مرتے تعلقات میں زندگی کیسے ڈالیں ؟تحریر : شمسہ رانی
نقطہ نظر
اکیسویں صدی نے انسان کو فاصلے مٹانے کے ایسے وسیلے عطا کیے کہ دنیا ایک چھوٹی سی اسکرین میں سمٹ آئی ہے،مگر عجب المیہ ہے کہ اسکرینیں قریب اتی گئیں اور دل ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے۔ ہمارے پاس پیغام بھیجنے کے لیے چند لمحے ہیں۔ مگر کسی کے حال دل کو سننے کے لیے وقت نہیں۔ رابطوں کی فہرست طویل ہے۔ مگر تعلقات کی دنیا دن بدن مختصر ہوتی جا رہی ہے۔
دوستی کبھی صرف نام، نمبر یا سوشل میڈیا کی فہرست میں موجود ایک پروفائل کا نام نہیں تھی۔ دوستی تو وہ چراغ تھی ،جو بے موسم بھی جلتا تھا، وہ دروازہ تھی، جس پر دستک دینے کے لیے اجازت درکار نہیں ہوتی تھی اور وہ خاموشی تھی ۔جسے سمجھنے کے لیے الفاظ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
اج ہم دوست کی سالگرہ یاد رکھنے کے لیے موبائل کے یاد دہانی نظام کے محتاج ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ دوست کے لہجے میں اترتی اداسی بھی ایک یاد دہانی ہوتی ہے۔ ہم تصویروں پر محبت کے نشان تو بنا دیتے ہیں، لیکن کبھی یہ جاننے کی زحمت نہیں کرتے کہ تصویر کے پیچھے کھڑا شخص اندر سے کیسا ہے۔
تعلقات میں جان ڈالنے کے لیے شاید سب سے پہلے ہمیں اپنی توقعات کے شور کو خاموش کرنا ہوگا۔ ہر رشتے سے اپنی مرضی کا جواب مانگنے کے بجائے دوسرے انسان کے حالات کو سمجھنا ہوگا ۔کبھی دوست کی بات کا جواب دینے کی بجائے اسے مکمل سن لینا ،کبھی اس کی غلطی کو موضوع بحث بنانے کے بجائے اسے معاف کر دینا، اور کبھی کسی غرض کے بغیر صرف یہ کہنا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں یہ چھوٹے جملے رشتوں کے بڑے زخم بھر سکتے ہیں۔
رشتے تحفوں سے نہیں توجہ سے زندہ رہتے ہیں۔ انہیں مہنگی ملاقاتوں سے زیادہ خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی وقت نکال کر کسی دوسرے کے پاس بیٹھ جائیں موبائل ایک طرف رکھے اور انکھوں میں انکھیں ڈال کر بات کیجیے ۔ممکن ہے وہاں اپ کو وہ انسان مل جائے جسے اپ نے مصروف زندگی کی دوڑ میں کہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر خاموشی بے اعتنائی نہیں ہوتی اور ہر مصروفیت محبت کی کمی نہیں، بعض لوگ اپنے اندر کے ملبے تلے دبے ہوتے ہیں۔ انہیں سوال نہیں سہارا چاہیے ہوتا ہے۔
تعلقات کو زندہ رکھنے کا ہنر دراصل دوسروں کو بدلنے میں نہیں ،خود کو تھوڑا سا نرم کرنے میں ہے ۔جہاں انا ایک قدم پیچھے ہٹ جائے وہاں محبت دو قدم اگے ا جاتی ہے۔ جہاں شکوہ کم ہو جائے وہاں قربت کے لیے جگہ پیدا ہوتی ہے ۔
شاید ہمیں پھر سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ انسان کو بروقت ان لائن ہی نہیں کبھی کبھی دل کے اندر بھی موجود رہنا چاہیے۔ کیونکہ زندگی کے اخری حساب میں یہ نہیں پوچھا جائے گا، کہ ہماری رابطوں کی فہرست میں کتنے نام تھے ؛ اصل سوال یہ ہوگا کتنے دل ایسے تھے جنہیں ہماری موجودگی نے تنہائی سے بچائے رکھا۔
مزید پڑھیں





