fbpx

عوام کا کیا بنے گا ؟ تحریر: نوید شیخ

قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دوںوں کی جانب سے ایک بار پھر خوب الزام تراشی ہوئی ۔ منی بجٹ ایجنڈا نمبرون رہا ۔ ایک دوسرے کو خوب آئینہ دیکھانے کی بھی کوشش ہوئی ۔ دیکھا جائے تو حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت منی بجٹ کو منظور کرانے کے لیے جتنی بے تاب ہے اپوزیشن اتنا ہی اس معاملے میں رخنہ اندازی کررہی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ منی بجٹ سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا جسے وہ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ یہ بات سچ بھی ہے ۔ پر پاکستان کی اس معاشی صورتحال کو عالمی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے آگے چل کر تفصیل سے آپکو بتاتا ہوں ۔

۔ فی الحال تحریک انصاف جس طرح عوام پر آئی ایم ایف کو ترجیح دے رہی ہے اس سے لگتا یہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام اس پر اعتماد نہیں کریں گے۔اور اس چیز کا کپتان کو جھٹکا ضرور لگے گا ۔۔ میں آپکو بتاوں یہ طے شدہ بات ہے کہ آئی ایم ایف جس ملک کو قرضہ دیتا ہے اس پر بہت سی شرائط بھی عائد کرتا ہے اور ان شرائط کے ذریعے وہ اس کی ملک کی آزادی اور خود مختاری پر اثر انداز ہونے کے علاوہ معاشی حوالے سے زیادہ تر فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ ۔ پھر یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ امریکی و مغربی ذرائع ابلاغ اور مختلف تھنک ٹینکس گزشتہ کئی برسوں سے ایک تواتر اور تسلسل کے ساتھ انتہاپسندی ، شدت پسندی اور غیر یقینی سیاسی حالات کو جواز بنا کر پاکستان کے جوہری اثاثوں، بلوچستان اور آزاد قبائلی علاقوں کے حوالے سے جارحانہ اور اشتعال انگیزانہ پراپیگنڈہ بھڑکاتے رہتے ہیں ۔ ۔ ان ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس کے مفروضات پر مبنی خیالات دراصل اُن کے ما فی الضمیر میں چھپے مذموم عزائم ہیں۔ اسی لیے امریکی حکام کا رویہ پاکستان سے ٹھیک نہیں ۔

۔ آپ دیکھیں ماضی میں بھی اور اب بھی قرضہ دیتے ہوئے پاکستان سے کئی ایسی شرائط منوائی گئیں جن سے شاید حکمران اشرافیہ کو تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ان شرائط کی وجہ سے مہنگائی میں ہونے والے اضافے نے عوام کو بے حال کردیا ہے۔ ریاست سے عوام کی نفرت میں مزید اضافہ ہوا ۔ خاص طور پر جو ان علاقوں میں جو باقی ملک کے مقابلے میں پیچھے ہیں ۔

۔ عالمی کیا اب تو لوکل ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت اس سطح پر آچکا ہے کہ آج ڈیفالٹ ہوا یا تو کل ۔ کیونکہ اس بار تو پاکستان کی زراعت کو ایسے لگتا ہے کہ سازش کے تحت تباہ کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ زراعت ہی ہماری backbone تھی ۔ جس کے حوالے سے کہا جاتا تھا کہ چاہے ہم ڈیفالٹ کرجائیں پر ہم اپنی عوام کو بھوکا نہیں مرنے دیں گے کیونکہ ہم اپنا اناج خود اگاتے ہیں پر اب ایسا نہیں ہے ۔ اب تو ہم گندم تک باہر سے امپورٹ کر رہے ہیں ۔ ۔ پھر اس وقت سی پیک کو لے کر بھی پاکستان پر بہت پریشر ہے کہ کسی طرح اس کو رول بیک کیا جائے ۔ چین کو یہاں سے نکالا جائے ۔ دراصل امریکی مفاد یہ ہے کہ پاکستان یوں ہی آئی ایم ایف کی بیساکھیوں کے سہارے چلتا رہے ۔ اور اپنے پیروں پر کبھی کھڑا نہ ہوسکے ۔ یہاں تک کہ اگر پاکستان ڈیفالٹ بھی کر جاتا ہے تو کرجائے کیونکہ اب امریکی ماننے لگے ہیں کہ یہ بھی ان کے مفاد میں ہے ۔ کیونکہ چین تو کئی تیس بلین ڈالرز سے زیادہ پاکستان میں لگا چکا ہے ۔ اور اگر پاکستان ڈیفالٹ کرتا ہے تو چین ۔۔۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق ۔۔۔ ہر صورت پاکستان کو ریسکیو کرنے کو آئے گا ۔ اوریوں چین پر پاکستان ایک اضافہ بوجھ سا بن جائے ۔ جس فائدہ بالآخر امریکہ کو ہی ہوگا ۔

۔ میں کوئی conspiracy theory پیش کرنے کی کوشش نہیں کررہا ہے صرف حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔ نتیجہ آپ خود اخذ کر لیں ۔ ۔ اب جب اس تمام صورتحال میں یہ چیز سامنے آئے کہ تحریک انصاف کو یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ سمیت ہمارے دشمن نمبرون ممالک سے فنڈز بھی موصول ہوئے ہیں ۔ تو انسان سوچنے پر ضرور مجبور ہوجاتا ہے کہ کہیں جانتے بوجھتے ہوئے تو پاکستان کو گروی نہیں رکھوایا جارہا ہے۔ کہیں جانتے بوجھتے ہوئے تو نہیں چن چن کر نااہل لوگ ادارے میں لگائے جا رہے ہیں کہ نظام بالکل ہی بیٹھ جائے ۔ پاکستان بالکل ہی فیل ہوجائے ۔ اس فارن فنڈنگ کیس کو آپ معمولی چیز نہ سمجھیں ۔ جن ممالک سے فنڈنگ کے الزامات ہیں وہ کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے ۔ کیونکہ یاد رکھیں جب آپ معاشی طور پر فیل ہوگے تو نہ تو ایٹمی قوت برقرار رکھ سکیں گے نہ ہی اتنی بڑی فوج کو مینج کرسکیں گے ۔

۔ میرے خیال سے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پی ٹی آئی کو شائد نئے نام سے جماعت رجسٹر کرانی پڑے ۔ اس رپورٹ نے جہاں ملک بھر کے اہل علم کو ششدر کر دیا ہے وہیں دنیا بھر میں پی ٹی آئی کے دوستوں کوبھی حیران کیا ہے جبکہ چندہ دینے والے افراد تنظیمیں اور ادارے بھی تذبذب کاشکار ہیں ۔ ۔ آپ دیکھیں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے کل بارہ جنوری کو اپنے ایک اجلاس میں اس بات کا جائزہ لینا تھا کہ پاکستان نے کس حد تک اس کی شرائط کو نافذ کیا ہے۔ اس جائزہ اجلاس کے بعد پاکستان کو ایک ارب پانچ کروڑ ڈا لر کی قسط دینے سے متعلق فیصلہ کیا جانا تھا۔ ۔ اب پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف سے درخواست کی کہ جائزہ اجلاس مؤخر کردیا جائے کیونکہ شرائط کے نفاذ کے لیے منی بجٹ اور سٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل تاحال پارلیمان سے منظور نہیں ہوئے۔

۔ اس پر پاکستان میں آئی ایم ایف کی ترجمان Esther Perez فوراً نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے چھٹے جائزے پر غور پاکستان کی درخواست پر ملتوی کیا گیا ہے ۔ اب امکان ہے کہ اجلاس اسی مہینے کی 28 یا 31 کو ہوگا اور حکومت کوشش کررہی ہے کہ اس اجلاس سے پہلے دونوں بلوں کو پارلیمان سے منظور کرالے۔ ۔ منی بجٹ کی منظوری سے متعلق ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اس بل کا جائزہ لے کر آئین کی شق 73 کے مطابق اپنی سفارشات مرتب کررہی ہے۔ قومی اسمبلی ان سفارشات کی پابند نہیں اور وہ ان پر غور کیے بغیر بھی منی بجٹ کی منظوری دے سکتی ہے۔ ۔ پھر سینیٹ کسی بھی بل سے متعلق اپنی سفارشات مرتب کرنے کے لیے چودہ دن کا وقت لیتا ہے تاہم چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 4 جنوری کو ارکان سینیٹ سے کہا تھا کہ وہ تین دن کے اندر اس بل سے متعلق سفارشات تیار کریں جس پر ارکان نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اتنی کم مدت میں بل پر غور نہیں کرسکتے۔ ۔ آپ دیکھیں عمران خان مسلسل خود کو پاک اور شفاف قرار دیتے آرہے ہیں بلکہ صادق و امین کا لاحقہ اپنے نام کے ساتھ لگاتے ہیں اپنی ہر تقریر میں اپنے مخالفین کی خوب لیتے ہیں انہیں چور ،بد عنوان اور نہ جانے کیا کیا کہتے آرہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ ان کا اوڑھنابچھونا ہے۔ مگر جس طرح یہ آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کے گلے میں ڈال رہے ہیں ۔ اور جو فارن فنڈنگ کیس کے راز کھل کھل کر سامنے آرہے ہیں ۔ وہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونے چاہیئں ۔

۔ میں آپکو بتاؤں کہ فارن فنڈنگ کیس میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ آنے کے بعد عمران خان خود اور پی ٹی آئی بھی اخلاقی پیمانوں میں وہیں کھڑی ہے جہاں وہ دوسروں پر الزام تراشی کرتے رہے ہیں۔ اب تو انکے حمائتی بھی انکی حمایت میں بات کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ بالکل ان کے اپنے ترجمان جیسے احمد جواد انھوں نے تو آج سیریز آف ٹویٹس کی ہیں کہ
” پی ٹی آئی کے دور میں کروڑ پتی اور ارب پتی بننے والے پی ٹی آئی کے وزیروں اور لیڈروں کی فہرست بنا رہا ہوں ۔ ریاست مدینہ میں انصاف اور احتساب سب کا ہوگا ۔ ادھر ترکی میں بھی کچھ کھرے ملے ہیں ”
۔ اسے کہتے ہیں اونٹ کا پہاڑ کے نیچے آنا یا مکافات عمل کا شکار ہونا، پی ٹی آئی اس الزام کے بعد عوام کی نظروں میں مزید گر چکی ہے مہنگائی ،لاقانونیت اندرونی اور بیرونی سطح پر بھی اسکی کوئی شاندار کارکردگی نہیں تھی لیکن اس معاملے نے تو پی ٹی آئی کی رہی سہی ساکھ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ۔ کیونکہ یاد رکھیں یہ سب کچھ کوئی پی ٹی آئی کے خلاف سازش نہیں بلکہ یہ تمام آوازیں ، الزامات اور حقائق پی ٹی آئی میں موجود اچھے لوگ سامنے لائے ہیں جو عمران خان کی تقریروں کے دھوکے میں آگئے تھے ۔ پر جب انھوں نے حقائق دیکھے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ فارن فنڈنگ کیس کا علم بھی سابق پی ٹی آئی کے لیڈر اکبر ایس بابر نے اٹھایا ہوا ہے ۔ پھر حکیم سعید سے لے کر ڈاکٹر اسرار کے عمران خان کے حوالے سے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں ۔ تو موجودہ دور میں فضل الرحمان تو بغیر کسی لگی لپٹی کے عمران خان کو جن کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں ۔ اگر خوانخواستہ یہ رتی برابر بھی ٹھیک نکلا تو پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فی الحال پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ عالمی طاقتیں جہاں پاکستان کو زیر نگیں رکھنا چاہتی ہیں تو ہماری حکمران اشرافیہ ان کی رکھیل بنی ہوئی ۔ ان کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنے مفادات ، اپنی پارٹی ، اپنے رشتہ دار اور اپنے کاروبار کا تو خیال ہے ۔ عوام کا کیا بنے گا ۔ اس ملک کا کیا ہو ۔ اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ۔ حکمرانوں کی عالمی اسٹیبلشمنٹ سے پیار کی پینگیں اور عوام سے یہ ہی وہ لاتعلقی ہے ۔ جو سب کچھ ملیا میٹ کرسکتی ہے ۔