5 اکتوبر، یوم اساتذہ ،تحریر ۔ حافظ ملک جمشید خاکسار

یوں تو ہر دن ہی بڑا خاص اور اہم ہوتا ہے مگر کچھ ایام مخصوص ہوتے ہیں جن کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی نے انسانوں کو پیدا کیا تو مقصد حیات بھی بتا دیا کہ میری عبادت کرنی ہے۔ ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور خاص معلم انسانیت بنا کر بھیجا ۔ اور معلم جیسی عظیم نسبت کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا ۔گویا کہ شعبہ تدریس پیغمبرانہ شعبہ ہے اور آج کے دور میں استاذ ہونا بھی فخر کی بات ہے۔ اور یہی وہ انسان ہوتا ہے جو سڑک کی مانند اپنی جگہ رہتے ہوئے بھی طلباء کو منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔
5 اکتوبر یوم اساتذہ اسی معلم کے اعزاز میں پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ اور یہ دن خاص اساتذہ کے نام ہوتا ہے کیونکہ معمار قوم دراصل یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا کے ہر فرد کی کامیابی کے پیچھے چھپے ایک ہیرے کی مانند ہوتے ہیں ۔ 5 اکتوبر کا دن سن 1966 میں مختص کیا گیا جب پیرس میں یونیسکو اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن(ILO ) کی مشترکہ کانفرنس میں اساتذہ کے حقوق ، ان کی ذمہ داری اور تربیت کے حوالے سےعالمی معیار مقرر کیا اور اسی دن سے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 5 اکتوبر کا دن عالمی سطح پر یوم اساتذہ کے نام سے منایا جائے گا۔ یہ خاص دن اساتذہ کی قابلیت، ان کی محنت ، ان کے جذبے اور ہمت خو سلام عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جائے گا تا کہ اساتذہ کی پہچان اور مقام و مرتبہ سب پر نمایاں ہو ۔
شعبہ تدریس اصل میں پیغمبرانہ شعبہ ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں " اس حدیث مبارکہ سے بھی اساتذہ کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے کہ کس قدر محنت اور دل لگی سے طلباء کو علم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں ۔ گھر کی ٹینشن و پریشانی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کمرہ جماعت میں خوش اخلاق چہرہ لیے اور صاف ستھرا لباس پہنے طلباء کی فکر میں لگا ہوتا ہے۔ اور ہر صبح کوئی نیا طریقہ نئی سوچ اور نیا جذبہ لے کر ادارے میں پہنچتا ہے ۔
گرمیاں ہوں یا سردیاں ، بارش ہو یا دھوپ ، وقت کی پابندی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مقرر وقت پر پہنچتا ہے اور شام کو گھر جا کر بھی یہ معلم صبح کی نئی روٹین بنانے میں لگا ہوتا ہے۔ یہی وہ خاص باتیں تھیں کہ جنہوں نے (ILO ) کو یہ بات سوچنے پر مجبور کیا کہ اس مظلوم طبقے کے اعزاز میں بھی ایک عالمی دن ہونا چاہیے ، کیونکہ جس قدر اساتذہ کا مقام و مرتبہ بلند ہے تو عین اس کے برعکس اساتذہ کو ذلیل کیا جاتا ہے ۔
پرائیویٹ ادارے ہوں یا سرکاری ، تمام اساتذہ مسائل کی چکی میں پس ہوئے ہیں ۔جہاں سکول سربراہان یا پھر ہماری حکومتیں اساتذہ کو وہ مقام و مرتبہ عطا نہیں کرتیں جن کے وہ حقدار ہوئے ہیں تو دوسری جانب دور حاضر میں والدین کا رویہ بھی اس قدر غیر مناسب ہوتا ہے کہ اساتذہ کو چند پیسوں میں خریدا ہوا غلام سمجھا جاتا ہے ۔جس کا نقصان یہ نکلتا ہے کہ طلباء کے اندر وہ علم کی لذت اور فیض نہیں جا سکتا جو آج سے ایک یا نصف صدی قبل تھا ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو ان کا جائز حق اور مقام دیا جائے اور 5 اکتوبر کے عالمی دن کے علاوہ بھی اساتذہ کو خاص اہمیت دی جائے ۔ تا کہ شعبہ تدریس میں آنے والی نئی نسل اپنے آپ کو خاص سمجھے اور اسی خاص انداز میں نئی نسل کو علم کی دولت سے نوازے اور کامیاب بنائے ۔ جب یہ سب کام ہو گا تو ہمارا معاشرہ پڑھا لکھا ہونے کے ساتھ ساتھ با ادب بھی بنے گا اور دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا بنے گا۔
مزید پڑھیں
.jpg%3F2026-10-05T18%253A56%253A14.291Z&w=3840&q=75)



