Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

استاد معمارِ قوم،تحریر: مہوش بنت بشارت


کسی بھی زندہ معاشرے کی پہچان بلند و بالا عمارتوں یا مادی وسائل سے نہیں، بلکہ اس میں بسنے والے انسانوں کے شعور اور اخلاق سے ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں مٹی کے ڈھیر میں بدل جاتی ہیں، مگر کردار کبھی نہیں مرتے۔ اور جب ہم کردار سازی کی بات کرتے ہیں، تو نظر خود بخود اس ہستی پر جا کر ٹک جاتی ہے جسے دنیا استاد کہتی ہے۔ بلا شبہ، استاد محض ایک پیشہ ور معلم نہیں، بلکہ وہ قوموں کا اصل معمار ہوتا ہے۔

حکیم قاآنی نے کیا خوب کہا تھا کہ شیخِ مکتب ایک ایسا عمارت گر ہے جس کی صنعت انسان کی روح ہے۔ ذرا سوچیے، ایک معمار جو پتھروں اور اینٹوں سے مکان بناتا ہے، اس کی ایک غلطی دیوار کو ٹیڑھا کر سکتی ہے۔ لیکن ایک استاد، جو انسانی ذہنوں اور روحوں کی تراش خراش کرتا ہے، اگر اپنے فرض سے غافل ہو جائے تو پوری نسل ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ استاد کی مثال اس جوہری جیسی ہے جو کوئلے کی کان سے نکلے ہوئے خام پتھر کو اپنی محنت اور لگن سے تراش کر ایک چمکتا ہوا ہیرا بنا دیتا ہے۔ آج دنیا میں جو بھی ڈاکٹر، سائنسدان، ادیب، جج یا حکمران کامیابی کی بلندیوں پر متمکن ہے، وہ دراصل کسی نہ کسی استاد کے حروفِ ابجد کا مرہونِ منت ہے۔ کچی مٹی کو شعور کا برتن بنانا اور اندھیروں میں بھٹکتی انسانیت کو علم کا چراغ تھمانا صرف استاد کا ہی خاصہ ہے۔معلمِ کائنات، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فخر سے فرمایا کہ بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں علم کی قدر کرنے والی قوموں نے ہمیشہ اساتذہ کو اپنے سر کا تاج بنایا۔ خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹوں کا اپنے استاد کے جوتے سیدھے کرنے پر جھگڑنا ہو، یادوسری جنگِ عظیم کے بعد تباہ حال جرمنی میں ججوں اور ڈاکٹروں کے احتجاج پر چانسلر کا یہ تاریخی جواب کہ میں آپ کی تنخواہ ان کے برابر کیسے کر دوں جنہوں نے آپ کو ڈاکٹر اور جج بنایا ہے۔یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ قومیں اسکول کے کمروں میں بنتی ہیں اور انہیں بنانے والا استاد ہوتا ہے۔مگر آج کے مادی دور میں ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ کیا ہم بحیثیتِ معاشرہ اپنے معماروں کو وہ مقام، وہ عزت اور وہ معاشی تحفظ دے پا رہے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں؟ جب تک ایک استاد فکرِ معاش سے آزاد نہیں ہوگا اور جب تک اسے معاشرے میں سب سے معتبر درجہ نہیں ملے گا، تب تک ایک نظریاتی اور مضبوط قوم کی تعمیر ادھوری رہے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم لفظ معمارِ قوم کو صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ عملاً استاد کی عظمت کو تسلیم کریں۔ کیونکہ جو معاشرہ اپنے معماروں کی قدر کرنا بھول جاتا ہے، اس کی ترقی کی عمارت بہت جلد زمین بوس ہو جاتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی سے بڑی سلطنتیں اس وقت تک زوال کا شکار نہیں ہوئیں جب تک ان کے مدرسے اور اساتذہ آباد رہے۔ اس کے برعکس، جب کسی قوم نے استاد کی آواز کو دبایا یا اسے ایک عام ملازم سمجھ لیا، تو اس قوم کا زوال یقینی ہو گیا۔ علم کی شمع روشن رکھنا صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہیں، بلکہ یہ آنے والی نسلوں میں وہ تڑپ پیدا کرنے کا عمل ہے جو انہیں دنیا میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ استاد وہ شمع ہے جو خود پگھل کر دوسروں کے راستے کو منور کرتی ہے، اور اسی قربانی کا نام قوم سازی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا مستقبل محفوظ اور شاندار ہو، تو ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کو تقدس اور اساتذہ کو وہ وقار واپس لوٹانا ہوگا جو ان کا بنیادی حق ہے۔ معاشرے کی بقا اسی میں ہے کہ معلم کا قلم ہمیشہ اونچا رہے اور اس کی کہی ہوئی بات حرفِ آخر سمجھی جائے۔