بینک آف پنجاب کے نئے صدر کی تنخواہ58 لاکھ روپے مقرر،وزیراعظم کی تنخواہ کتنی ہے ، خبرآگئی

لاہور: بینک آف پنجاب کے نئے صدر کی تنخواہ58 لاکھ روپے مقرر،وزیراعظم کی تنخواہ کتنی ہے ، خبرآگئی ،اطلاعات کےمطابق صدر بینک آف پنجاب تعینات ہونیوالے ظفر مسعود کی ماہانہ تنخواہ 58لاکھ روپے مقررکردی گئی، ظفر مسعود نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق بینک آف پنجاب کے نئے تعینات ہو نے والے صدر ظفر مسعود کی ماہانہ تنخواہ 58لاکھ روپے مقرر کردی گئی، ظفر مسعود نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا، صدر بینک آف پنجاب کی ماہانہ تنخواہ کی منظوری بورڈ آف ڈائریکٹرز نےدی ہے۔ بینک آف پنجاب پاکستان کاچھٹا بڑا بینک ہے ۔ ظفر مسعود سےپہلاصدر بینک آف پنجاب ان سےزیادہ تنخواہ وصول کرتا تھا۔

ظفرمسعود کےپاس بین الاقوامی بینکنگ اور انٹرپر ینیورکے طور پر 27سال کاتجربہ ہے۔انہوں نے پاکستان اور بیرون ملک کئی ملٹی نیشنل بینکوں میں کلیدی عہدوں پر کام کیا ہے۔ ان کے پاس بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سطح پر کام کرنے کا بھی وسیع تجربہ ہے ۔ محکمہ خزانہ پنجاب نے صدر پنجاب بینک کے تنخواہ کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ چھیانوے ہزار ہے اور وزر کی اڑھائی لاکھ روپے ہے جبکہ صدر مملکت عارف علوی کی تنخواہ سات لاکھ سے زائد ہے۔ سیلری سلپ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی بنیادی تنخواہ تو ایک لاکھ سات ہزار دو سو اسی روپے ہے۔تاہم مختلف الاؤنسز سمیت مجموعی طور پر 2لاکھ 1 ہزار 574 روپے بنتی ہے۔ وزیراعظم کی تنخواہ پر چار ہزار پانچ سو پچانوے روپے ٹیکس بھی کٹتا ہے۔ اسی طرح چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ ایک لاکھ سولہ ہزار اور ڈپیٹی چیئرمین کی ایک لاکھ چھ ہزار روپے ہے۔ ایک سینیٹر مجموعی تنخواہ کی مد میں چھہتر ہزار روپے لے رہاہے۔

یاد رہے کہ بینک آف پنجاب کے سابق صدر نعیم الدین خان نے ذاتی وجوہات کی بناء اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر نعیم الدین خان کے خلاف انسائڈر ٹریڈنگ، اختیارات کا غلط استعمال اور بینک میں غیر قانونی فائدہ اٹھانے کے الزام میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.