fbpx

ڈاکٹرعامرلیاقت کے خلاف 295 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر

کراچی : ڈاکٹرعامرلیاقت کے خلاف 295 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر،اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی ایم این اے اور ٹی وی اینکرڈاکٹرعامرلیاقت ان دنوں کچھ ایسی حرکتیں کررہے ہیں کہ جن کےبعد ہرذی شعور کو ان کے تحت الشعور کی تندرستی پرشک ہونے لگا ہے

اس حوالے سے ویسے تو بہت سے ایسے حقائق ہیں مگرآج ایک ایسی حقیقت سامنے آئی ہے جس کودیکھنے کے بعد یہ دعویٰ اور بھی مضبوط ہوجاتا ہے،یہ درخواست علما کی طرف سے تھانہ سچل ایسٹ کراچی میں جمع کروائی گئی ہے

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسا واقعہ جو کہ آج سے 27 سال پہلے ہوا اورجس کے آج کے حالات سے کوئی تانے بانےنہیں پھرڈاکٹرعامرلیاقت جیسا شخص ان واقعات کو کیوں منسوب کرکے حالات خراب کرنا چاہتا ہے

یہ درخواست جعفریہ الائنس کی طرف سے ایس ایچ او تھانہ سچل کو دی گئی ہے، اس میں کہا گیا کہ ڈاکٹرعامرلیاقت کی گفتگو اورحرکات سے مذہبی برداشت کو نقصان پہنچ رہا ہے اوراس شخص کی غلط بیانی سے معاملات خراب ہورہے ہیں،

پاکستان جعفریہ الائنس کی طرف سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کی دفعہ 298 اے اور 295 اے کے تحت جو شخص کسی دوسرے مسلک اور فرقے کی دل آزاری اور جماعتوں میں تفریق پیدا کرکے حالات خراب کرتا ہے اس کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہیں اور ڈاکٹرعامرلیاقت نے مدینہ مسجد کے واقعہ کو بنیاد بنا کریہ جرائم کیے ہیں ،اس لیے اس شخص پرمقدمہ درج کیا جائے

یاد رہےکہ دو دن قبل بھی ڈاکٹرعامرلیاقت نے ایسی ہی کچھ حرکات کی تھیں جن کی وجہ سے وہ بہت زیادہ متنازعہ بن چکے ہیں

یاد رہے کہ دو دن قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی ڈاکٹرعامر لیاقت کی ایک ویڈیو گردش کر رہیرتھی جو اب بھی موجود ہے جس میں وہ وزیراعظم عمران خا ن اور ریاست مدینہ پر بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں-

ویڈیو میں ڈاکٹر عامر لیاقت کہتے ہیں کہ میں الفاظ کا بہت نپا تلا آدمی ہوں میرے لئے یہ لفظ بہت اہم ہے مدینہ،انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں مسجد مدینہ گرا رہے ہیں-

ویڈیو میں کسی نے سوال کیا کہ حکومت تو آپ کی ہے آپ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟ جس پر رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ جو مسجدیں گراتی ہے وہ میری حکومت نہیں ہے –

ڈاکٹر عامر لیاقت سے سوال کیا گیا کہ اس حوالے خان صاحب نے ابھی تک تو کوئی ایکشن نہیں لیا خان صاحب کو شرم نہیں آئی کہ وہ مسجد کے‌خوالے سے کوئی بات کریں؟ جس پر عامر لیاقت نے مزاحیہ انداز میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب کو شرم ہوتی تو آتی ناں-

ویڈیو وائرل ہونے پر صارفین کی جانب سے عامر لیاقت پر تنقید کی جا رہی ہے جبکہ صارفین کا کہنا ہے کہ قبضے کی زمین پر مسجد بنائی گئی ہے اس کا جھگڑا ہے ناجائز زمین پر مسجد بنانا کہاں کا اسلام ہے-

دوسری جانب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عامر لیاقت نے صفائی پیش کی کہا کہ میرا خان صاحب سے رشتہ ایسا ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا جو بھی میری بات آپ کو بُری لگی ہے یقیناً وہ بُری لگنی بھی چاہیئے لیکن بات کا تناظر چھپانا سب سے بُری بات ہے میں نے یہ بھی کہا تھا کہ شرم آتی ہے تو آتا ہے اور اقوام متحدہ میں آتا ہے پھر آ کر وہاں خطاب کرتا ہے رسول کی بات کرتا ہے میری اس ویڈیو کودرمیان میں سے کاٹ کر وائرل ویڈیو میں اگلا حصہ نہیں دکھایا گیا لیکن اس کے باوجود میں سب پی ٹی آئی رہنماؤں سے معذرت خواہ ہوں-

عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ میں خان صاحب سے بھی معافی مانگتا ہوں اور ان کے پاس جا کر بھی معافی مانگوں گا ان کا عامر ایسا نہیں ہے ان کا عامر انہیں بہت چاہتا ہے دل سے محبت کرتا ہے-

عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم جناب عمران خان جو میرے پارٹی چیئرمین لیڈر اور رہبر کے ساتھ ساتھ میرے دوست بھی ہیں انہیں یقیناً میرے الفاظ سے ٹھیس پہنچی ہے میں ان سے دل کی گہرائیوں سے معافی مانگتا ہوں اور پی ٹی آئی کے تمام ساتھیوں سے بھی ان کے کارکن بھائی کی حیثیت سے معافی کا طلب گار ہوں-

اس سے قبل اپنے ٹوئٹ میں عامر لیاقت نے کہا کہ رات کے اس پہر ناسازی طبع کے باوجود اپنے حلقے کے اہل دیو بند کے ساتھ سینہ سپر کھڑا ہوں، سب کا تعلق مولانا فضل الرحمن صاحب سے ہے لیکن میرا تعلق اس رحمن سے ہے جس نے مدینے والے کو بھی تخلیق کیا ، الرحمن، علم القران، خلق الانسان، علمہ البیان، ہم سب ساتھ ہیں مدینہ مسجد نہیں گرنے دیں گے-

 

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ شکر گذار ہوں مولانا فضل الرحمن صاحب کے کارکنان اورعلمائے دیو بند کا جنہوں نے میری بات توجہ سے سنی اور ہم سب نے این ے 245 کی فلاح اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے جناب سومرو بھائی اور جناب سینیٹرعبدالغفور حیدری صاحب کی موجودگی میں مشترکہ پریس کانفرنس کا فیصلہ کیا ہے-

واضح رہے کہ اس سے قبل ماضی میں عامر لیاقت حسین کراچی کے مسائل پر وزیراعظم عمران خان سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں جب کہ انہوں نے کراچی کے مسائل پر مستعفی ہونے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن وزیراعظم سے ملاقات کے بعد انہوں نے استعفے کا فیصلہ واپس لیا تھا-

جبکہ گزشتہ سال اکتوبر میں کراچی سے پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے عامر لیاقت حسین نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیاعامر لیاقت حسین نے ٹوئٹ کرتے ہوئے مستعفی ہونے کی اطلاع دی تھی تاہم انہوں نےاستعفیٰ دینے کی وجہ نہیں بتائی تھی عامر لیاقت حسین نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘قومی اسمبلی سے استعفیٰ ارسال کردیا ہے، اللہ تعالی عمران خان اور پی ٹی آئی کا حامی و نا صر ہو ۔ اللہ حافظ-

 

ڈاکٹر عامر لیاقت آئے سن اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں کی شہ سرخیوں میں رہتے ہیں جبکہ اپنے بیانات کی وجہ سے انہیں صارفین کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا رہتا ہے گزشتہ دنوں بھی انہیں اپنی ’تشویش ناک‘ صحت سے متعلق ٹوئٹ کرنے کے بعد لوگوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عامر لیاقت حسین نے 30 نومبر کی شب مختصر ٹوئٹ کی تھی کہ ’انہیں تشویش ناک حالت میں کراچی کے علاقے ڈیفینس میں موجود نجی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے‘ان کے اکاؤنٹ پر کی گئی ٹوئٹ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی صحت سے متعلق ٹوئٹ کسی دوسرے شخص نے لکھی۔

 

 

جہاں لوگوں نے ان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا اور لوگوں نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کیں، وہیں متعدد افراد نے ان کی ٹوئٹ کو ڈراما قرار دیتے ہوئے ان کے لیے نامناسب جملوں کا استعمال بھی کیا تھا درجنوں افراد نے ان کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ جب وہ تشویش ناک حالت میں ہیں تو ان کے اکاؤنٹ پر ری ٹوئٹ کس نے کیا؟ ساتھ ہی کچھ افراد نے انہیں اداکار قرار دیا تھا جبکہ کچھ صارفین نے تو انہیں چھوٹا نواز شریف اور چھوٹا الطاف حسین بھی کہا تھا-