وقت اور طاقت کے کھیل۔۔۔ نظام تعلیم اور ارتقاء۔۔۔۔۔۔تحریر :محمد راشد

وقت اور طاقت کے کھیل۔۔۔
نظام تعلیم اور ارتقاء۔۔۔۔۔۔ تحریر :محمد راشد

نظریاتی طور پر حاصل کیے گئے ملک میں، 75 سال تک وہ مقاصد نہ حاصل ہوئے، جس کی بنیاد پر ملک لیا گیا۔۔۔آخر کیوں؟؟؟
دنیا میں رائج class system اور capital کی power سے حکومتیں کر کے "ڈنگ” ٹپانے والے لوگوں نے middle class کو ہمیشہ ذہنی غلام رکھا لیکن یہ بھول گئے کہ ہر چیز کو ارتقاء ہے، اور چیزیں بدلتی رہتی ہیں، انداز بدلتے رہتے ہیں اور satandards بدلتے رہتے ہیں لیکن Nature نہیں بدل سکتی اور نہ بدلی جا سکتی ہے۔۔Kodak کمپنی نے جان بوجھ کے، سٹرپ والے کیمروں کو باقی رکھا، حالانکہ کہ وہ جان گئے تھے کی مقناطیسی طاقت سے Built-in Memory والا کیمرہ بنایا جا سکتا ہے لیکن اپنی اجارہ داری قائم رکھتے ہوئے، جان بوجھ تک ایک سستی اور سہولت کی چیز Market میں نہ لے کے آئی۔ پھر Samsung نے کیمرے والا موبائل Market میں Launch کیا۔۔ Nokia, LG, سے اب OPPO تک، کے موبائل آگئے۔۔۔سوال یہ ہے کہ۔۔۔
Where is Kodak now???
اپنی مٹھی میں
State Appratus (Media, Army, Police, Judiciary, Law & Order Agencies, System of Education)
کو رکھ کر آخر کب تک، عوام سے کھیلا جائے گا۔۔۔
ہمارے بچوں کو "حق ، قربانی اور ایثار” کے سبق پڑھائے اور کہا کہ ہم نے مرنا ہے اور حساب کتاب دینا ہے، جبکہ اپنے بچوں کو وہ syllabus پڑھایا کہ جس سے ان کا ذہن بنے کہ انھوں نے Power حاصل کرنی ہے اور states اور Ministries کو چلانا ہے۔۔۔ اور Law and Order بھی تمہاری رکھیل ہو گا۔۔۔
طاقت کے نشے میں، تم نے اپنے ڈیروں پر اشتہاری، ڈکیت اور شرابی پالے اور جس نے بھی آپکی "حکم عدولی” کی، آپ نے اس کے گھر ڈاکے ڈلوائے اور پھر خود ہمدری اور موقع پرستی کے جزبات لے کر، اس شخص کو غلام بنایا۔۔۔
"اسلام” کے نام پر ملک حاصل کر کے 1935ء کا انگریز کا بنایا ہو قانون، Little Amendments کے ساتھ لاگو رکھا۔۔ اور عوام کو برادریوں، مسلک، مذہب ، دولت اور class کے نام پر تقسیم کر کے، حکومتیں کیں۔۔۔ سوال یہ ہے کہ یہی "وہ لولی پاپ” تھا کہ انگریز کے کتے نہلانے والے لوگ، جن کے نام تو مسلمانوں والے تھے، انھوں نے حکومت نہ ملنے پر، الگ ملک کا مطالبہ کر دیا۔۔
اور انگریز آزادی نہیں دے کر گیا بلکہ تقسیم کر کے گیا کیوں وہ کمزور ہو چکا تھا اور اس نے کشمیر کا بیج رکھ دیا کہ یہ ملک آپس میں لڑتے رہیں گے اور ہم ان کے انتقام سے بچ جائیں گے۔۔۔انگریز نے برصغیر میں investmentکر کے فیکٹریاں بنائیں اور روڈ بنا کے روزگار کے مواقع دیے،تب جا کے کامیاب ہوا اور سونے کی چڑیا "برصغیر” کو کوئی ایسے چھوڑ دیتا ہے ۔۔ یہ تو جاپانیوں نے ان کی ایسی تیسی پھیر کے رکھ دی۔۔۔تب وہ کمزور ہو کے گیا۔۔۔۔وہ تو اللہ کا شکر ہے اللہ پاک اس ملک سے اسلام کے حوالے کام لے رہے ہیں۔۔
اور صد حیف تمہاری سوچ پر کہ تم نے ” اپنی حکومت کے لیے،ملک کے دو ٹکڑے کر دیے” اور اس حصے کو الگ کیا جہاں Pakistan کی founder جماعت مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔۔ڈھاکہ۔۔۔۔”””
Just Shame on you..
کہ تم نے تقسیم ہند کے شہداء کے ساتھ غداری کی۔۔۔
اور پھر ملک میں Political Parties کو مزید فروغ دیا۔۔۔
پیپلزپارٹی والوں نے MPL (N) اور PML(N) نے پیپلزپارٹی کو گالیاں دے کر ووٹ حاصل کیے۔۔ پھر انھی پارٹیز کے Fail شدہ لوگ، PTI میں تبدیلی کے نام پر پھر حکومتوں میں آئے۔۔۔سوال یہ ہے کہ کیا سوچ بدلی، ضمیر بدلے۔۔یا Power کے حصول کے لیے یہ کیا گیا اور اس میں عوام کو کیا فائدہ ہوا؟؟؟
میں جانتا ہوں کہ عوام کا شعور کا level بہتر ہوا لیکن آج بھی
نظام تو انگریز کا برصغیر کو دیا ہوا ہے۔۔۔
تھانے کا SHO ایم این اے کی مرضی کا۔۔
پٹواری، ہیلتھ آفیسر، ایجوکیشن آفیسر ، بھی اسی وڈیرے کی مرضی کا۔۔۔
۔
پھر عوام کو مختلف thoughts میں جکڑ دیا۔۔ اب یہ بتائیں کہ
1۔ ملک پر جو قرضہ ہے،و غریب آدمی کی دال، روٹی اور گھی کی وجہ سے ہے یا تمہاری بیرون ملک سے منگوائی گئی Branded گاڑیوں، چیزوں اور جائیدادوں کی وجہ سے ہے؟
2۔ سمگلنگ کا مال، محمد عمر کے گھر سے نہیں بلکہ بارڈر سے آتا ہے، منشیات بارڈر سے آتی ہے، کیا Border پر محمد عمر(عام آدمی) کا حکم اور control ہے؟؟
آخر کب تک تم، یہ سب کرتے رہو گے۔۔۔؟؟؟
غریب آدمی کا خواب، ایک اچھی نوکری، اور 3 مرلے کے گھر تک ہوتا ہے۔۔اور ہمیں پتہ کہ تم لوگوں کا خواب MNA, سنیٹر اور Ministry سے کم نہیں ہوتا لیکن برائے مہربانی ہمیں مزید بے وقوف نہ بناؤ۔۔۔کہ جن حلقوں سے ووٹ لے کے، تم AC والے room میں بیٹھ جاتے ہو، تمہیں کیا پتہ کہ،محمد عمر کو local وڈیروں نے پھر سے غلام۔بنا لیا۔۔جب local الیکشن ہوئے۔۔۔
کیا تم اس حلقے میں، ٹوٹی نالی اور سولنگ والی، گلی میں رہ سکتے ہو اور اس سکول میں اپنے بچوں کو پڑھا سکتے ہو، جو تمہارے حلقے میں ہے۔۔؟؟
سادہ جواب ہے کہ بالکل بھی نہیں۔۔
لیکن یہ تمہاری ڈرامہ بازیں کب تک رہیں گی؟؟؟ ارتقاء۔۔غیر محسوس طریقے سے آ رہا ہے۔۔۔
اب ہم جانتے ہیں کہ
طاقت اور دولت تمہارے پاس ہے، وہ اس لیے کو آپ کا Dream of Life ہے۔۔ اور کب تک تقسیم کے نام پر ووٹ لو گے۔۔
کب تک نواز شریف اور بھٹو کو گالیاں دے کے، راہ فرار اور Protection بھی خود دو گے؟؟
کب تک جج کی کرسی پر بیٹھ کر 6 لاکھ تک تنخواہ اور دیگر سہولیات لے کر، یہ کہو کے ہمارے پاس انصاف کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں؟؟
کب تک یہ کہو گے کہ پچھلے لوٹ گئے اور ہم ٹھیک کر رہے ہیں (حالانکہ لوٹ تم بھی رہے ہوتے ہو اور بعد میں تمہارا کزن دوسری پارٹی سے ایلکٹ ہو کے آتا ہے، اور وہ منسٹری کے دوران تمہیں گالیاں دے کر حکومت کر جاتاہے،اور پھر تم اگلی باری اس کو گالیاں دے کر ووٹ لے جاتے ہو)
۔
اپنے بچوں کوleadership qualities والا syllabus اور business management پڑھائی اور project based اور practical تعلیم دلوائی۔۔ لیکن ہمیں اخلاقیات اور قربانی کے بھاشن دلواتے رہے، علماء اور سکول سے۔۔یہ نہ کہا کہ زندگی میں اخلاقیات کے ساتھ کچھ achieve اور Groom کر کے جاؤ۔۔
حالانکہ ان بھا شن کی آپ کو ہم سے زیادہ ضرورت تھی کیوں کہ تمہارے ہاتھ کرپشن، اقرباء پروری، ماڈل ٹاؤن اور بلدیہ فیکٹریوں کے مظلوموں کے خون کے واقعات سے رنگے ہیں اور قانون نے تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑا۔۔
سب پارٹیز کے لوگ ایک دوسرے کے دوست اور رشتہ دار۔۔۔ آخر تم کب تک ہمیں بے وقوف بناؤ گے۔۔؟
ہم یہ بھی جانتے ہیں کی تم میرے ایک ووٹ کے مقابلے میں، 10 ان پڑھ اور غریب لوگوں کے گھر موقع پر آٹا دے کر، پھر سے Power میں آ جاؤ گے۔۔لیکن ایک نہ ایک دن ان 10غریبوں کے بچے کسی نسل سے ضرور شعور لے کے سنور جائیں گے اور یہ تمہارے کھوکھلے نعروں، ٹائم پاس ملاقاتوں اور الٹی سیدھی terms کے خلاف ضرور Resist کریں گے۔۔۔
ابھی بھی وقت ہے، اپنے مسلمان اور دینی بھائیوں کے لیے،اپنے حلقوں میں ماڈل سکول بنوا لو۔۔۔جہاں تمہارا اور مزدور کا بچہ اکٹھے بیٹھ کے پڑھے۔۔ورنہ یاد رکھو ہم مسلمان ہیں، قران و حدیث کے ماننے والے اور تمہارے یہ رکھیل مولوی کب تک قرآن و حدیث کے علم سے دور رکھیں گے، حالانکہ کہ ترجمہ کے ساتھ چیزیں موجود ہیں۔۔۔ کب تک وہ بھی صرف فرقے کی کتابیں پڑھاتے اور سناتے رہیں گے ؟
ہم مسلمان ہیں نہ کہ ہندو کہ تمہیں برہمن اور خود کو اچھوت سمجھ کے تمہاری تابعداری کرتے رہیں گے اور نہ مولویوں کو پنڈت سمجھتے ہیں کہ ان کی ہر بات، آنکھیں بند کر کے مانتے رہیں گے۔۔۔
ہم امام کائنات، امام اعظم محمد عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غلام ہیں اور انکی تعلیمات دنیا کے طا غوتی اور class system کا انکار ہے۔۔
تم 12000 ماہانہ میں میں اپنا گھر، مکان، بچوں کی تعلیم، نکاح اور موٹرسائیکل کا پٹرول manage کر کے دکھا ؤ؟؟
اللہ کا دیا، انگریز کا دیا رقبہ اور دولت، کرپشن اور بطور MNA, MPA, یا Minister ۔۔ 6لاکھ سے 10 لاکھ تک ماہانہ تنخواہ لیتے ہو۔۔۔ یہ سب کچھ ہے، اگر عوام کی بھلائی کے لیے اپنی جیب سے خرچ کر دو گے تو کیا ہو جائے گا۔۔ آخر یہ سب مال بھی تو غریب لوگوں کے حقوق کے نام پر بناتے ہو۔۔۔
۔
عوام کو چاہیئے کہ وہ یہ مطالبہ رکھیں۔۔کہ
ہر UC میں ماڈل سکول بنائے جائیں اور یکساں،ٹیکنیکل، Project based study اور Leadership Qualities والا سلیبس ہو۔۔ اور یکساں نظام ہو۔۔ نہ کہ Colonized

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.