ظاہر و باطن…!!! بقلم:جویریہ چوہدری

ظاہر و باطن…!!!
(بقلم:جویریہ چوہدری)۔
وہ ہمیں پہ کڑکے…
ہمیں پہ گرجے…
اور ہمیں پہ برسے…
سو جگا گئے…
راہ دکھا گئے…
کر صفا گئے…!!!
مگر جو دیکھا__
پلٹ کر ہم نےاُنہیں…
اپنی ادا کو…
نہ وہ سنوار سکے…
بے وقت صدا کو…
نہ کردار سکے…!!!
نہ گفتار سکے…
وہ ہمیں پہ
چاہتے تھے برسنا…
سو ہم ہی کو نکھار گئے…!!!
نہ گریباں میں…
اپنے وہ جھانک سکے…
نہ اداؤں کو اپنی…
وہ تانک سکے…
جو مقام تھا کھوکھلا…
اُن کے دل میں ہمارا…
صد شکر وہ اپنے ہی…
لفظوں سے دل پہ ٹانک گئے…!!!
جو ظاہری صناعی کا…
تھا تعلق وقتوں سے…
اپنے ظاہر کی جھلکی میں…
باطن وہ اپنا دکھا گئے…
سو جگا گئے…
راہ دکھا گئے…!!!!!!
=============================

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.