بچوں کی بہترین نشوونما ہر والدین کا بنیادی فرض ہے ماں بچے کی نشوونما کو کیسے بہتر بنا سکتی ہے

0
80

بچوں کو اخلاقی جذباتی اور نفسیاتی طور پر صحت مند رکھنے کے لئے والدین کی بھر پور توجہ اور پیار کی ضرورت ہو تی ہے اگر صرف بچوں کی غذائی اور جسمانی ضرورت پوری ہو رہی ہو محبت اور توجہ نہ ملے تو انکی نشوونما میں کھمی رہ جاتی ہے جن بچوں کو ماؤں کی اہمیت حاصل رہتی ہے وہ ین بچوں کے برعکس زیادہ صحت مند اور با اعتماد ہوتے ہیں جنھیں پیار اور توجہ حاصل نہیں ہوتی

اللہ تعالیٰ نے ہر بچے کو اس کی شکل و صورت عادات و اطوار مزاج صلاحیتوں ذہانت پسند نا پسند کے لحاظ سے منفرد بنایا ہے ہر بچے کی اپنی انفرادی حیثیت ہوتی ہے لہذا والدین کو چاہیئے ہر بچے کی انفرادی شخصیت تسلیم کریں اسکے مزاج اور نفسیات کے مطابق اسکی پرورش کریں بیٹا ہو یا بیٹی دونوں کی تربیت میں فرق نہیں رکھنا چاہیے دونوں کو تربیت کی یکساں ضرورت ہوتی ہے

بے جا لاڈ اور آسائیشں بچے میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں والدین کا رعب اور مناسب سختی تربیت کا اہم حصہ ہیں بے جا پابندیاں بچے کی تربیت میں بغاوت پیدا کرتی ہیں انھیں آزادی کا احساس دیں ان جی راہنمائی کریں اور کچھ فیصلاوں کا اختیار انھیں سونپ دیں اسطرح بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور بچے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے

بچوں کے زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں ان کی روزمرہ کی سرگرمیوں اور مشاغل میں دلچسپی لیں توجہ سےان کی ہربات سنیں ان کی ہر مسئلے پرسنجیدگی کا اظہار کریں اسطرح بچے کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور وہ اپنا ہر مسئلہ آپ سے شئیر کریں گے

کسی کی خاص طور پر رشتہ داروں کی برائیاں بچوں کے سامنے نہ کریں آپ کے اس عمل سے بچے کا ذہن زہر آلود ہوتا ہے اور بچے کے ذہن میں ناپسندیدگی کا اثر تمام عمر رہے گا بچے پر بے جا سختی اس میں احساس کمتری اور عدم تحفظ پیدا کرتا ہے اور بچہ اپنی ہی ذات کے خول میں سمٹ کر رہ جاتا ہے معمولی معمولی باتوں پر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے

والدین کا سخت رویہ بچوں کے مزاج میں جارحانہ پن ڈھٹائی ضد اور غصہ پیدا کرتا ہے تمام بچوں کو یکساں محبت اور توجہ دیں کسی بچے کی کسی خوبی کی بنا پر دوسری بچوں پر ترجیح نہ دیں ورنہ دوسرا بچہ احساس کمتری کا شکار ہو جائے گا اسطرح بہن بھائیوں کے آپس کے بھی تعلقات متاثر ہوتے ہیں حسد اور نفرت جیسے منفی جذبات جنم لیتے ہیں

Leave a reply