یونیورسٹی میں زیادتی کے 4 واقعات،طالبات نے اپنی حفاظت کا ذمہ خود لے لیا

کیلیفورنیا کی کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی سان مارکوس میں ستمبر کے دوران تین ہفتوں میں زیادتی کے 4 واقعات رپورٹ ہونے کے بعد طالبات میں خوف و تشویش پھیل گئی۔
یونیورسٹی میں تقریباً 17 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ طالبات کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات ناکافی ہیں، جس کے باعث وہ اپنی حفاظت کے لیے خود اقدامات کرنے پر مجبور ہیں۔طالبہ میگن شاویز کے مطابق متعدد طالبات اب مرچوں کا اسپرے اپنے ساتھ رکھتی ہیں جبکہ کئی طالبات کیمپس میں اکیلے چلنے کے بجائے گروپوں کی صورت میں سفر کرتی ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کے جنسی تشدد سے بچاؤ کے اقدامات کو غیر منظم قرار دیتے ہوئے ایک آگاہی پوسٹر پر تنقید بھی کی، جس میں کارٹون بلی دکھائی گئی تھی۔
یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے کہ 5، 6، 13 اور 18 ستمبر کو زیادتی کے 4 واقعات رپورٹ ہوئے، جو دی کواڈ، یونیورسٹی ولیج اپارٹمنٹس اور بلیک اوک ہال میں پیش آئے۔ 21 ستمبر کو ایک اور شخص نے اپنے ہاسٹل میں مبینہ طور پر زبردستی داخل ہونے کے بعد جنسی زیادتی کی اطلاع دی۔طالبہ اڈاماریس مایا نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں انہیں کیمپس کے مقابلے میں اپنے گھر میں زیادہ محفوظ محسوس ہوتا ہے۔ ایک اور طالبہ نوہیمی ایسکانو نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر تعلیمی سال کے آغاز میں ہی ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
یونیورسٹی کے ترجمان جیری میک کارمک کے مطابق ان واقعات کا آپس میں منسلک ہونا نہیں سمجھا جا رہا اور مبینہ واقعات میں ملوث افراد ایک دوسرے کو جانتے تھے۔یونیورسٹی کی صدر ایلن نیوفیلڈٹ نے طلبہ کو بتایا کہ انتظامیہ جنسی تشدد کی روک تھام اور اس سے نمٹنے کی کوششوں میں مزید اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے پولیس گشت میں اضافے، رہائشی علاقوں میں رات بھر سکیورٹی اور نارتھ کامنز و بلیک اوک ہال میں 24 گھنٹے فرنٹ ڈیسک، مہمانوں کی رجسٹریشن سمیت اضافی حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا۔طالبہ ایسکانو نے کہا کہ طلبہ کو تفریح کرنے یا نشے میں نہ ہونے کی صورت میں بھی محفوظ رہنے کا حق حاصل ہے اور کسی بھی واقعے کا ذمہ دار متاثرہ شخص کو قرار نہیں دینا چاہیے۔
مزید پڑھیں





