1994 میں جنسی زیادتی کرنیوالے دو بھائیوں کو 27 برس بعد عدالت نے سزا سنا دی
واقعہ بھارت کا ہے، عدالت نے دو بھائیوں کو دس دس برس قید کی سزا سنائی ہے،دونوں بھائیوں نے 1994 میں ایک 13 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تھی جس کے نتیجے میں لڑکی حاملہ ہو گئی تھی اور اس نے بیٹے کو جنم دیا تھا. لڑکی سے دو افراد،جو بھائی تھے نے زیادتی کی تھی، اب ان دونوں میں سے لڑکے کا باپ کون تھا؟والد کے تعین کے لئے 2021 میں خاتون نے مقدمہ درج کروایا،اور ڈی این اے کی درخواست دی پولیس نے دونوں بھائیوں کو گرفتار کیا . ڈی این اے کروایا گیا جس سے لڑکے کے باپ کا تعین ہو گیا . تا ہم عدالت میں کیس چلا اور عدالت نے دونوں بھائیوں کو دس بر س قید کی سزا سنائی ہے. شاہجہاں پور میں سرکاری وکیل راجیو ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کے چھ گواہوں پر جرح کی گئی۔
دونوں ملزمان کئی ماہ تک اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے
وکیل نے کہا کہ عدالت نے ملزموں کو آئی پی سی کی دفعہ 452 ، 506 اور 376-(2) جی کے تحت مجرم قرار دیا۔ ،استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ 1994 کا ہے جب متاثرہ لڑکی شاہجہاں پور میں رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہی تھی۔لڑکی گھر میں اکیلی تھی اور اسے پہلے بڑے بھائی نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور جانے سے پہلے اس نے دھمکی بھی دی کہ کسی کو بتانا نہیں۔ اگلے دن چھوٹے بھائی نے بھی اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خوف کی وجہ سے لڑکی نے کسی کو اطلاع نہیں دی۔ دونوں ملزمان کئی ماہ تک اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے رہے۔ بعد میں زیادتی کا شکار لڑکی اپنے رشتہ دار کے ساتھ لکھنؤ چلی گئی۔ خاتون نے بتایا کہ جب اس کا رشتہ دار ملزم سے ٹکرایا تو اس نے اسے دھمکیاں بھی دیں جس کے نتیجے میں انہوں نے پولیس سے رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
متاثرہ خاتون کی شادی ہوئی مگر شوہر کو ماضی کا پتہ چلا تو علیحدگی ہو گئی
دو بھائیوں کی جانب سے زیادتی کے بعد لڑکی حاملہ ہو گئی اور اسکی عمر صرف 14 برس تھی، اس لیے ڈاکٹروں نے اسقاط حمل کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے فروری، 1995 میں ایک لڑکے کو جنم دیا، اور اس کے رشتہ دار نے بچے کو ایک جوڑے کے ذریعہ گود لینے کا انتظام کیا، جس نے اس کی اچھی دیکھ بھال کرنے کا وعدہ کیا۔ رشتہ دار جوڑے کو ان کے آبائی علاقے سے جانتا تھا۔بعد میں اس عورت نے شادی کر لی اور اس کے شوہر سے ایک بیٹا پیدا ہوا۔ چھ سال بعد، اس کے ماضی کے بارے میں جاننے کے بعد، لڑکی کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا۔2021 میں، لڑکی کا پہلا بیٹا، جو اب 30 سال کا ہے، اس کے پاس آیا۔ متاثرہ کو شک تھا کہ اس کے گود لینے والے خاندان نے اسے اس کے بارے میں بتایا تھا۔ اس کے بار بار اپنے والد کے بارے میں پوچھنے کے بعد خاتون نے بالآخر اپنے بیٹے کو اپنی ماضی کی زندگی کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد اس نے اسے (متاثرہ) کو ڈی این اے ٹیسٹ کرانے اور مبینہ جنسی زیادتی کے حوالے سے کارروائی کرنے پر آمادہ کیا۔
واقعہ کا شاہجہاں پور پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، خاتون نے ایف آئی آر کے لئےعدالت سے رجوع کیا۔ اس نے اپنے بیٹے کے باپ کا تعین کرنے کے لیے دونوں ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کی بھی درخواست کی۔ خاتون نے بتایا کہ اس نے سماجی بدنامی کی وجہ سے پہلے پولیس سے رابطہ نہیں کیا تھا لیکن اب ایسا کر رہی ہے کیونکہ اس کا بیٹا، جسے اس نے گود لینے کے لیے چھوڑ دیا تھا، اپنے والد کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔
جنس معلوم کرنے کیلئے حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کرنے والے شوہر کو عمرقید
بھارت میں مرد ٹیچر نے الیکشن ڈیوٹی سے بچنے کیلئے خود کو ’حاملہ‘ قرار دیدیا
سفاک شوہر نے حاملہ بیوی اور کمسن بیٹی کو جان سے مار دیا
بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے
سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری
سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا
چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم
سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماںنے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد
کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا
کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل
16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار