Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

والد کے نام خط،تحریر:ایس اے شازم

نقطہ نظر
s a shazim

میرے پیارے (مرحوم)ابو جی۔۔۔۔

السّلام علیکم

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے اور جنت کے باغوں میں سے کسی باغ میں جھولا جھول رہے ہوں گے۔ میں آج ایک ایسا خط لکھ رہی ہوں جو کبھی پوسٹ نہیں ہوگا۔ جو آپ تک کبھی پہنچ نہیں پائے گا۔ میرے دلی حالات، جذبات سب کچھ آپ کی نظر ہو جائیں گے۔ دل کا بوجھ تھوڑا ہلکا ہو جائے گا۔ ہاں! مانتی ہوں آنکھوں میں نمی آئے گی مگر دل کو سکون بھی آئے گا۔

ابو جی! میں آپ کو بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن کہہ نہیں پائی۔ کبھی میں مصروفیت کی دنیا میں تو کبھی آپ میّسر نہیں ہوتے۔ جانا تو سبھی کو ہے لیکن مجھے لگتا ہے آپ تھوڑا جلدی چلے گئے۔ زندگی کی کٹھنائیاں تو آپ نے بہت دیکھی اب جا کر کہیں کچھ خوشیاں کے پل آئے تھے تو رب نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا۔ خیر! اس میں بھی رب کی کوئی نا کوئی مصلحت ہوگی۔

ابو جی! آپ کے جانے کے بعد پتہ چلا کہ سر پہ جب باپ کا دستِ شفقت نہ ہو تو آپ کی زندگی کتنی بے رنگ ہوتی ہے۔ لوگ کیسی کیسی نظروں سے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔۔۔ دل میں خوف کی شدّت کیوں بڑھ جاتی ہے؟ یتیمی کا دکھ اندر ہی اندر آپ کو کھائے جاتا ہے۔ قدم آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر کوئی نہ کوئی آپ کو پیچھے کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم میں کیا لکھ رہی ہوں! بس دلی جذبات ہیں جو خود بخود قلم کو زبان دیے ہوئے ہیں۔ امی کی تنہائی دیکھ کر اندر ہی اندر کڑھتی رہتی ہوں۔ یہ عمر تو ایک دوسرے کا خاص طور پر ساتھ نبھانے کی ہوتی ہے اور اس عمر میں بیوگی کا دکھ امی کو اندر ہی اندر کھائے جاتا ہے۔

مجھے اکثر آپ کی باتیں یاد آتی ہیں۔ آپ ہمیشہ مجھے فضول خرچی پر ٹوکا کرتے تھے۔ اب تو ابو جی میں کوئی فضول خرچی نہیں کرتی۔ مجھے احساس ہے، آپ کے جانے کا دکھ ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جانا سبھی کو ہے ایک دن لیکن میں چاہتی تھی کہ آپ ابھی نہ جاتے۔ آپ کچھ خوشیوں کے پل جی کر جاتے۔ آپ ہمارے ساتھ کچھ ایسے پل گزارتے خوشیوں بھرے، کچھ خوشگوار یادیں ہوتی، کوئی غربت، مفلسی نہ ہوتی۔ آج میرے بچوں کو نانا جی کے گھر جانا اچھا لگتا ہے لیکن صرف اب نانا جی کا گھر ہے، نانا جی نہیں ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ بس خوش باش ہوں۔ بیشک آپ ہمارے درمیان میں نہیں ہیں مگر میری دعاؤں میں آپ ہمیشہ رہیں گے۔

زندگی بہت تلخ ہے ابو جی۔۔۔!

میں تو تھک سی گئی ہوں۔ کبھی کبھی حرام موت مرنے کو دل کرتا ہے لیکن پھر آہستہ آہستہ خود کو سنبھال لیتی ہوں اور ایک بار پھر سے رختِ سفر باندھ کر اس بے رحم دنیا سے نبرد آزما ہونے کی کوشش میں لگ جاتی ہوں۔

ابو جی مجھے آپ کی سادگی بہت پسند تھی۔ ہمیشہ شکر گزاری کا سبق ہمیں پڑھایا۔ ہم ہی اکثر و بیشتر جھنجھلا جاتے تھے لیکن آپ نے ہمیشہ صبر کرنا سکھایا۔ رب کی دی گئی نعمتوں پر شکر الحمد للّٰہ کہنا اور جو آسائشیں میسر نہیں ہیں ان پر رب سے دعاگو رہنے کی استدعا کی۔

ایک پچھتاوا ہے کہ کاش! میں کوئی ایسا خط اپنی زندگی میں بھی لکھ پاتی۔ اپنے دل کی بات آپ سے کہہ پاتی۔ آپ کو بتاتی کہ ہم آپ کے بغیر ادھورے ہیں۔ آپ ہماری زندگی کا اہم حصہ ہو۔ امی کی طرف دیکھتی ہوں اور ان کے ماتھے پر آنے والی شکنیں دور کرنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن آپ کی کمی تو نہیں پوری کر سکتی نا؟ سو خاموش ہو جاتی ہوں اور ان کے سامنے خود کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں بہت کمزور ہوں ابو جی! مگر حوصلے بلند ہیں۔

ابو جی! آپ کے بعد زندگی چل تو رہی ہے، مگر پہلے جیسی نہیں رہی۔ کبھی کسی کامیابی پر دل خوش ہوتا ہے تو بے اختیار آپ یاد آتے ہیں کہ کاش! آپ موجود ہوتے اور میری خوشی میں شریک ہوتے۔ ابو جی! آپ کی خاموش محبت کا احساس آپ کے جانے کے بعد اور زیادہ ہوا۔ آپ نے کبھی اپنے دکھوں کا ذکر نہیں کیا، مگر ہماری خوشیوں کے لیے ہر تکلیف برداشت کی۔ آپ ایک درخت کی مانند تھے جو خود دھوپ میں کھڑا رہتا ہے تاکہ اس کے سائے میں اس کے اپنے سکون سے رہ سکیں۔

آج بھی جب آپ کی تصویر پر نظر پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے آپ کہیں قریب ہی موجود ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ ایک بار پھر آپ کی آواز سنوں، آپ سے باتیں کروں اور بتاؤں کہ ہم آپ کو کتنا یاد کرتے ہیں۔

میری دعا ہے کہ اللّہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے اور ہمیں بھی ایسا بنائے کہ آپ کی روح ہم سے راضی رہے۔ آمین

واقعی کسی نے سچ کہا ہے کہ!

"باپ وہ ہستی ہے جس کے جانے کے بعد انسان عمر بھر بڑا تو ہو جاتا ہے مگر خود کو ہمیشہ یتیم محسوس کرتا رہتا ہے۔"


دکھوں میں گھری اور دعاؤں کی طلبگار

آپ کی بیٹی

ایس اے شازِم