fbpx

بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے-

باغی ٹی وی: انہوں نے یہ مطالبہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بنا کر ذمہ داران کو سامنے لا یا جائےشہباز شریف نے کہا کہ مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کا کوئی پوچھنے والا نہیں تھا لوگ مرتے رہے مگر 20 گھنٹوں تک کسی نے نہیں پوچھا جب کہ ایک نیروسانحے کے وقت اسلام آباد میں سویا ہوا تھا اور دوسرا نیرو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی آڑ میں دھاندلی کرنے میں مصروف تھا۔

فارن فنڈنگ کیس : تمام رسیدیں فراہم کرچکےہمیں اسکروٹنی کمیٹی نے کلیئرکردیا، وزیر اعظم

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا کہ مری میں کوئی انتظام نہیں تھا، ٹریفک پولیس بھی موجود نہیں تھی برف ہٹانےکا کام سی اینڈڈبلیو والوں کا ہے لیکن وہ بھی موجود نہیں تھےانہوں نے ں استفسار کیا کہ مری میں سیاحوں کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے؟ محکمہ موسمیات کے الرٹ کے باوجود انتظامات کیوں نہیں کیے گئے تھے؟ اگر رش بے پناہ تھا تو سیاحوں کو جانے سے روکنے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے؟

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہم یہاں خودنمائی کے لیے نہیں بلکہ اس سانحہ پر بات کرنے آئے ہیں مری میں پہلی بار تو برف نہیں پڑی ہے ایک وزیر محترم نے کہا، شاندار سیاحت چل رہی ہے، لاکھوں گاڑیاں مری جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ ذمہ دار تھی تو آپ استعفیٰ دے کر گھر جائیں، یہ لوگ غفلت کی نیند سو رہے تھے۔

کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے…

شہباز شریف نے کہا کہ آپ نے ملک کی معیشت کو برباد کیا، لوگوں کو خط غربت سے نیچے دھکیل دیا، لوگوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا اور لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے ہیں ہمارے زمانے میں ایسے مواقع پرایڈوانس میٹنگز ہوتی تھیں، موجودہ حکومت نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 23 لوگوں کا قتل حکومت وقت کے سر پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ مری نا اہلی کا فعل تھا جس کی معافی نہیں ہے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان استعفیٰ دے کرگھرجائیں ورنہ قوم آپ کوگھسیٹ کرباہر کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صرف گالم گلوچ اوراپوزیشن پر تنقید آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا ہے جب کہ حکومت نے سرکاری افسران کی کمیٹی بنا دی ہے۔

وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے

دوسری جانب بلاول بھٹو نے کہا کہ جو شخص بھی مشکل میں ہو اس کی مدد کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ہم مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کی وہ مدد نہیں کرسکے جو کرنی چاہیے تھی جب لاکھوں لوگ مری پہنچے تووزیرصاحب نے ویلکم کیا کہ معیشت بہترہو گئی ہے مگر دوسرے ہی دن اسی وزیر صاحب نے کہا کہ اتنے لوگوں کو مری نہیں جانا چاہیے تھا۔

بلاول بھٹو اور شہباز شریف میں جلد ملاقات کا امکان

چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے کہا کہ جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے توموجودہ حکومت متاثرہ لوگوں کو موردالزام ٹھہرا دیتی ہے مری واقعہ کا جو بھی ذمہ دار ہے اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے نئے پاکستان میں صرف عوام کا خون سستا ہوا ہے باقی ہرچیزمہنگی ہوئی ہےسانحہ مری کے وقت وزیراعلیٰ پنجاب پی ٹی آئی کی میٹنگ میں مصروف تھے اور جب معاملہ مینج ہو گیا تو مری کا فضائی دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مری نہیں جا سکتے تھے تو متاثرہ خاندانوں کے پاس ہی چلے جاتے۔

الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت بحال کر دی