جدید سہولیات سے آراستہ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کنگ عبداللہ کیمپس کی تعمیر مکمل

0
49

مظفر آباد۔ (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کنگ عبداللہ کیمپس کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے جسے جامعہ کشمیر کی تحویل میں دے دیا گیا۔ کنگ عبد اللہ کیمپس سعودی حکومت کے ترقیاتی ادارے سعودیہ فنڈ فارڈویلپمنٹ کے تحت 8ارب روپے کی لاگت سے ترکی کی تعمیراتی کمپنی سیاہ قلم نے تعمیر کیا ہے۔کیمپس زلزلہ مزاحم اور عالمی معیار کے مطابق جدید سہولیات سے مزین ہے۔کنگ عبداللہ کیمپس میں 14شعبہ جات کیلئے کلاس رومز کے علاوہ جامع مسجد، ملٹی پرپز ہال، کیفے ٹیریا، مارکیٹ،فیکلٹی کیلئے 2سو بیڈ پر مشتمل ہاسٹل اور طلبا و طالبات کیلئے 12سو بیڈ پر مشتمل بوائز اور گرلز ہاسٹلزبھی اس کیمپس میں تعمیر کئے گئے ہیں۔ کنگ عبد اللہ کیمپس چھتر کلاس کو آزاد جموں وکشمیریونیورسٹی کے حوالے کی تقریب کا انعقادکیا گیا۔جس میں آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی،چیف انجینئر سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ سید یاسر گیلانی،سمیت ترک تعمیراتی کمپنی کے حکام،جامعہ کشمیر کے پرنسپل افسران،سربراہان شعبہ جات،کوارڈینٹر کنگ عبد اللہ کیمپس،ڈائر یکٹر سٹیٹ اور دیگر آفیسران نے شرکت کی۔تقریب میں چھتر کلاس کیمپس کو یونیورسٹی کے حوالے کئے جانے کے ڈرافٹ پر یونیورسٹی کی طرف سے ڈائر یکٹر سٹیٹ سید وقار گیلانی،ایرا کی جانب سے سید یادر گیلانی اور سیاہ قلم کمپنی کے نمائندے نے دستخط کئے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے اس موقع کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 8اکتوبر 2005کے زلزلہ کے بعد برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے انسانیت کی خدمت کی عظیم مثال قائم کی۔ زلزلہ متاثرین کیلئے امداد،ریلیف کی سرگرمیوں سمیت جامعہ کشمیر کے کنگ عبد اللہ کیمپس کی تعمیر کشمیریوں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا اظہار ہے۔ رئیس جامعہ ڈاکٹر عباسی نے مزید کہا کہ جامعہ کشمیر کا سٹی کیمپس ترکی کی حکومت کی جانب سے تعمیر کیا گیا جبکہ کنگ عبداللہ کیمپس سعودی حکومت نے تعمیر کیا،جس پر ہم دونوں ممالک کے شکر گزار ہیں۔ کیمپس کی تعمیر کے بعد جامعہ کشمیر میں تعلیمی سرگرمیاں پہلے سے بہتر انداز میں جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔ مختلف شعبہ جات کے طلبہ کو اب جدید ترین سہولیات سے آراستہ لیبارٹریز میں تحقیق کیلئے بہترین ماحول مہیا ہوگا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے مزید کہا کہ 8اکتوبر 2005کے زلزلہ میں جامعہ کشمیر کا سٹی کیمپس مکمل تباہ ہوا،زلزلہ میں 107اساتذہ، طلبہ اور ملازمین شہید ہوئے، جانی نقصان کے علاوہ یونیورسٹی کے تمام کلاس رومز اور ایڈمنسٹریشن بھی تباہی کی نذ ر ہوئیں۔طلبہ،اساتذہ اور ملازمین کی شہادتوں کا کوئی نعم البدل نہیں،مگر 8اکتوبر 2005کے زلزلہ کے بعد جامعہ کشمیر کے ساتھ دونوں اسلامی ممالک سعودی عرب اور ترکی نے جس طرح تعاون کیا،اس تعاون اور خلوص کو کشمیری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ مسئلہ کشمیر ہو یا کوئی سانحہ،دونوں ممالک نے جہاں پاکستان کے موقف کی حمایت کی وہاں بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنگ عبد اللہ کیمپس میں 14مختلف شعبہ جات کو شفٹ کیا جائے گا، جبکہ بقیہ 16شعبہ جات یونیورسٹی کے مظفرآباد کیمپسز سٹی کیمپس اور چہلہ کیمپس میں بدستور کام کرتے رہیں گے۔ وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ کیمپس میں شفٹنگ سے پہلے بجلی اور پانی کیلئے حکومت آزاد کشمیر اور وزیر اعظم سے درخواست کی گئی ہے۔ یونیورسٹی کو توقع ہے کہ حکومت آزاد کشمیر بجلی کی فراہمی میں مدد کرے گی تاکہ اس کیمپس کی تکمیل کرتے ہوئے اپنے شعبہ جات کو کیمپس میں شفٹ کیا جا سکے۔

Leave a reply