وقت بدل گیا، ہم کیوں نہیں بدلے؟تحریر: سید ساجد علی شاہ

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، زمانہ کروٹیں لے رہا ہے، ٹیکنالوجی نے زندگی کے انداز بدل دیے ہیں، معلومات چند لمحوں میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پہنچ جاتی ہیں، لیکن ایک سوال مسلسل ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ آخر ہم کب بدلیں گے؟ ہم نے ترقی کے بے شمار دعوے کیے، منصوبے بنائے، تقریریں کیں، وعدے کیے، مگر عام آدمی آج بھی بنیادی مسائل کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، تعلیم، صحت، انصاف اور امن جیسے مسائل آج بھی ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ دنیا کہاں پہنچ گئی، سوال یہ ہے کہ ہم ابھی تک وہیں کیوں کھڑے ہیں؟ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ ہم مسائل کو حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو مسائل کا ذمہ دار قرار دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ حکومت اپوزیشن کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے، اپوزیشن حکومت کو، ادارے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور عوام ہر نئے دن کے ساتھ یہ سوچتے ہیں کہ شاید اب حالات بہتر ہوجائیں گے، لیکن انتظار کی یہ گھڑی برسوں سے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ عام شہری کے لیے زندگی کا مطلب روزگار کی تلاش، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی فیس، گھر کا راشن، علاج معالجہ اور بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنا بن چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ کم وسائل میں بھی زیادہ مطمئن نظر آتے تھے۔ گھروں میں آسائشیں کم تھیں مگر رشتوں میں گرمی تھی، جیبیں خالی ہوتی تھیں مگر دل کشادہ تھے، پڑوسی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، بزرگ گھر کی عزت سمجھے جاتے تھے اور بچوں کی تربیت صرف اسکول کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے خاندان کا فرض تصور کی جاتی تھی۔ آج ہمارے پاس سہولتیں زیادہ ہیں لیکن سکون کم، رابطے زیادہ ہیں مگر تعلقات کم، معلومات زیادہ ہیں مگر حکمت کم اور گفتگو بہت ہے مگر برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ ہم نے ترقی کا مطلب بھی شاید غلط سمجھ لیا ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں، مہنگی گاڑیاں، جدید موبائل فون اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی مصنوعی خوشحالی ترقی کی مکمل تصویر نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ہوگی جب ایک غریب باپ اپنے بچے کی تعلیم کے بارے میں پریشان نہ ہو، ایک بیمار شخص علاج کے اخراجات سے خوف زدہ نہ ہو، ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لے کر روزگار کے لیے در بدر نہ پھرے اور ایک مزدور اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی باعزت طریقے سے کما سکے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم بھی طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف ایسے بچے ہیں جو جدید ترین سہولتوں سے آراستہ اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے بچے بھی موجود ہیں جن کے لیے کتاب، یونیفارم اور فیس بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر ہم واقعی ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو محض نعرہ نہیں بلکہ قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ اسکولوں میں صرف نصابی کتابیں پڑھانے کے بجائے بچوں کو کردار، اخلاق، برداشت، تحقیق اور ذمہ داری بھی سکھانا ہوگی۔ اسی طرح صحت کا شعبہ بھی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں غریب آدمی لمبی قطاروں میں کھڑا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر، ادویات اور سہولیات کی کمی کئی خاندانوں کو قرض لینے یا اپنی جمع پونجی ختم کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ ایک فلاحی ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور شہری کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑتی۔ ریاست اگر اپنے شہریوں کو بنیادی صحت، تعلیم اور انصاف فراہم کردے تو معاشرے میں بے چینی کی بہت سی وجوہات خود بخود ختم ہوسکتی ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہر مسئلے کا حل قانون بنانے سے نہیں نکلتا، کچھ مسائل ہمارے اپنے کردار سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، صفائی کا خیال نہیں رکھتے، قطار میں کھڑے ہونے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے اور پھر پورے معاشرے کو برا بھلا کہتے ہیں۔ تبدیلی ہمیشہ اوپر سے نہیں آتی، کبھی کبھی ایک فرد اپنے رویے کو بدل کر بھی معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ آج ہمیں نفرت نہیں، مکالمے کی ضرورت ہے؛ الزام نہیں، اصلاح کی ضرورت ہے؛ مایوسی نہیں، امید کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن قومی مسائل کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک طبقے کے مسائل نہیں ہوتے۔ مہنگائی جب بڑھتی ہے تو اس کا اثر ہر گھر تک پہنچتا ہے، بے روزگاری جب بڑھتی ہے تو نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہوتا ہے اور تعلیم کمزور ہوتی ہے تو پورا معاشرہ اس کا نقصان اٹھاتا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں۔ ایسا پاکستان جہاں سفارش کے بغیر کام نہ ہو، جہاں میرٹ کمزور ہو، جہاں غریب اپنے حق کے لیے دفاتر کے چکر لگاتا رہے، یا ایسا پاکستان جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، محنت کی قدر ہو، نوجوانوں کو مواقع ملیں اور عام شہری عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے؟ قومیں صرف وسائل سے ترقی نہیں کرتیں، قومیں اپنے کردار، نظم و ضبط، دیانت اور مسلسل محنت سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا۔ اپنے گھروں سے تربیت، اپنے اداروں سے دیانت، اپنی سیاست سے برداشت، اپنی گفتگو سے شائستگی اور اپنی عملی زندگی سے ذمہ داری کا آغاز کرنا ہوگا۔ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ جو قومیں وقت کی آواز سن لیتی ہیں وہ آگے بڑھ جاتی ہیں اور جو قومیں اپنے مسائل سے نظریں چراتی رہیں، تاریخ انہیں پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ آج بھی وقت ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم دروازہ کھول کر نئے دور کا استقبال کرتے ہیں یا پرانی سوچ، پرانے رویوں اور پرانے مسائل کے ساتھ آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شکایت کرنے والی قوم کے بجائے کردار ادا کرنے والی قوم بنیں، کیونکہ تبدیلی کسی ایک حکمران، ایک ادارے یا ایک تقریر سے نہیں آئے گی۔ تبدیلی اس دن آئے گی جب ہر شہری یہ سوچے گا کہ ملک نے میرے لیے کیا کیا؟ سے پہلے مجھے یہ سوچنا ہے کہ میں نے اپنے ملک، اپنے معاشرے اور اپنے لوگوں کے لیے کیا کیا؟ یہی سوچ ہماری اصل طاقت بن سکتی ہے، یہی احساس ہماری سمت درست کرسکتا ہے اور یہی کردار پاکستان کے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں





