بلوچستان میں سیلاب اوربارشوں سے مزید 9 افراد جاں بحق،مجموعی اموات کی تعداد 225 ہوگئی

0
47

سندھ میں بارشوں کے باعث چھتیں گرنے کے واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی جبکہ بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے مختلف حادثات میں مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے جس سے صوبے میں مجموعی اموات کی تعداد 225 ہوگئیں۔

باغی ٹی وی : سکھر کے نواحی علاقے کندھرا میں گھر کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 4بچے جاں بحق ہو گئے لاڑکانہ میں بھی چھت گرنے کے باعث ملبے تلے دبے تینوں بچوں کی لاشیں نکال لی گئیں شہدادکوٹ میں چھت گرنے سے خاتون جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے اوباڑو میں گھر کی چھت گرنے سے ماں بیٹا جاں بحق ہوگئے-

تعلیمی ادارے ایک ہفتے کےلیے بندکردیئے گئے

بارش کے باعث ضلع مٹیاری کے گاؤں قادربخش میں پانی داخل ہوگیا، بیس سےزائد کچےمکانات تباہ ہوگئےعلاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد کو نہیں پہنچا گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کچے کے 15 دیہات زیر آب آگئے نگوانی، ضلع قمبر اور شہدادکوٹ میں شدید بارش سے زندگی مفلوج ہوگئی۔

جوہی میں سیلابی ریلا ایم این وی ڈرین میں داخل ہونے کے باعث سوفٹ چوڑا شگاف پڑگیاپچاس سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے، فصلیں تباہ ہوگئیں سندھ میں بارشوں سے متاثرہ حیدرآباد سمیت سندھ کے 23اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔ سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ، میرپور خاص ڈویژنز کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہےجبکہ کراچی ڈویژن کے ضلع ملیر کے کچھ علاقوں کو بھی آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

دریائے سندھ میں طغیانی ،ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب ،8 لاکھ کیوسک سیلاب کے ریلے کا…

دوسری جانب بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے مختلف حادثات میں مجموعی اموات کی تعداد 225 ہوگئیں بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، دکی اور ہرنائی میں مسلسل طوفانی بارشیں ہوئیں جس کے نتیجے میں قلعہ عبداللہ میں دولنگی ڈیم ٹوٹ گیا جب کہ دو اہم پل اور کئی رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

بارشوں سے متعدد مکانات گر گئے ،پشین کا علاقہ بوستان زیرآب آگیا جب کہ مچھ میں بی بی نانی پل کے نیچے سے اونچے درجے کاسیلابی ریلا گزر رہا ہے ڈیرہ مرادجمالی میں 220 کےوی گرڈ اسٹیشن میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

مسلسل بارشوں اور سیلابی ریلوں کے سبب پنجاب بلوچستان شاہراہ پانچویں روز بھی بند بھی بند ہے کوئٹہ جیکب آباد شاہراہ، ژوب سے ڈی جی خان، بارکھان تاڈی آئی خان اور لسبیلہ سے کراچی شاہراہیں آمدورفت کیلئے بند کردی گئی ہیں جبکہ باب دوستی کےقریب کارگو روٹ بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک افغان تجارت بھی بحال نہ ہو سکی۔

عرب ممالک کی این جی اوز سندھ اور بلوچستان میں سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے جامع پلاننگ کی ہے،وزیراعلی پنجاب

دوسری جانب وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہی نے راجن پور، تونسہ ڈیرہ غازی خان میں رود کوہیوں کے ساتھ دریائی سیلاب سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت کی، وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی نے پی ڈی ایم اے، ریسکیو1122 اور انتظامیہ کو نئی ہدایات دیں، اور کہا کہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز میں کام کریں۔ ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو تیز کیا جائے۔ پنجاب کے دیگر شہروں سے ضروری آلات و مشینری فی الفور متاثرہ علاقوں میں منتقل کی جائے۔نشیبی علاقوں سے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی اور دیگر اقدامات کئے جائیں.نشیبی علاقوں میں عوام کے تحفظ کےلئے بروقت اقدامات کئے جائیں،سیلاب زدگان کو خیمے ،خشک راشن کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔میڈیکل اور وٹرنری فکسڈ کیمپ کے ساتھ موبائل ٹیمیں تشکیل دی جائیں،سیلاب زدگان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ،حکومت پنجاب سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑی ہے ،متاثرین کی بحالی اولین ترجیح ہے۔

علاوہ ازیں وزیراعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی کی بنی گالا آمد ہوئی، اس موقع پر وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے جامع پلاننگ کی ہے پنجاب حکومت کے تمام متعلقہ محکمے اور انتظامیہ متاثرین کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہی ہے متاثرہ علاقوں میں امدادی کیمپس کے ساتھ میڈیکل کیمپس بھی لگائے گئے ہیں۔ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کی خود نگرانی کر رہا ہوں

Leave a reply