اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے خطرے سے خبردار کر دیا

0
36

اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے خطرے سے خبردار کر دیا۔

باغی ٹی وی : اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے باعث لاکھوں بچوں کے بھوک کی وجہ سے لقمہ اجل بننے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی افریقی ملک صومالیہ کو اس دہائی کی بدترین خشک سالی کا سامنا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر بینکوں کےاوقات کار میں تبدیلی،ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کیوں؟

صومالیہ یوں تو اکثر خشک سالی کا شکار رہتا ہے تاہم اس وقت یہ رواں دہائی کی بدترین خشک سالی سے گزر رہا ہے۔اس کے پڑوسی ممالک ایتھوپیا اور کینیا بھی متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں ورلڈ فوڈ پروگرام، فوڈ اینڈ ایگری لچر ایجنسی (ایف اے او) انسانی امدادی سرگرمیوں میں شامل ایجنسی او سی ایچ اے اور یونیسیف کے عہدیداروں نے منگل کے روز ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بڑھتی ہوئی ضروریات کی وجہ سے دستیاب امداد ختم ہوتی جارہی ہیں اور بہت سے متاثرہ صومالیوں میں اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی سکت باقی نہیں رہ گئی ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے صومالیہ کے نمائندے الخضر دالوم نے کہا کہ حقیقت میں صورت حال ایسی ہوگئی ہے کہ ہم کسی بھوکے سے کھانا لے کر بھوک مری کی دہلیز پر پہنچ جانے والے لوگوں کوکھلانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں لاکھو ں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سال اپریل سے جون کے دوران مشرقی افریقہ میں بارش نہیں ہونے کی پیشن گوئی کی گئی ہے اس کے علاوہ اناج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نیز یوکرین میں تصادم کی وجہ سے اناج کی سپلائی متاثر ہوجانے کے سبب اناج کی قلت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث صومالیہ کے 6 خطوں کو قحط زدہ علاقوں کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔

ایک نئی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 40 فیصد حصہ یعنی تقریباً 60 لاکھ افراد خوراک کی انتہائی شدید قلت سے دوچار ہیں قحط کی وجہ سے بچے اس کا سب سے زیادہ شکار ہوں گے۔ اس سال ہی تقریباً 14 لاکھ بچوں کو انتہائی قلت تغذیہ کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ان میں سے ایک چوتھائی کی بھوک کی وجہ سے ہلاکت ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق صومالیہ میں قحط کے بحران پر قابو پانے کے لیے 1.5 ارب ڈالر کی رقم درکار ہے جس میں سے اب تک صرف 4.4 فیصد ہی حاصل ہو سکا ہے-

یاد رہے کہ اس سے پہلے صومالیہ میں سن 2011ء میں قحط اور تصادم کی وجہ سے ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اپنے ہی وزراء برطرف کر دیئے

Leave a reply