ایک معذورلڑکی کی مختصرداستان حیات”فروٹ چاٹ” کے نام سے مختصرفلم جسے دیکھنا نہ بھولئیے

0
36

لاہور:ایک معذورلڑکی کی مختصرداستان حیات”فروٹ چاٹ” مختصرفلم جس نے معذوری کے باوجود بڑاکارنامہ سرانجام کردکھایا،اطلاعات کےمطابق عام طور پر پاکستانی ڈراموں یا فلموں میں مختلف جسمانی مسائل کے ساتھ پیدا ہونےو الے انسانوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور اگر کبھی خصوصی افراد کو اسکرین پر دکھایا بھی جاتا ہے تو انہیں ایک کمزور شخص کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

لیکن حال ہی میں ریلیز کی گئی مختصر فلم ’فروٹ چاٹ‘ میں ایسا کچھ نہیں دکھایا گیا بلکہ مذکورہ مختصر فلم کو دیکھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے سماج میں موجود خصوصی افراد کس طرح آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کا ساتھ دینے والے کچھ قریبی افراد کس قدر انہیں خود سے مختلف نہیں بلکہ اپنے جیسا ہی سمجھتے اور مانتے ہیں۔

’فروٹ چاٹ‘ نامی مختصر فلم کو آن لائن اسٹور گرلی تھنگز کی بانی تنزیلہ خان نے لکھا ہے اور انہوں نے خود ہی اس مختصر فلم میں شبانہ کا مرکزی کردار بھی ادا کیا ہے جو کہ مشکلات کے باوجود بلند حوصلوں کے ساتھ مثبت سوچ کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔مختصر فلم میں جسمانی معزور کے ساتھ پیدا ہونے والی شبانہ کو ایک ایسے کردار میں دکھایا گیا ہے جو کہ ویل چیئر پر ہونے کے باوجود نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہیں بلکہ عام نارمل انسانوں کی طرح زندگی مین آگے بھی بڑھتی ہیں۔

’فروٹ چاٹ‘ کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح فلم میں جسمانی معزوریوں اور مسائل کے ساتھ پیدا ہونے والے بعض افراد تمام مسائل کے باوجود زندگی میں آگے بڑھنے کی جستجو کرتے ہیں اور وہ چاہتےہیں کہ لوگ ان پر رحم کرنے کے بجائے انہیں برابری کے مواقع فراہم کریں۔تنزیلہ خان کا کہنا تھا کہ عام طور پر دنیا بھر میں جسمانی مسائل یا معزوری کے ساتھ پیدا ہونے والے افراد کو ہمدری کی بنیاد پر مواقع دیے جاتے ہیں اور ایسے مواقع دیے جانے کے وقت انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ان پر رحم کرکے انہیں موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

تنزیلہ خان کہتی ہیں کہ ایسے افراد کو ان سے ہمدردی یا ان پر رحم کھا کر مواقع دینے کے بجائے انہیں ان کی تعلیم و اہمیت کے مطابق مواقع دینے چاہئیے جس کے وہ مستحق ہیں۔تنزیلہ خان کے مطابق پاکستان میں معزور ہونا اور خاتون ہوکر معزور ہونا انتہائی مشکل ہے اور ایسی خواتین کو آگے بڑھنے میں سخت مشکلات درپیش آتی ہیں لیکن ایسی خواتین کے لیے سماج کو سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

تنزیلہ خان نے ’فروٹ چاٹ‘ کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے چند دلچسپ واقعات پر بھی بات کی اور بتایا کہ کس طرح انہوں نے ایک ہی دن میں پوری فلم کی شوٹنگ کی اور انہوں نے کتنا منفرد تجربہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ فلم کی شوٹنگ کر رہے تھے کہ پولیس نے انہیں آکر روکا اور پولیس کا خیال تھا کہ ہم معزور افراد کے حوالے سے کوئی غلط چیز کر رہے ہیں اور انہیں پولیس کو سمجھانے میں کافی وقت لگا۔

تنزیلہ خان کے مطابق ان کے ساتھ اداکار فواد جلال اور ہدایت کار معیز عباس جیسے افراد نے بلامعاوضہ کام کیا جس پر وہ ان کی مشکور ہیں۔تنزیلہ خان نے امید ظاہر کی کہ ’فروٹ چاٹ‘ دیکھنے کے بعد اب پاکستانی ٹی وی اور فلم پروڈکش ہاؤسز بھی جسمانی طور پر معزور ہونے والے افراد کو مختلف کردار میں دکھانے کی کوشش کریں گے۔

’فروٹ چاٹ‘ میں ایک ایسی خوبصورت بھاری بھر کم لڑکی کو دکھایا گیا ہے جو کہ بڑی محنت سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک ملازمت بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں اور ساتھ ہی فلم میں اسی لڑکی کو ملازمت چھوڑ کر اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرنے اور پھر محبت کی جانب راغب ہوتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔لیکن اس ساری کہانی کے دوران فلم میں دکھائی گئی جسمانی معزور لڑکی کو ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں دوسروں کو متاثر کرنے والی شخصیت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

Leave a reply