fbpx

ضرورت سے زائد سختی بچوں میں شدید ڈپریشن کا سبب بن سکتی ہے،تحقیق

ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اگر بچوں پر ضرورت سے زائد سختی کی جائے تو ان کا ڈی این اے متاثر ہوتا ہے جس سے وہ لڑکپن اور جوانی میں ڈپریشن کے شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

باغی ٹی وی :یہ تحقیق اب جرمنی کی یونیورسٹی آف میونسٹر کی پروفیسر ایولِن وان ایشے نے کی ہے جو تحقیق کے وقت بیلجیئم کی جامعہ لیوون سے وابستہ تھیں اس کی تفصیل یورپی کالج آف نیوروسائیکولوجی فارماکولوجی کی کانفرنس میں پیش کی گئی ہیں۔

ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

پروفیسر ایولِن وان ایشے نے کہا کہ بچوں کو مارنے اور ان پر چیخنے چلانے کا عمل جین پڑھنے کے قدرتی عمل کو متاثر کرسکتا ہے اور یوں بچے کی مجموعی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔

مطالعے میں 21 نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کو لیا گیا جنہیں والدین نے بہترین ماحول میں پروان چڑھایا تھا اور نرمی سے تربیت کی تھی پھر 23 لڑکے لڑکیوں سےان کا موازنہ کیا گیاجو اسی عمر کے تھے اور بچپن میں والدین کی پٹائی، سختی اور بے رخی جھیل چکے تھے۔ ان کی اوسط عمر 12 سے 16 برس تھی۔

وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر. تحقیق

پھرماہرین نے شامل تمام افراد کا ڈی این اے پرکھا جس میں ڈی این اے کےساڑھے چار لاکھ مقامات پر میتھائیلیشن کا جائزہ لیا گیا میتھائلیشن ایک قدرتی عمل ہے جس میں کیمیائی اجزا کےچھوٹے ٹکڑے ڈی این اے سے منسلک ہوجاتے ہیں اوران کی ہدایات پر اثراندازہوتے ہیں اگر یہ عمل بڑھ جائے تو انسان ڈپریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔

اب جن بچوں کی تربیت سخت ترین ماحول میں ہوئی تھی ان کے ڈی این اے میں تبدیلی کی شرح بلند تھی اور جائزے کے بعد اس کے آثار ان کی نفسیات میں بھی دیکھے گئے۔

تحقیق میں بتایا کہ والدین کی سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے بچوں میں ایپی جنیٹکس تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اورحیاتیاتی طور پر ان میں ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہےالبتہ اس کے اثرات بلوغت میں ہی نمودارہوناشروع ہوجاتے ہیں۔ اس کا منفی اثرختم کرنےکےلیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی تربیت احساسِ تحفظ اور محبت کے ساتھ کی جائے تاکہ ان کی شخصیت متوازن ہوسکے۔

کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت