استاد کو سلام، مگر صرف ایک دن کیوں؟ تحریر: مریم خان
نقطہ نظر
آج دنیا بھر میں عالمی یومِ اساتذہ منایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر استاد کے احترام میں خوب صورت جملے لکھے جائیں گے، پھولوں کی تصاویر لگیں گی، بچے اپنے اساتذہ کو مبارک باد دیں گے اور تقریبات میں یہ بات دہرائی جائے گی کہ استاد قوم کا معمار ہے۔ مگر ایک سوال اپنی جگہ موجود رہے گا: اگر استاد واقعی قوم کا معمار ہے تو اس کی اپنی زندگی کی عمارت کتنی مضبوط ہے؟
5 اکتوبر دنیا بھر میں اساتذہ کے نام ہے، اور 2026 کا یہ دن اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ 1966 میں استاد کے حقوق، ذمہ داریوں، تربیت، ملازمت اور کام کے حالات سے متعلق ILO-UNESCO کی تاریخی سفارش کو ساٹھ برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس سال عالمی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ تدریس کو ایک باوقار اور محفوظ پیشہ بنایا جائے اور استاد کے سماجی و پیشہ ورانہ مقام کو مضبوط کیا جائے۔ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ بہتر تعلیم کے لیے صرف نصاب، عمارتیں اور ٹیکنالوجی کافی نہیں؛ ایک باصلاحیت اور مطمئن استاد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
دنیا کے کئی ترقی یافتہ تعلیمی نظاموں میں استاد کو محض کلاس روم کا ملازم نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ پروفیشنل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تنخواہ کے ساتھ کام کے اوقات، پیشہ ورانہ تربیت، ترقی کے مواقع، تدریسی آزادی اور ملازمت کا تحفظ بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسے صرف نتائج کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا بلکہ وہ ماحول بھی فراہم کیا جاتا ہے جس میں وہ بہتر نتائج پیدا کر سکے۔
اب ذرا پاکستان کی طرف آئیے۔ یہاں استاد کو زبان سے قوم کا معمار کہا جاتا ہے، مگر عملی زندگی میں، خصوصاً بعض نجی تعلیمی اداروں میں، اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے جیسے وہ تعلیم دینے والا پروفیشنل نہیں بلکہ ادارے کا ایک عام ملازم ہو۔ یہ تاثر ہر نجی اسکول پر لاگو نہیں ہوتا، لیکن ہمارے تعلیمی شعبے میں کم تنخواہوں، ملازمت کے غیر یقینی حالات، اضافی ذمہ داریوں اور انتظامی دباؤ کا مسئلہ موجود ہے۔ اساتذہ سے متعلق ایک ملک گیر تحقیق میں بھی غیر تدریسی کاموں، سہولیات کی کمی، انتظامی دباؤ اور فیصلہ سازی میں اساتذہ کی محدود شمولیت جیسے مسائل سامنے آئے ہیں۔
ایک پرائیویٹ اسکول کے استاد کی روزمرہ زندگی دیکھیے۔ وہ وقت سے پہلے اسکول پہنچتا ہے، اسمبلی میں موجود ہوتا ہے، کلاس لیتا ہے، حاضری لگاتا ہے، بچوں کا کام چیک کرتا ہے، ٹیسٹ بناتا ہے نتائج تیار کرتا ہے والدین کے سوالات کا جواب دیتا ہے انتظامیہ کی ہدایات پوری کرتا ہے اور مختلف تقریبات کی تیاری میں بھی مصروف رہتا ہے۔ بعض اوقات اس کے ذمے ایسے کام بھی لگا دیے جاتے ہیں جن کا براہِ راست تعلق تدریس سے نہیں ہوتا۔ اسکول سے گھر واپسی کے بعد بھی اگلے دن کی تیاری اور کاپیوں کی جانچ اس کی منتظر ہوتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس محنت کے مقابلے میں اسے کیا ملتا ہے؟
کیا مناسب معاوضہ؟ کیا ملازمت کا تحفظ؟ کیا پیشہ ورانہ احترام؟
ہم بچوں کو اعتماد، تخلیقی سوچ اور عزتِ نفس سکھانے کی ذمہ داری استاد کے سپرد کرتے ہیں، مگر اس کے لیے ایسا ماحول پیدا نہیں کرتے جس میں وہ خود انہی اقدار کے ساتھ کام کر سکے۔ ہم اس سے بہترین نتائج چاہتے ہیں، لیکن اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اچھا استاد بھی وقت، تربیت، وسائل اور ذہنی سکون کا محتاج ہوتا ہے۔
جس شخص کے ہاتھ میں ہم اپنے بچوں کا مستقبل دیتے ہیں، اس کے اپنے مستقبل کو غیر یقینی کیوں رکھا جائے؟
استاد بھی ایک انسان ہے۔ اسے گھر چلانا ہے، بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے ہیں، بیماری اور روزمرہ زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنا ہے۔ اگر وہ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے مسلسل فکرمند رہے گا تو اس سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ کلاس روم میں پوری یکسوئی کے ساتھ ایک نسل کی تربیت کرے گا؟ استاد کی معاشی پریشانی صرف اس کا ذاتی مسئلہ نہیں رہتی؛ اس کے اثرات بالآخر کلاس روم اور طلبہ تک پہنچتے ہیں۔
اسی لیے استاد کی عزت محض ایک تقریب، پھولوں کے گلدستے یا سوشل میڈیا کی پوسٹ کا نام نہیں۔ حقیقی احترام یہ ہے کہ اسے بروقت اور مناسب تنخواہ دی جائے، اس کے اوقاتِ کار کا خیال رکھا جائے غیر ضروری ذمہ داریوں سے بچایا جائے، پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں اور اس کی رائے کو ادارے کے فیصلوں میں اہمیت دی جائے۔ غلطی ہو تو اصلاح کی جائے، مگر تذلیل نہ ہو؛ اختلاف ہو تو گفتگو کی جائے، مگر تحقیر نہ کی جائے۔
ہمارے دینی شعور میں بھی اہلِ علم کا مقام بلند ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: “يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ” یعنی اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم دیے جانے والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ (سورۃ المجادلہ، آیت 11) علم کی یہ فضیلت ہمیں اس ذمہ داری کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے کہ علم بانٹنے والے کو معاشرے میں عزت اور وقار حاصل ہو۔
ایک اچھا اسکول صرف وہ نہیں جہاں خوب صورت عمارت، جدید کلاس روم اور مہنگے وسائل موجود ہوں۔ اچھا اسکول وہ ہے جہاں استاد مطمئن ہو، اسے سیکھنے اور سکھانے کا موقع ملے، اس کی محنت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اور والدین و انتظامیہ اسے تعلیمی سفر کا ساتھی سمجھیں۔
کیونکہ اسکول کی اصل طاقت اس کی عمارت نہیں، اس کا استاد ہے۔
اگر ہمیں واقعی پاکستان کا مستقبل بدلنا ہے تو صرف نصاب تبدیل کرنے یا نئی عمارتیں بنانے سے کام نہیں چلے گا۔ ہمیں اس شخص کی زندگی بھی بہتر بنانا ہوگی جو ہر صبح کلاس روم میں ایک نئی نسل کے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔
آج استاد کو مبارک باد دینے سے پہلے خود سے ایک سوال ضرور کیجیے: کیا ہم استاد کا احترام صرف الفاظ میں کرتے ہیں یا اپنے رویے سے بھی ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں؟
اگر ہم اس سوال کا جواب اپنے عمل سے دے سکیں تو ٹیچرز ڈے صرف ایک دن نہیں رہے گا یہ ایک ایسے معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے جہاں استاد کو پھولوں کے ساتھ حق، احترام اور وقار بھی ملے۔
استاد کو سلام ضرور کیجیے، مگر اس سلام کو اس کی عزت، روزگار اور مستقبل تک بھی پہنچائیے۔
مزید پڑھیں




