"وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

ینگ ڈاکٹرز، کالے کوٹوں، امن و امان کے رکھوالوں کی بدمعاشیوں میں پستی عوام اور اسلام آباد کی تقریریں اور ٹویٹس

ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.