آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

0
66

امریکا میں کی گئی ایک تحقیق میں آواز کی لہروں سے کینسر کے علاج کا تجربہ ناصرف کامیاب رہا بلکہ کینسر زدہ پھوڑوں کے دوبارہ نمودار ہونے کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

باغی ٹی وی : مشی گن یونیورسٹی میں چوہوں پر آواز سے کینسر کے علاج کا تجربہ کیا گیا ہے یہ غیرتکلیف دہ تھراپی ہے جس میں چوہوں کو پہلے جگر کے سرطان کا مریض بنایا گیا۔ پھر ان رسولیوں کا آواز کی لہروں سے علاج کیا گیا۔

جب رسولیوں کی مناسب تعداد غائب ہوئیں توجگر فعال ہوگیا اور اس کا قوتِ مدافعی نظام جاگ اٹھا اوراس نےباقی بچ جانے والے رسولیوں کو ختم کردیا ، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بیماری نے ان چوہوں پر دوبارہ حملہ بھی نہیں کیا۔

فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

اس حوالے سے زین ژو جوکہ جامعہ مشی گن میں بایو میڈیکل انجنیئرنگ کے ماہر ہیں، ان کا کہنا کہ ہم آواز کی لہروں سے رسولیوں کا مکمل خاتمہ کرسکتے ہیں کیونکہ جیسے ہی جگر کے اوپر کے سرطانی پھوڑے 50 سے 75 فیصد تک کم کردیئے جائیں تو مدافعتی نظام باقی بچ جانے والی رسولیوں اور سرطانی خلیات کو خود بخود ہی ختم کردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ 80 فیصد چوہوں کو دوبارہ کینسر نہیں آیا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو ہسٹوٹرپسی کا نام دیا گیا ہے جس میں آواز کی لہروں سے ملی میٹر درستگی تک سرطانی پھوڑوں کو ختم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ انسانوں پر بھی اسے آزمایا گیا ہے لیکن ان کے نتائج میں ابھی وقت لگے گا۔

ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

اگرچہ علاج کے دوران رسولیوں کو مکمل طور پر ختم نہ کرنا بظاہر عقلمندی کی بات نہیں ہے لیکن رسولی جسم میں کس جگہ موجود ہے ان کا سائز یا وہ کس درجے پر پہنچ چکی ہے، یہ ساری پیچیدگیاں آواز کی لہروں سے رسولیوں کے مکمل خاتمے کو ناممکن بنا دیتی ہیں-

اسی لیے محققین نے 70 سے 75 فیصد رسولیوں کے خاتمے کے بعد مدافعتی نظام کے باقی بچ جانے والی رسولیوں پر اثر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اس ٹیکنالوجی کو انسانوں پر بھی آزمایا گیا ہے لیکن انسانوں پر کیے گئے اس تجربے کے نتائج سامنے آنے میں ابھی وقت لگے گا۔

ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

Leave a reply