fbpx

ماڈل ایان علی عمران خان پر برس پڑیں،کھری کھری سنا دیں

دبئی: ماڈل ایان علی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ” گھبرانا نہیں ہے” کا مشورہ دے دیا-

باغی ٹی وی : ماڈل ایان علی نے خود سے متعلق عمران خان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ایان علی کا کہنا تھا کہ میں نے 20 سال کی عمر میں جھوٹے مقدمات لڑے اور جیت چکی، امید ہے آپ بھی گھبرائیں گے نہیں-


ایان علی نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہیں آپ کتنے دن برداشت کرتے ہیں جو میں نے کیا مزید عزت افزائی کروانی ہو تو پھر میرا نام لیں-


آپ کی جانب سے ایک پولیس آفیسر پر حملہ Live TV پر کیا گیا دوسرے آفیسرز کو دھمکیاں بھی Live TV پر دی گئیں وقت آ گیا ہے کہ آپ ان اور دوسرے مقدمات بشمول آٹا چوری، رنگ روڈ، مالم جبہ، بی آر ٹی، ادویات، پٹرولیم، مہمند ڈیم، بلاسفیمی، فارن فنڈنگ کا جواب دیں-

ایان علی نے کہا کہ دو عادات شاید آپ مرتے دم تک نہیں چھوڑ سکتے پہلی میرے نام پرٹی آر پی کمانا (کیونکہ خود کمانا و کھانا آپ کی فطرت نہیں) دوسری جھوٹ بولنا (کیونکہ سچ بولنا آپ نے سیکھا نہیں) چار سال وزیر اعظم رہے، پھر بھی مجھ پر جھوٹا الزام لیے بغیر آپ کی تقریر و خبر نہیں بنتی جیسے پہلے نہیں بنتی تھی-


آج بھی آپ کو میری ضرورت ہے اس سے جُڑے رہنے کے لیے یہ آپ کے اقتدار کی Damming Indictment ہےاپنا کیا کرایا کچھ ہوتا تو بیان کر لیتے، آخیر عمر میں میرے نام پر جھوٹ تو نہ بولتےآپ چار سال وزیر اعظم رہے، میں اس دوران بھی جھوٹے مقدمات سے بری ہوئی کیونکہ میں سچی آپ جھوٹے تھے اور ہیں-


جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتےجیسے آپ کے اس جھوٹ کے کہ میرے کیس کے تفتیشی افسر کا قتل ہوامیرے کیس میں تفتیشی افسر ایک انسپکٹر سلیم تھے پہلے دن سےآج تک زندہ ہیں ہٹے کٹے ہیں اور اپنے ڈیپارٹمنٹ سے انعام لے رہے ہیں مجھ پر جھوٹی کیس ڈالنے کے
ہر کورٹ ڈوکیومنٹ پر اُن کا نام ہے


ان سمیت ہر شخص جو کورٹ ڈوکیومنٹس میں ہے زندہ ہے آپ شاید آپنی تھرڈ ڈویژن یا addiction کی وجہ سے​ پڑھ نہیں سکتےاس لیے الف لیلا کی کہانیاں سناتے ہیں جن کا قتل ہوا ان کا نام انسپکٹر اعجاز تھا (ٱللَّٰه مغفرت کرے)دور دور تک میرے کیس سے تعلق نہ تھایہ ہائی کورٹ میں ثابت ہوا-


ایک سال تک سب بشمول آپ کے دوست چوہدری نثار یہجانتے تھے کہ مرحوم میرے کیس سے متعلقہ نہیں تھے اور ڈکیتی میں قتل ہوئے
ایک سال بعد جب میں سب مقدمات جیت گئی تو ان کے قتل کا الزام بھی مجھ پر ڈال دیا گیا اوپر سے دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئی​


میں نے یہ مقدمہ سیشن کورٹ، انسداد دہشت گردی کورٹ، ہائی کورٹ و سپریم کورٹ میں لڑا و جیتاہر جگہ یہ ثابت ہوا کہ میں اس مقدمہ میں ملزمہ بھی نہیں بالآخر مجھے سپریم کورٹ نے اس مقدمے سے آزاد کیاجانتے ہیں اس بنچ میں کون تھا جسٹس ثاقب نثار اور شیخ عظمت سعید جن کی آپ تک نے تعریف کی-


سپریم کورٹ تک سے میرے بری ہونے کے بعد اگر آپ کے شکی دماغ میں غلل تھا تو اپنے چار سالہ منحوس دور میں دوبارہ تفتیش یا اپیل کرتے بطور وزیر اعظم تو چار سال آصف علی زرداری، نواز شریف، مریم، بلاول یا مجھے قانونً کچھ کہ نہیں سکےاب پھر ٹی آر پی کے لیے ہم سے بھیک مانگنے لگے-


جو کچھ میں نے ان جھوٹے مقدمات میں سہا اسے ہائی کورٹ نے بے مثال شکار اورقومی سانحہ کہاآپ میں شرم ہوتی تو ان جھوٹوں کو پھر سے پھیلاتے مگر آپ میں شرم ہوتی تو آپ آپ تو نہ ہوتے ہمیں کیسے پتہ چلتا Sports Quota پر آکسفورڈ جانے والوں Caliber کا کیا ہوتا ہے-

ایان علی نے کہا کہ انہیں جھوٹوں نے پہلے بھی آپ کا منحوس اقتدار ختم کیا اور یہی جھوٹ آپ کو مزید بھی Expose کریں گےیہاں تک کہ پاکستان کے عوام آپ اور آپ کے غلیظ اطوار سے آزاد ہوں تب تک میں آپ کے خود پر بولے جھوٹ بے نقاب کرتی رہوں گی اور یہ بھی پوچھوں گی کہ آپ پر درج اقدام قتل کے کیس کا کیا بنا-


جھوٹ 7 سال بولا جائے یا 700 سال ایک دن اپنی موت مرتا ہے آپ نے ایک 20 سالہ لڑکی پر بہتان باندھ کر اپنی رقیق سیاست کی میں نے آپ کو توجہ یا جواب کے قابل نہ سمجھا مگر آپ اپنی حرکتیں بدلنے کو تیار نہیں تو آپ کو جواب دوں گی تاکہ کسی اور عورت پر بہتان باندھنے سے پہلے 100 مرتبہ سوچیں-