ہے
کسی اسکول کا ماحول صرف پرنسپل سے نہیں بنتا۔ کوآرڈینیٹر، سیکشن ہیڈ اور انتظامی عملے کا رویہ بھی استاد کی پیشہ ورانہ زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
ایک استاد کو بار بار سب کے سامنے ڈانٹنا، اس کی قابلیت یا تجربے کو نظر انداز کرنا، معمولی غلطی پر توہین آمیز جملے کہنا، ہر وقت ملازمت جانے کا خوف پیدا کرنا یا کام کے بوجھ کو سزا کے طور پر استعمال کرنا کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے صحت مند رویہ نہیں۔
نظم و ضبط ضروری ہے، جواب دہی بھی ضروری ہے، لیکن ذلت جواب دہی نہیں ہوتی۔
ایک اچھا ادارہ استاد سے بہتر کارکردگی مانگتا ہے، مگر ساتھ اسے معاونت، رہنمائی اور منصفانہ جائزہ بھی دیتا ہے۔
خواتین اساتذہ کے ساتھ انصاف کب ہوگا؟
یہ مسئلہ خاص طور پر خواتین اساتذہ کے لیے زیادہ حساس ہے۔
ایک خاتون استاد اسکول میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرتی ہے اور اس کے بعد گھر کی ذمہ داریاں بھی اس کی منتظر ہوتی ہیں۔ اگر اسے دیر تک روکنا، غیر ضروری اضافی کام کروانا، چھٹی یا خاندانی ہنگامی صورتِ حال کو مسئلہ بنانا، یا اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا معمول بن جائے تو اس کے اثرات صرف ایک ملازمہ تک محدود نہیں رہتے۔
1966 کی آئی ایل او/یونیسکو کی سفارش میں خواتین اساتذہ کے روزگار، معاوضے، زچگی اور خاندانی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی اصول دیے گئے ہیں۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ خاتون استاد کو کمزور ملازمہ نہیں بلکہ مکمل پیشہ ور سمجھا جائے۔
حکومت کو صرف اسکول نہیں، اساتذہ کی آواز بھی سننی ہوگی
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ تعلیمی ادارے استاد کے حقوق کو محض کاغذی معاملہ نہ سمجھیں۔
نجی اسکولوں کی نگرانی صرف یہ دیکھنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے کہ اسکول کی عمارت کتنی خوبصورت ہے، کتنے طلبہ ہیں یا نتیجہ کیا ہے۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ وہاں اساتذہ کو کیا تنخواہ دی جا رہی ہے، کام کے اوقات کیا ہیں، چھٹی کی پالیسی کیا ہے، کیا قابلیت کے مطابق معاوضہ ہے، کیا اساتذہ کو غیر ضروری اضافی ذمہ داریوں پر مجبور کیا جا رہا ہے اور کیا کام کی جگہ پر عزت اور تحفظ کا خیال رکھا جا رہا ہے۔
ضرورت ہو تو حکومت خفیہ استاد شکایتی نظام قائم کرے جہاں موجودہ اور سابق اساتذہ بلاخوف اپنی شکایات درج کرا سکیں۔
ایسے معاملات میں جہاں بار بار شکایات سامنے آئیں، متعلقہ سرکاری کمیٹیاں اساتذہ سے براہِ راست ملاقات کریں، خاص طور پر ان اساتذہ سے بھی جو ادارہ چھوڑ چکے ہیں۔ اگر کسی اسکول کے خلاف خلاف ورزیاں ثابت ہوں تو قابلِ اطلاق قانون اور ضابطہ جاتی نظام کے تحت کارروائی کی جائے، حتیٰ کہ جہاں قانون اجازت دے وہاں رجسٹریشن یا اجازت کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
کیونکہ اسکول صرف بچوں کے لیے محفوظ جگہ نہیں ہونا چاہیے؛ استاد کے لیے بھی محفوظ کام کی جگہ ہونا چاہیے۔
کام کے اوقات
پر بھی سنجیدہ بحث ضروری ہے۔
ہمیں استاد کے اسکول کے اوقات کو بھی کام کے بوجھ کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔
مثلاً 8 بجے سے 1:30 بجے تک کا مناسب تدریسی شیڈول ایک قابلِ غور پالیسی تجویز ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں تدریسی بوجھ، وقفے، تیاری کا وقت، اسکول کی ضروریات اور متعلقہ ملازمت کے قواعد کو مناسب طریقے سے شامل کیا جائے۔
مقصد صرف اوقات کم کرنا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ استاد جب کلاس روم میں ہو تو وہ تھکا ہوا، ذہنی طور پر شکستہ اور مسلسل دباؤ میں نہ ہو۔
کیونکہ تھکا ہوا استاد صرف خود متاثر نہیں ہوتا، اس کی تھکن کلاس روم تک پہنچتی ہے۔
5 اکتوبر کو ایک وعدہ کیجیے
اگر ہم واقعی ٹیچرز ڈے منانا چاہتے ہیں تو صرف پھول، کارڈز اور سوشل میڈیا پیغامات کافی نہیں۔
اس دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ :
ہم استاد کی قابلیت کا احترام کریں گے۔
ہم اس کی محنت کا مناسب معاوضہ دینے کی بات کریں گے۔
ہم اسے غیر ضروری کام کے بوجھ اور تذلیل سے بچانے کی کوشش کریں گے۔
ہم اس کی جائز چھٹی کو جرم نہیں سمجھیں گے۔
ہم والدین اور اساتذہ کے درمیان احترام اور تعاون پیدا کریں گے۔
ہم خواتین اساتذہ کی عزت، تحفظ اور خاندانی ذمہ داریوں کو اہمیت دیں گے۔
اور سب سے بڑھ کر، ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ اساتذہ کے حقوق اور کام کے حالات کو عالمی معیارات، خصوصاً 1966 کی آئی ایل او/یونیسکو کی سفارش، کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔اور اس سلسلے میں پاکستان کے اپنے موجودہ قوانین کو بھی اب نیک نیتی سے نافذ العمل کرواتے ہوئے اساتذہ کو ان کا حق دیا جائے۔
کیونکہ ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور ذہنی طور پر صحت مند قوم صرف اچھے نصاب سے نہیں بنتی۔ اسے وہ استاد بناتا ہے جو خود بھی عزت، سکون، تحفظ اور انصاف کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہو۔
استاد کو صرف یہ نہ کہیں کہ “آپ قوم کا معمار ہیں”۔
اس کے بعد یہ بھی ثابت کریں کہ ہم اس معمار کی اپنی زندگی، اس کی محنت، اس کی قابلیت اور اس کی عزت کی قدر کرتے ہیں۔
5 اکتوبر کو صرف استاد کو یاد نہ کریں—استاد کو اس کا بنیادی حق بھی دیں ۔
کیونکہ استاد کی عزت صرف الفاظ سے نہیں، انصاف سے ثابت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں


.jpg%3F2026-10-05T18%253A56%253A14.291Z&w=3840&q=75)


